%da%a9%d8%b1%d8%a7%da%86%db%8c-%d9%85%db%8c%da%ba-2-%d8%a8%d8%b1%d8%b3%d9%88%da%ba-%da%a9%db%92-%d8%af%d9%88%d8%b1%d8%a7%d9%86-%d8%aa%d9%85%d8%a7%d9%85-%d9%b9%d8%a7%d8%b1%da%af%d9%b9-%da%a9%d9%84 پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ شہر قائد میں ہونے والی تمام ٹارگٹ کلنگ میں صرف 15 پستول ہی استعمال ہوئے ہیں جن کے ذریعے ٹریفک پولیس اہلکار، سیاسی کارکنوں، فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ اور ذاتی دشمنی کی بنا پر قتل کی وارداتیں کی گئیں۔
کراچی پولیس نے نیا انکشاف کیا ہے کہ شہر قائد میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ صرف 15 پستولوں کے ذریعے کی گئی۔
پولیس حکام کے مطابق گزشتہ 2 سالوں میں شہر قائد میں ہونے والی تمام ٹارگٹ کلنگ کے بعد جائے وقوعہ سے برآمد ہونے والی گولیوں کے خول کی فرانزک رپورٹ سے ثابت ہوا ہے کہ کراچی میں ہونے والی فرقہ وارانہ اور سیاسی ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ ذاتی دشمنی کی بنیاد پر ہونے والے تمام قتل صرف 15 پستولوں کے ذریعے ہی کئے گئے، اس اسلحے میں 4 ایک ہی طرح کے 30 بور اور 11 نائن ایم ایم شامل ہیں۔
پولیس حکام نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ شہر میں ہونے والے آپریشن اور پولیس اور رینجرز کی جانب سے کی گئی تمام کارروائیوں میں اب تک یہ 15 پستول برآمد نہیں کئے جاسکے۔ ان 15 پستولوں سے اب تک قتل کی 43 وارداتیں ہوچکی ہیں اور چند وارداتوں میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور پھرملزمان کی پے رول پر رہائی کے باوجود بھی یہ اسلحہ ایک معمہ بنا ہوا ہے۔