جرمنی کے شہر برلن کے کرسمس بازار میں ٹرک تلے لوگوں کو کچلنے کے شبہ میں گرفتار کرکے رہا کیے جانے والے پاکستانی شخص نوید بلوچ کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ سے ہے۔

نوید بلوچ کے ایک کزن عبدالوحید بلوچ نے برلن سے بذریعہ ٹیلیفون بات کرتے ہوئے بتایا کہ نوید بلوچ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں جاری بدامنی اور شورش کی وجہ سے پناہ کے لیے جرمنی آیا تھا۔

وحید کا کہنا تھا، ‘جس جگہ یہ واقعہ پیش آیا، نوید اور اس کا ایک دوست اس علاقے میں سڑک پار کر رہے تھے کہ اچانک پولیس نے انھیں روکا اور کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ان پر جرمانہ کیا جائے گا، بعدازاں انھوں نے نوید کو حراست میں لے لیا’۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ‘اسی دوران ٹی وی چینلز نے یہ کہنا شروع کردیا کہ نوید کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور وہ اس واقعے میں ملوث ہے’۔

وحید کا کہنا تھا کہ ‘جرمنی جانے سے قبل نوید، بلوچ نیشنل موومنٹ سے منسلک رہا تھا’، انھوں نے مزید بتایا کہ ان کے والد پاک-ایران سرحد کے قریب ایک گاؤں میں رہائش پذیر ہیں جبکہ ان کے بھائی دبئی میں مقیم ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز برلن کے کرسمس بازار میں ایک شخص نے ٹرک کے نیچے 12 افراد کو کچل کر ہلاک جبکہ متعدد کو زخمی کردیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمن پولیس نے اسے دہشت گردی کا واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹرک ڈرائیور واقعے کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا، بعدازاں پولیس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ مبینہ طور پر واقعے کے ذمہ دار ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔

جرمن اخبار ’بلڈ‘ کا کہنا تھا کہ ‘جرمنی کے دارالحکومت برلن میں واقع کرسمس بازار میں شہریوں کو کچلنے والا مشتبہ ٹرک ڈرائیور 23 سالہ نوجوان ہے جس کا نام نوید ہے اور اس کا تعلق پاکستان سے ہے’۔

واقعے کی تحقیقات کرنے والے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے جرمن اخبار بلڈ نے لکھا تھا کہ پاکستانی نوجوان ایک سال قبل جرمنی آیا تھا۔

دوسری جانب ایک اور جرمن اخبار نے لکھا تھا کہ ‘گرفتار ہونے والے مشتبہ شخص کی شناخت اب تک نہیں کی جاسکی مگر اس کا تعلق افغانستان یا پاکستان سے ہے’۔

تاہم بعدازاں جرمن پراسیکیوٹر کے آفس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کرسمس بازار حملے میں ملوث ہونے کے شبہ گرفتار کیے گئے پاکستانی تارک وطن کو ناکافی شواہد کی بنا پر رہا کردیا گیا۔

پولیس کی جانب سے فرانزک ورک اور پوچھ گچھ سمیت عوام سے سوالات کا سلسلہ جاری ہے اور لوگوں سے واقعے کی تصاویر اور ویڈیو فوٹیج بھیجنے کی درخواست کی گئی ہے۔