اقتدار کے اونچے ایوانوں کے دامن میں قائم قائد اعظم یونیورسٹی منشیات فروشوں اور استعمال کرنے والوں کیلئے جنت بن گئی، کوئی دیوار، نہ چیک پوائنٹ، چاروں طرف چور راستے، منشیات فروش بلا روک ٹوک آتے جاتے ہیں۔ طلباء و طالبات نشے کی دلدل میں غرق ہو رہے ہیں۔

 شہر اقتدار کی قائد اعظم یونیورسٹی میں منشیات کا سرعام استعمال جاری ہے۔ سب سے بڑی سرکاری یونیورسٹی پچاس سال سے چار دیواری کے بغیر تعلیم و تعلم میں مصروف ہے۔ بلاروک ٹوک آنے جانے کیلئے چاروں طرف چور راستے بھی موجود ہیں۔ پانچ میں سے صرف ایک راستے پر پولیس کا ناکہ ہے اور وہ بھی برائے نام۔

یونیورسٹی کو ایک راستہ تھرڈ ایونیو سے جاتا ہے۔ شاہدرہ روڈ، بری امام اور مارگلہ کی پہاڑیوں سے بھی لوگ بغیر چیکنگ یونیورسٹی آتے جاتے ہیں۔ اس اندھیر نگری چوپٹ راج اور منشیات فروشی سے محنتی اور ہونہار طلباء شدید پریشان ہیں۔

یونیورسٹی کے منشیات نگری بننے پر سکیورٹی گارڈز کا کہنا ہے کہ وہ بے بس ہیں، طلباء اور انتظامیہ ان کی نہیں سنتی۔ یونیورسٹی کو جانے والی صرف ایک سڑک پر پولیس کا ناکہ ہے مگر وہ بھی کسی کام کا نہیں۔ اہلکار کسی گاڑی کو چیک نہیں کرتے۔ یونیورسٹی میں منشیات کا سوال کیا تو آئیں بائیں شائیں کرنے لگے۔

یونیورسٹی ہوسٹلز میں آمد و رفت چوبیس گھنٹے جاری رہتی ہے۔ ہٹس پر طلباء و طالبات اور باہر سے آنے والے خاص مہمان شام گئے تک بیٹھے رہتے ہیں مگر انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔

ملک کی اعلیٰ ترین درسگاہ میں طلباء کی رگوں میں سرعام منشیات کا زہر اتارا جا رہا ہے۔ ارباب اختیار نے چشم پوشی کی روش برقرار رکھی تو یہ برائی وباء بن کر پھیلتی چلی جائےگی۔