حلب جل رہا تھا اور ہم سو رہے تھے

شام میں مداخلت کے بعد روسی طیاروں نے ہزاروں فصائی حملے شامی مسلمانوں پہ کئے، جس میں 35000 انسانوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ ترکی کے لئے روس کے سفیر اینڈرلے کارلو کو انقرہ میں پولیس افسر نے گولی مار دی، روسی سفیر ہلاک کرتے ہوئے حملہ آور کا کہنا تھا کہ یہ حلب کا بدلہ ہے۔ کسی نے عالمی جنگ کے آغاز کا عندیہ قرار دیا تو کسی نے کچھ چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ایران ، روس اور ترکی نے بیٹھ کر جنگ بندی کے فارمولے طے کئے۔ محاصروں میں لیے گئے علاقوں سے مسلمانوں کا انخلا شروع ہوگیا۔ سقوط حلب ہوگیا اور بچ جانے والوں کو انتہائی تکلیف دہ حالت میں ریڈ کراس نے محصور علاقے سے ہجرت کرنے پر مجبور کردیا۔ ترقی یافتہ ممالک کے سائے تلے انسانیت کی بربریت کے ساتھ تذلیل جاری رہی، حلب سے زخمیوں اور شہیدوں کی تصاویر میں بچوں کی زخمی حالت میں، تو کبھی کسی ملبے میں پڑی لاش نے مسلم امہ کو خواب غفلت سے اٹھانے کی کوشش کی، لیکن ان کی ہر کوشش رائیگاں اس ننھی جان کی طرح جاتی رہی جن کا کوئی قصور نہیں تھا۔ سوشل میڈیا میں آنے والی شام سے روسی طیاروں کے حملوں میں تباہ شدہ عمارتوں کی تصاویر کوالفاظوں میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا لگتا ہے کہ ذہن خالی ہوگیا ہو اور اُن عمارتوں کے ساتھ لفظوں کے ذخیرے بھی خاکستر ہوگئے ہوں۔ سقوط حلب سے قبل ایک تصویر منظر عام پر آئی کہ ایک با پردہ خاتون بمباری سے تباہ شدہ عمارت سے دھول میں اٹی ہوئی باہر نکل رہی ہوتی ہے۔ حیا کی اس تصویر کو کوئی سر نامہ نہیں دیا جاسکا، ایک طرف تباہی کا شکار عمارت ، امداد کےلئے رضا کار اور دوسری جانب حجاب میں لیپٹی اسلام کی بیٹی، جو ہاتھ اٹھا کر کہہ رہی ہے کہ وہ ٹھیک ہے۔ اسپتال پر بشار نواز طیاروں کی بمباری کے بعد شہیدوں اور زخمیوں کی تصویریں، جن پر جتنا ماتم کیا جائے وہ کم ہے۔ ایک معصوم بچی کی تصویر جو ایک عمارت کی بمباری میں بچ جاتی ہے، لیکن اس کے زخمی معصوم ہاتھوں میں سینے سے لگی گڑیا۔ ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے معصوم بچی نے اپنی گڑیوں سے تباہی کے دیوتاﺅں کو شکست دے دی ہو۔
حلب میں اسپتالوں کو خاص طور نشانہ بنایا جاتا تھا تاکہ زخمی ہونے والوں کو امداد نہ مل سکے اور سسک سسک کر زخمی بھی تڑپ کرجان دے دے۔ ان گنت تصاویروں میں ایک ایسی تصویر دیکھی کہ عارضی طور پر قائم اسپتال میں ایک معصوم بچے کو شدید زخمی حالت میں طبی امداد دی جا رہی ہے تو فوٹو گرافر کی منظر کشی کی مہم سے بچنے کے با حجاب مسلم خاتون نے خود کو مکمل پردے میں ڈھانپ ہوا ہے۔ وہ خود بھی زخمی ہے تو اس کے ساتھ اس کا بچہ بھی زخمی ہے ، لیکن تصویر نے اس وقت لاجواب کردیا کہ زخمی ماں اپنے زخمی بچے کی تیماداری کرتے ہوئے بھی حجاب میں رہ کر اسلامی اقدار کو نہیں بھولی ۔ ایسی بھی لاتعداد تصاویر ہیں جس میں ہوش و حواس میں گم اسلام کی بیٹیاں، مائیں بدبختوں کے ہاتھوں بے حجاب ہوئیں۔ شامی زخمی بچوں کی ایک ویڈیو نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، لیکن اس ویڈیو سے اگر کسی کو کوئی اثر نہیں ہوا تو وہ بشار نواز قوتیں تھیں ۔
پانچ سالہ اومران داگنیش کی تصاویر علاقہ قطرجی میں بنائی گئیں جہاں ایک فضائی حملے میں تین افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے تھے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ڈاکٹر گرد اور خون میں لپٹے ہوئے بچے کو تباہ شدہ عمارت سے اٹھا کر ایمبولینس کی پچھلی سیٹ پر بٹھاتا ہے۔ ڈاکٹر پھر بچے کو ایمبولینس میں چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور خوفزدہ بچہ خاموشی سے سیٹ پر بیٹھا رہتا ہے۔ بچہ اپنا ہاتھ اپنے چہرے پر لے کر جاتا ہے اور اپنے ہاتھ پر خون کو دیکھتا ہے پھر اپنے ہاتھوں کو سیٹ پر ہی صاف کرتا ہے۔ اس دل دہلانے والی ویڈیو نے اقوام متحدہ کے ضمیر پر بھرپور ضرب لگائی ، لیکن یہی بچہ اگر امریکن، برطانوی ہوتا تو اس ملک کے حکمران کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جاتی۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کو کوئی ویٹو بھی نہیں کرتا۔ تمام عالمی قوتیں یکجا ہوکر مسلم ملک کو کھنڈرات میں تبدیل کردیتی ہیں، کھنڈرات تو اب بھی کردیئے ہیں بس مقاصداور منصوبے میں فرق ہے۔
شام میں پانچ برس سے جاری لڑائی میں اب تک ڈھائی لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔ شہر کے عارضی اسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے تھے اور معاملات ہاتھ سے نکلنا شروع ہوچکے تھے لیکن ہم تصاویر دیکھ دیکھ کر دل جلاتے رہے، جھوٹے ٹسوئے بہاتے رہے ، سوشل میڈیا میں تصاویر کو لائک کرکے سمجھ بیٹھے کہ ہم نے اپنا فرض پورا کردیا، مظلوموں کی امداد کوئی نہ کرسکا ۔ قافلہ حسینی کی طرح وقت کے یزیدوں نے حلب کا مکمل محاصرہ کر رکھا تھا۔ زخمیوں کے لئے اسپتالوں میں کسی بھی چیز کو لانے کی اجازت نہیں تھی۔ حتیٰ کہ آلات اور طبی عملہ بھی نہیں آسکتا ۔باہر کے علاقوں سے تعلق رکھنے والا طبی عملہ محاصرے کی وجہ سے شہر میں داخل نہیں ہوسکتا تھا۔

حلب سنہ 2012ء سے دو حصوں میں منقسم ہے۔ شہر کے مشرقی حصے پر مزاحمت کاروں کا قبضہ چلا آرہا تھا اور مغربی حصے پر سرکاری فورسز کا کنٹرول تھا۔ ستمبر کے اوائل سے خون آشام رجیم بشاری شامی افواج نے مشرقی حصے کا مکمل محاصرہ کررکھا تھا، حلب کے محاصرے کے بعد غذائی اجناس کم یاب ہوگئی تھی اور اشیائے ضروریہ بآسانی دستیاب بھی نہیں ہو رہی تھی۔ شہر میں فضائی حملوں کے خطرے کے پیش نظر خوراک کی اشیاءتقسیم کرنے والے متعدد خیراتی باورچی خانوں نے اپنا کام بند کردیاتھا۔ حلب مسلمانوں سے خالی کرایا جا چکا ہے۔
انسانی بربریت کے چنگیزیت کے پیروکاروں نے بایان نامی بچوں کے ہسپتال پر اس طرح حملہ کیا کہ روح تڑپ گئی۔ اس بچے کو دیکھ کر جو انتہائی خوفزدہ تھا ، ڈاکٹر سے لپٹ کر خود کو اس سے جدا نہیں کررہا تھا۔ حلب میں فضائی بمباری میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے بچوں اور خواتین کو نکالنے کی متعدد ویڈیوز سامنے آچکی ہیں۔ آن لائن پوسٹ کی گئی فوٹیج میں حملوں کی جگہ سے دھویں کے بادل آسمان کی جانب بلند ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں اور امدادی کارکنان زخمیوں کو ایک گرد آلود سڑک کے ذرِیعے اسپتال منتقلی کو بس اہم بھی دیکھتے رہے۔ اس کے دونوں اطراف تباہ شدہ عمارتوں کو دیکھتے رہے۔ حاس نامی گاﺅں میں بچوں کے اسکول پر بمباری کی گئی۔ حملے کی جگہ پر موجود ایک کارکن معاذ الشامی کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقے پر کم سے کم دس فضائی حملے کیے گئے ہیں۔ ایک ننھی بچے نے حملے کے بعد چلاتے ہوئے کہا کہ میں اب اسکول میں مزید نہیں جانا چاہتی ہوں۔ سانس تو جب رک گئی جب ایک تصویر دیکھی کہ لوا ءزینبون نامی دہشت گرد تنظیم کے ایک جنگجونے حلب کے تباہ حال علاقے میں اپنی گاڑی میں پرچم اور بینر لگا کر فتح کا نشان بنا کر واضح پیغام دیا کہ یہ علاقے کی نہیں بلکہ عقیدے کی جنگ ہے۔ آج مسلمان مر رہے ہیں، سکوت پر سکوت ہو رہے ہیں ۔جنکے پاس مادی وسائل کی بھرمار ہے انکی اصلاح کے لیے تو کوئی اٹھتا نہیں، میں بس یہی کہوں گا کہ تف ہے بھونڈے مشورے دینے والوں پر، یہی اللہ کا قائدہ ہے۔ کیا تم یونہی جنت میں بھیج دیے جاؤ گے اور اللہ تمھیں آزمائے گا نہیں؟۔ مثل بنی اسرائیل موسیٰ کے آنے کے بعد انکے بچوں کا قتل عام ہوا اور پھر فرعون سے آزادی ملی۔ یاد رکھو ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔
اولادِ نورالدین زنگی رحمہ اللہ بے سرو سامانی کے عالم میں اپنی ملکیت اپنا گھر بار سب کچھ چھوڑ کر زندگی کی کچھ سانسیں لینے کیلئے جا چکے ہیں۔ پیچھے کافی یادیں چھوڑ چکے ہیں۔ ملبے تلی لاشیں بے گور و کفن لاشیں بکھری پڑی امت مسلمہ کے جسد خاکی عفت ماب بہنوں کی اذیت ناک کربناک المناک خوفناک آوازیں جب کفر و اسلام کے بغض میں اپنی دشمنی کی مہر ان کے جسموں پہ نقش کرچکا ہے۔
کیا کیا بتاؤں کیسے بتاؤں؟ ۔۔کیا جواب ہوگا ہمارا؟ بروز محشر انکا جواب کیسے دینگے ہم؟ ۔
ایک بھائی شدت غم سے پوچھ رہا تھا ۔کوئی حلب کا کفارہ بتادے ۔
میرے پاس ایک ہی جواب تھا بس ۔ہجرت ہجرت ہجرت ،
ہاں ،ایک وقت آئیگا جب ہر مسلم مومن شام سے چلا جائے گا
کیونکہ۔۔۔۔۔۔ حلب جل رہا تھا___سو رہے تھے ہم۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s