33-%db%81%d8%b2%d8%a7%d8%b1-%d9%81%d9%b9-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d9%84%d9%86%d8%af%db%8c-%d8%b3%db%92-%da%af%d8%b1-%da%a9%d8%b1-%d8%b2%d9%86%d8%af%db%81-%d8%a8%da%86-%d8%ac%d8%a7%d9%86%db%92-%d9%88%d8%a7یوگوسلاوین ایئر لائن کی ایئرہوسٹس ویسنا ولووک جو 33000 فٹ کی بلندی سے گرنے کے بعد بھی معجزانہ طور پر زندہ بچ کر مشہور ہوگئی تھیں، 66 سال کی عمر میں دنیا سے چل بسیں
1972 میں یوگوسلاو ایئرویز ’’جے اے ٹی‘‘ کا مسافرطیارہ دورانِ پرواز 33000 فٹ کی بلندی پر دھماکے سے پھٹ گیا اورجہاز میں سوارعملے سمیت تمام مسافر ہلاک ہوگئے لیکن 22 سالہ ایئرہوسٹس ویسنا اس حادثے میں زندہ بچ گئی تھیں۔ ایئرہوسٹس طیارے کی دم والے حصے میں پھنس گئی تھیں جو خوش قسمتی سے ایک ڈھلوان والی سطح پر گرا اور لڑھکتا ہوا نیچے آگیا۔ یوگوسلاوین ایئرلائن کے طیارے میں کروشیا کے ایک علیحدگی پسند گروپ نے بم رکھا تھا۔
اس واقعے نے ویسنا ولووک کو ساری دنیا میں مشہور کردیا اور ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کرلیا گیا، البتہ ویسنا کو کئی مہینے اسپتال میں گزارنے پڑے اور وہ صحت یاب ہوکر اپنی معمول کی زندگی میں واپس آگئی تھیں۔
ہفتہ 24 دسمبر 2016 کے روز یعنی اس واقعے کے 44 سال بعد 66 سالہ ویسنا اپنے اپارٹمنٹ میں مردہ پائی گئیں لیکن اب تک ان کے مرنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔