خالد شہنشاہ ، ذوالفقار علی ، بیت اللہ محسود ، عباد الرحمان ، نادر ، عبداللہ ، نصر اللہ مختلف واقعات میں زندگی کی بازی ہار چکے ہیں

 سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو قتل کیس میں کئی پراسرار کردار سامنے آئے اور راستے سے ہٹا دئیے گئے ، مرکزی ملزم ڈرون حملے میں تو مخصوص اشاروں سے سب کو چونکا دینے والے خالد شہنشاہ کراچی میں قتل کر دئیے گئے ۔ بینظیر بھٹو کا قتل ، ہر طرف پراسراریت کے سائے ، کئی مشکوک کردار ایک ایک کر کے سب ختم بی بی شہید کے قتل کے بعد سٹیج کی منظر عام پر آنے والی پہلی فوٹیج نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ۔ بینظیر بھٹو کی تقریر کے دوران ایک شخص مسلسل مشکوک اشارے کرتا رہا ۔ وہ کوئی اور نہیں بلاول ہائوس کا سکیورٹی انچارج خالد شہنشاہ تھا ۔ اس سے پہلے کہ راز کھلتا خالد شہنشاہ کو کراچی میں قتل کر دیا گیا ۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے سے جڑا ایک اور کردار پراسیکیوٹر چوہدری ذوالفقار علی تھے ، انہیں بھی دن دیہاڑے اسلام آباد میں اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ مقدمے کی سماعت کے عدالت جا رہے تھے ۔ قتل کا مرکزی ملزم کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود کو قرار دیا گیا اور پھر خبر آئی بیت اللہ محسود ڈرون حملے میں مارا گیا ۔ ملزم عباد الرحمان عرف عثمان اور نادر عرف قاری اسماعیل فورسز کے ساتھ جھڑپ میں جبکہ ملزم عبداللہ عرف صدام اور نصر اللہ عرف احمد ڈرون حملے میں مارا گیا ۔ پیچھے رہ گئے تو بااثر ملزمان پرویز مشرف ضمانت کروا کے بیرون ملک جاچکے تو سابق سی پی او سعود عزیز ایس ایس پی خرم شہزاد دونوں نوکریاں کر رہے ہیں ۔ جیل میں قید پانچ ملزمان کا کیا بنے گا ، اس سوال کا جواب مقدمے کے فیصلے پر ہی مل سکے گا ۔