پاکستان بیڈ منٹن فیڈریشن کے ملازم پر خواتین پلیئرز کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام لگ گیا، کلرک بھرتی ہونے والا ساجد ٹیکنیکل کمیٹی کا سربراہ بنا دیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے وہ مبینہ طور پرکھلاڑیوں کو ملکی اور بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی لالچ دے کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا، پی بی ایف نے فارغ کرکے انکوائری شروع کردی، دوسری جانب ساجد نے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

پاکستان بیڈ منٹن فیڈریشن کے ایک ملازم پر خواتین پلیئرز کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد ہوا ہے، ساجد حسین کلرک بھرتی ہوا تھا بعد ازاں ٹیکنیکل کمیٹی کا سربراہ بنادیا گیا، پی بی ایف کے خرچ پر ملائیشیا میں لیول ٹو کورس میں شرکت کیلیے بھی گیا اور فیل ہوگیا، ذرائع کا کہنا ہے وہ خواتین کھلاڑیوں کو ملکی اور بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کی لالچ دیکر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا، پی بی ایف نے فارغ کرکے انکوائری شروع کردی، دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر فیڈریشن نے وضاحت کی کہ اگر ایسا ہوا تو افسوسناک ہے، ساجد کو فارغ کردیا گیا تاہم کسی کے انفرادی فعل کا ملبہ پوری فیڈریشن پر نہیں ڈالا جاسکتا، خواتین کی اسپورٹس کے فروغ اور اس کیلیے بہترین ماحول فراہم کرنے کے بھرپور حامی ہیں۔

دوسری جانب ساجد کا کہنا ہے کہ لیول ٹو کورس میں پاس ہوا ہوں، سرٹیفکیٹ ہمیشہ بعد میں ہی ملتا ہے، بذریعہ ای میل اطلاع دی جا چکی ہے، خواتین کو ہراساں کرنے کے اسکینڈل میں قطعی طور پر ملوث نہیں ہوں، بچوں اور بچیوں کی بڑی تعداد کی کوچنگ کررہاہوں، میرے رویے سے کبھی کسی کو شکایت نہیں ہوئی، جب سے لیول ٹو کورس کرکے آیا ہوں، حاسدین میرے مخالف بن گئے ہیں، پی بی ایف میرے کیس کی انکوائری کررہی ہے، اصل صورتحال جلد واضح ہوجائے گی۔