دبئی کی 24 سالہ معاذہ المطروشی دنیا کی وہ پہلی خاتون بن گئی ہیں جنہوں نے 13 سال تک منجمد رہنے والی اپنی بیضہ دانیوں (اووریز) کی دوبارہ سے اپنے ہی جسم میں پیوند کاری کروانے کے بعد ایک صحت مند بچے کو جنم دیا ہے، جس کا نام راشد رکھا گیا ہے۔

طبی تاریخ کا یہ اہم کارنامہ گزشتہ دنوں لندن کے پورٹ لینڈ ہاسپٹل میں پرتگالی اور برطانوی سرجنوں کی ایک ٹیم نے انجام دیا۔

معاذہ المطروشی جب 9 سال کی ہوئیں تو بی ٹا تھیلیسیمیا میں مبتلا ہوگئیں جس کا علاج ہڈی کے گودے کی منتقلی ہی سے ممکن ہے، جس پر ان کی والدہ انہیں برطانیہ لے آئیں۔ خوش قسمتی سے معاذہ کے بھائی کی ہڈی کا گودہ اس قابل تھا کہ پیوند کاری کے بعد انہیں بی ٹا تھیلیسیمیا سے چھٹکارا دلاسکتا تھا۔ البتہ قباحت یہ تھی کہ اس علاج کے دوران معاذہ کا متعدد بار کیموتھراپی سے گزرنا بھی ضروری تھا؛ جس کے باعث ان کی بیضہ دانیاں ناکارہ ہوجانے کا شدید خطرہ تھا۔

لیکن معاذہ کی والدہ اپنی بیٹی کو بانجھ دیکھنا نہیں چاہتی تھیں اس لئے انہوں نے کوئی ایسا طریقہ تلاش کرنا شروع کردیا جس سے معاذہ کی بیضہ دانیاں محفوظ رہ سکیں اور وہ بالغ ہونے پر ماں بن سکے۔ قسمت نے یہاں بھی ان کا ساتھ دیا اور انہیں لیڈز، برطانیہ میں ایک ایسا ہسپتال مل گیا جو معقول رقم کے عوض مختلف جسمانی اعضاء محفوظ کرنے کی خدمات فراہم کرتا ہے۔

2002 میں ایک آپریشن کے بعد معاذہ کی بیضہ دانیاں نکال کر انہیں منجمد کردیا گیا؛ اور ہڈیوں کے گودے کی منتقلی کا کامیاب آپریشن کروانے کے بعد وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ واپس دبئی آگئیں۔

معاذہ المطروشی جب 20 سال کی ہوئیں تو ان کی شادی ہوگئی لیکن تمام کوششوں کے باوجود قدرتی طور انہیں ماں بننے میں ناکامی ہورہی تھی جبکہ ایسے طبی مسائل کا سامنا بھی ہورہا تھا جو سن یاس (مینو پاز) کو پہنچ جانے والی خواتین کو درپیش ہوتے ہیں۔ علاج کےلئے معاذہ نے ایک بار پھر اپنے شوہر اور والدہ کے ساتھ برطانیہ کا رُخ کیا اور دو سال تک مسلسل ناکامی کے بعد امید کی ایک کرن دکھائی دی۔

برطانوی ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ ڈنمارک کے سرجنوں کی ایک ٹیم منجمد بیضہ دانی کو واپس پیوند کرکے عورتوں کو ایک بار پھر سے ماں بننے کے قابل بنانے پر تجربات کرنے کی خواہش مند ہے۔

طویل مشوروں اور قانونی کارروائیوں کے بعد آخرکار 2015 میں معاذہ کی منجمد بیضہ دانیوں کے ٹکڑے پگھلائے گئے اور انہیں تھوڑا تھوڑا کرکے واپس ان کے جسم میں پیوند کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ چند ہفتوں اور یکے بعد دیگر کئی آپریشنوں کے بعد بالآخر اگست 2015 میں معاذہ کی دونوں بیضہ دانیاں صحت مند حالت میں ان کے جسم میں اسی جگہ کامیابی سے پیوند کی جاچکی تھیں جہاں سے 13 سال پہلے انہیں علیحدہ کرکے منجمد کیا گیا تھا۔

بیضہ دانیوں کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹروں نے معاذہ کو حاملہ کرنے کےلئے آئی وی ایف (ٹیسٹ ٹیوب بے بی) کا طریقہ استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔ یعنی ایک ٹیسٹ ٹیوب میں معاذہ کے بیضے اور ان کے شوہر کے نطفے کو آپس میں ملاکر بارور بیضہ بنایا گیا (جو حمل ٹھہرنے میں سب سے پہلے مرحلے پر بنتا ہے)۔ اسے معاذہ کے رحم میں واپس منتقل کردیا گیا اور یوں انہیں اپریل 2016 میں کامیابی سے حمل ٹھہر گیا جس کی مدت ایک ماہ تھی۔

دورانِ حمل ہر طرح کی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں اور یوں اس بچے نے چند روز پہلے لندن کے پورٹ لینڈ ہاسپٹل میں جنم لیا۔

دنیا میں طبی سائنس کے حلقے اس کامیابی کو انتہائی اہم اور غیرمعمولی قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس میں نہ صرف بیضہ دانیوں کو 13 سال تک درست حالت میں منجمد رکھا گیا ہے بلکہ اتنا طویل وقت گزر جانے کے بعد انہیں واپس خاتون کے جسم میں کامیابی سے منتقل بھی کیا گیا ہے۔ یہ کامیابی جہاں معاذہ المطروشی اور ان کے شوہر کےلئے خوشیاں لے کر آئی ہے وہیں اس نے بے اولاد جوڑوں کےلئے بھی ایک نئی امید جگائی ہے۔