کراچی میں درجنوں مقامات ایسے ہیں جن کے نام بہت عجیب وغریب ہیں لیکن اتنے زیادہ استعمال کیے جاتے ہیں کہ ان پر کوئی حیرت زدہ نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ آخر ان جگہوں کے یہ نام کس وجہ سے پڑے ہیں۔

نیو کراچی میں چند مقامات کے ایسے ہی کچھ نام اور ان کے پس منظر ملاحظہ فرمائیے:

ناگن چورنگی:

یہ مشہور چورنگی نارتھ کراچی سیکٹر الیون سی، الیون ای اور سیکٹر 15 کے سنگم پر واقع ہے جہاں آج ایک فلائی اوور بھی بن چکا ہے جو اسی مناسبت سے ’’ناگن چورنگی فلائی اوور‘‘ بھی کہلاتا ہے۔

ناگن چورنگی کو یہ نام کیوں دیا گیا؟ علاقے کے پرانے مکین اس سوال کے جواب میں بتاتے ہیں کہ آج سے تقریباً 50 سال پہلے جب یہ علاقہ اجاڑ بیابان ہوتا تھا اور یہاں اکا دکا مکانات بننے کا سلسلہ شروع ہوا تھا تو کچی سڑکوں کے اس چوراہے کے قریب سے کچھ لوگوں نے ایک ناگن پکڑی تھی۔ کچھ بزرگوں نے بتایا کہ اس ناگن نے وہاں سے گزرنے والوں کو ڈسنا شروع کردیا تھا اور نقصان پہنچانے لگی تھی اس لیے اسے پکڑ کر ماردیا گیا۔ اس کے بعد سے یہ چوراہا ’’ناگن چورنگی‘‘ کہلانے لگا اور آج تک اسی نام سے مشہور ہے۔

ڈسکو موڑ:

یو پی موڑ سے شاہ محمد شاہ قبرستان کی طرف جاتے ہوئے صدیقی مارکیٹ کے پاس ایک چھوٹا سا چوراہا ’’ڈسکو موڑ‘‘ آتا ہے جہاں سے نارتھ کراچی سیکٹر الیون بی سے گزر کر خواجہ اجمیر نگری تھانے کی طرف جانے والی سڑک شروع ہوتی ہے جس کا سرکاری نام الآمنہ ایوینیو ہے۔ ’’ڈسکو موڑ‘‘ کی وجہ تسمیہ بھی بڑی دلچسپ ہے۔

آج سے تقریباً 30 یا 35 سال پہلے یہ چوراہا بہت ٹوٹا پھوٹا تھا اور یہاں سے مڑنے والی بسیں بری طرح ہلنے جلنے اور طوفان میں پھنسی ہوئی کشتی کی طرح ڈولنے لگتی تھیں۔ بس کنڈکٹر مذاقاً کہتے تھے کہ یہاں پہنچتے ہی بس ’’ڈسکو‘‘ کرنے لگ جاتی ہے۔ یہی بات بڑھتے بڑھتے اتنی مشہور ہوگئی کہ اس چوراہے کے قریب واقع اسٹاپ کو ’’ڈسکو موڑ‘‘ کا نام دے دیا گیا۔ اگرچہ آج یہ چوراہا اور آس پاس کی سڑکیں خاصی مناسب حالت میں ہیں لیکن یہ جگہ اب بھی ’’ڈسکو موڑ‘‘ ہی کے نام سے شہرت رکھتی ہے۔

انڈا موڑ:

ڈسکو موڑ سے کچھ ہی فاصلے پر ایک چوراہے کا دلچسپ نام ’’انڈا موڑ‘‘ بھی ہے جو ناگن چورنگی سے نصرت بھٹو کالونی کی سمت جانے والی سڑک اور شارع نورجہاں کے سنگم پر واقع ہے۔

یہاں کے پرانے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ 1980 کے زمانے میں اس جگہ بڑے بڑے مرغی خانے ہوا کرتے تھے جہاں سے شہر کے کئی علاقوں میں انڈے سپلائی کیے جاتے تھے۔ نارتھ کراچی میں انڈوں کی سپلائی کا بڑا مرکز ہونے کی وجہ سے اس چوراہے کا نام ’’انڈا موڑ‘‘ پڑ گیا۔ شہر کے حالات خراب ہونے پر یہاں سے تقریباً تمام ہی مرغی خانے ختم ہوگئے اور آج صرف یہ نام کا ’’انڈا موڑ‘‘ رہ گیا ہے۔

کریلا اسٹاپ:

ناگن چورنگی سے یو پی موڑ اور پاور ہاؤس چورنگی کے بعد ’’کریلا اسٹاپ‘‘ آتا ہے۔ یہ صرف اسٹاپ کا نام نہیں بلکہ ستم ظریفی کی یادگار بھی ہے۔ یہاں کے پرانے رہائشی بتاتے ہیں کہ اس بس اسٹاپ کے قریب ہی کسی زمانے میں ایک شخص کی دکان ہوا کرتی تھی جسے آس پاس کے شرارتی لڑکے ’’کریلا‘‘ کہہ کر چڑاتے تھے۔ (یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ دکان سبزیوں کی تھی یا پرچون کی۔)

اس شخص کو لفظ ’’کریلا‘‘سے اتنی چڑ تھی کہ وہ اسے سنتے ہی مارنے دوڑتا تھا اور لڑکے بالے اسے دوڑائے رکھتے تھے۔ ہوتے ہوتے یہ نام اتنا مشہور ہوگیا کہ بس اسٹاپ کا نام بھی ’’کریلا اسٹاپ‘‘ پڑ گیا۔ لڑکوں کی بدتمیزیوں سے تنگ آکر وہ بے چارہ کہیں اور چلا گیا لیکن اپنی یاد کے طور پر ’’کریلا اسٹاپ‘‘ کا نام چھوڑ گیا جو آج تک وہیں کا وہیں ہے۔

دو منٹ چورنگی:

کریلا اسٹاپ سے کچھ آگے جانے کے بعد ایک اسٹاپ آتا ہے جس کا نام ’’دو منٹ چورنگی‘‘ ہے۔ اسے باقاعدہ طور پر تو کوئی چوراہا یا چورنگی نہیں کہا جاسکتا لیکن اس بس اسٹاپ پر ’’فور کے‘‘ روٹ کی بس خاصی دیر تک ٹھہری رہتی تھی اور بس کنڈکٹر مسافروں کو بلانے کے لیے ’’دو منٹ! دو منٹ!‘‘ کی صدائیں لگاتے تھے (یعنی بس صرف دو منٹ میں روانہ ہوجائے گی)۔

بس ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کی یہ عادت آج بھی برقرار ہے جس کے ساتھ ساتھ یہ اسٹاپ بھی بھی ’’دو منٹ چورنگی‘‘ کے نام سے مشہور ہوچکا ہے۔