امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کفن چوروں کا ٹولہ ہے،سلامتی کونسل نے ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف فیصلے دیے ہیں،مسلمانوں کو  رنگ اور نسل کی بنیاد پر تقسیم کیا جارہا ہے،دنیا بھر کے مسلمانوں پر ظلم ڈھایا جارہا ہے اوراسلام آباد میں قبرستان جیسی خاموشی ہے۔

امت رسول مارچ سے خطاب کرتے ہوئے  امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ برما کے مسلمانوں پر ظلم کیا جارہا ہے،آج کے اجتماع نے ثابت کردیا ہے کہ مسلمان جاگ رہے ہیں،جماعت اسلامی نے ہمیشہ مسلمانوں کے مسائل کو اٹھایا ہے،ظلم کے خلاف مسلم ممالک کیوں خاموش ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں حکومت کے اہم عہدے دار سے بات کی ہے، پاکستان کے حکمرانوں کو شام، برما کے مسلمانوں کا ساتھ دینا چاہئے،جب تک اقوام متحدہ آواز نہ اٹھائے مسلمان حکمران آواز نہیں اٹھاتے،آپ نے حکمرانوں کو پیغام دیا ہے کہ امت جاگ رہی ہے، ہم ان جوانوں اور بچوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے ساتھ ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ امت پر ظلم ڈھایا جارہا ہے اور پاکستانی حکمرانوں پر قبرستان جیسی خاموشی ہے،اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کفن چوروں کا ٹولہ ہے،مظالم کے خلاف صرف جماعت اسلامی آواز اٹھارہی ہے،دشمن نے اپنے ایجنٹ مسلمان ملکوں میں چھوڑے ہوئے ہیں،ہماری امت کو رنگ اور نسل کی بنیاد پر تقسیم کیا جا رہا ہے،جماعت اسلامی قوم کو جگانے کا نام ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ایک ارب 20کروڑ مسلمانوں کو سلامتی کونسل میں اپنا حصہ مانگنا چاہیے،سلامتی کونسل حلب اور فلسطین کی آواز نہیں سنتا ہے،دشمن نے اب ترکی کو بھی اپنا ہدف بنالیا ہے،پاکستانی حکمرانوں کو برمااور شام کے مسلمانوں کی مدد کرنی چاہیے،سلامتی کونسل نے ہمیشہ مسلمانوں کے خلاف فیصلے دیے ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ ہم اس ملک میں اسلامی نظام کے لیے جدوجہد کریں گے،ہم امید کرتے ہیں کہ 2017 کرپشن کے خاتمے کا سال ہوگا،2016 میں جنید جمشید اور عبدالستار ایدھی کا بھی انتقال ہوا، 2016 میں کشمیریوں کا قتل عام ہوا،امت مسلمہ کو مشترکہ پلیٹ فارم بنانے کی ضرورت ہے،ترکی نے بنگلادیش اور بھارت کے خلاف آواز ٹھائی۔
انہوں نے کہا ہے کہ ترکی کے حکمرانوں کے شکر گزار ہیں، افسوس ہےکہ ہمارے حکمران امت کو تقسیم کررہے ہیں، ایک ارب سے زائد مسلمانوں کو سلامتی کونسل میں اپنا حصہ مانگنا چاہیے، جہاں مسلمانوں کی بات ہو وہاں اقوام متحدہ خاموش ہے، اقوام متحدہ جانوروں کے حقوق کی بات کررہا ہے۔