نائٹ کلب میں دہشت گردی،حملہ آور کون تھا

%d9%86%d8%a7%d8%a6%d9%b9-%da%a9%d9%84%d8%a8-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%af%db%81%d8%b4%d8%aa-%da%af%d8%b1%d8%af%db%8c%d8%8c%d8%ad%d9%85%d9%84%db%81-%d8%a2%d9%88%d8%b1-%da%a9%d9%88%d9%86-%d8%aa%da%be%d8%a7ترکی کے شہر استنبول میں نیو ایئر کی رات لوگ یادگار بنانا چاہتے تھے، تاہم مسلح دہشت گرد نے سفاکی کی نئی داستاں رقم کرکے ہمیشہ کیلئے غمگین بنا دیا، سینٹا کلاز کے لباس میں ملبوس حملہ آور نے نائٹ کلب میں موجود لوگوں پر ایسا گولیوں کا اسپرے کیا کہ کسی کو سنبھالنے کا موقع ہی نہ ملا، اور 39 لقمہ اجل بن گئے، مرنے والوں میں کئی غیر ملکی بھی شامل تھے۔ حملے میں 40 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔
حملہ کب اور کیسے ہوا؟؟
استنبول کے گورنر مطابق دہشت گرد نے نائٹ کلب میں گھس کر سب سے پہلے محافظ پولیس اہل کار پر فائرنگ کی اور سے قتل کیا، جس کے بعد حملہ آور نے نائٹ کلب میں موجود دیگر افراد کی جانب رخ کیا اور اپنے ہاتھ میں موجود گن سے لوگوں کے اوپر گولیوں کا اسپرے کردیا۔
گورنر اور عینی شاہدین کے مطابق رینا کلب میں ہونے والی اس خونریزی میں فائرنگ کے بعد شدید بھگدڑ مچ گئی اور لوگ اپنی جان بچانے کیلئے جہاں جگہ ملی دوڑنے لگے مگر موت نے انہوں آن دبوچا۔
ترک وزیر داخلہ کے مطابق حملہ آور کی گرفتاری کیلئے پوری کوششیں جاری ہیں اور آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔ حملہ مقامی وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے ہوا.
حملہ آوروں کی تعداد:
مقامی میڈیا کی جانب سے جاری اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد دو تھی، تاہم نہتے لوگوں پر فائرنگ ایک ہی مسلح شخص کی جانب سے کی گئی۔ وزیر داخلہ کے مطابق حملہ آور کی گرفتاری کیلئے تلاشی اور آپریشن جاری ہے۔ حملہ مقامی وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے ہوا۔

حملہ آوروں کی شناخت :
مقامی میڈیا کی جانب سے جاری رپورٹس کے مطابق حملہ آور سینٹا کلاز کے لباس میں تھے اور انہوں نے ہتھیار اپنے کپڑوں میں چھپا رکھے تھے، عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور عربی زبان میں آپس میں گفت گو کر رہے تھے۔
حملے کا مقام :
آبنائے بوسفورس کے کنارے بنے اس رینا نائٹ کلب میں ایک ہزار سے زائد افراد کی گنجائش ہے، تاہم حملے کے وقت یہاں 700 سے زائد افراد موجود تھے۔ کچھ افراد نے حملے کے وقت جان پچانے کے لیے آبنائے بوسفورس میں چھلانگ لگا دی۔ اس کلب کا شمار شہر کے معروف اور مہنگے ترین کلبس میں ہوتا ہے، جہاں جازب نظر ملبوسات میں ملبوس افراد ہی داخل ہونے کے مجاز ہیں۔

ہلاک اور زخمی افراد:
استنبول حکام کے مطابق حملے میں 39 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے، جب کہ مرنے والوں میں 16 غیر ملکی بھی شامل ہیں، 21 افراد کی شناخت کرلی گئی ہے، جب کہ دیگر کی شناخت کا عمل جاری ہے۔ حملے میں 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جو مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
سیکیورٹی حکام کے دعوے:
ترکش سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے میں داعش کے ملوث ہونے کے اشارے ملے ہیں، تاہم ٹھوس ثبوت کے ملنے تک کوئی حتمی بیان نہیں دے سکتے ہیں، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ سیکیورٹی حکام نے اسے داعش کا حملہ قرار دیا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s