اگر تعریف کی جائے تو پاکستانی ڈرامے مشکل اور متنازع موضوعات کو پیش کرنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے، گزشتہ کچھ عرصے کے دوران کئی کہانیوں میں مشکل سماجی مسائل کو پیش کیا گیا۔

ہم ٹی وی کا حالیہ ہٹ ڈرامہ ‘اڈاری’ اس کی ایک اہم مثال ہے، اس ڈرامے نے نہ صرف اچھی ریٹنگ اور فالوونگ حاصل کی، بلکہ تجزیہ کاروں نے بچوں کے ساتھ ریپ جیسے حساس موضوع کو نہایت بہترین انداز میں پیش کرنے پر اس کی بے حد تعریف بھی کی۔

اے آر وائے کا ایوارڈ یافتہ ڈرامہ ‘روگ’ میں بھی اس گھناؤنے جرم کو نہایت سمجھداری سے پیش کیا، تاہم ہر ڈرامے میں اس قسم کے اعلیٰ معیارات پیش نہیں کیے جاتے، جن میں اے آر وائے کا ڈرامہ ‘چپ رہو’ ، ہم ٹی وی کے ڈرامے ‘سنگت’ اور ‘گلِ رانا’ شامل ہیں، جنہیں اپنے ڈراموں میں گمراہ کن تصویر کَشی کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

ایسے جیسے قتل اور ریپ کو ڈرامے میں پلاٹ کے طور پر استعمال کیا گیا اور کچھ نہیں۔

تاہم، پرانے دنوں میں ہیرو کی بہن کا نام آلودہ ہونے پر آسانی سے خودکشی کرنے یا ہدف بننے والی کی عزت محفوظ کرنے کی خاطر ریپ کرنے والے شخص سے شادی کے برعکس آج ریپ کا شکار ہونے والے زندہ بچنے اور اپنی آزمائش پر قابو پاتے ہوئے بہادری سے کسی بھی صورت انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔

لیکن ڈرامہ انڈسٹری کے اس سخت مقابلے اور کمرشل دور میں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آگے بڑھنے والے یہ چند اقدام، پیچھے جانے والے کئی اقدامات کے باعث مجروح کیے جارہے ہیں، جس کی مثال ‘ایک ریپ کرنے والے کو رومانوی پیش کرنا ہے’۔

رومانٹک ریپسٹ یا ریپ کرنے والے رومانوی کردار کو ‘سنگت’، ‘گلِ رانا’، ‘مقدس’ اور اے آر وائے کے حالیہ ڈرامہ ‘بے خودی’ میں ہیش کیا گیا، ڈرامہ ‘بے خودی’ کی 3 اور 4 اقساط میں ایک غصے اور ناراض شخص کو دکھایا گیا جس کا رشتہ رد کردیا جاتا ہے، جس کے بعد اپنے خاندانی گھر میں چپکے سے جانا اور جلن کی وجہ سے اپنی کزن کا ریپ کرنا جبکہ ندامت میں خود کو تباہ کرنا ہے۔

بے خودی کو دیکھ کر ایسا محسوس ہورہا ہے، جیسے یہ ہم ٹی وی کے ڈرامے ‘سنگت’ کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کررہا ہے، جس میں ‘میرا جسم میرا گناہ’ جیسے جملوں کو مرکزی اداکارہ صبا قمر کے کردار کے لیے پیش کیا گیا۔

اس دکھ بھری حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اس قسم کی چیزیں ہوتی آرہی ہیں، لیکن ایک ریپ کرنے والے شخص کو بہتر انداز میں پیش کرکے دکھانا کہ وہ اچھا انسان ہے، جس سے صرف ایک غلط فیصلہ ہوا، نہایت نامناسب ہے۔

اس طرح کی شخصیت ایک حیرت انگیز طور پر جھوٹی ہوسکتی ہے، جو دوسروں کو اپنی مرضی کے مطابق دھوکا دے ، مگر اسے ایسا ہی دکھانا چاہیے، جبکہ ظلم اور تشدد کی جانب اس کا رجحان اس کے دوسرے رویئے میں بھی نظر آنا چاہیے۔

جہاں اس وقت بے انتہا ڈرامے نشر کیے جارہے ہیں، وہیں چینلز کے لیے کافی مشکل ہے کہ وہ ہر ڈرامے کے موضوعات کی ایک ایک تفصیل اپنے پاس رکھے، تاہم اس پریشان کن رجحان کا معائنہ قریب سے کیا جانا ضروری ہے۔

تحقیق بتاتی ہے کہ ریپ کبھی بھی رومانس یا پیار کا حصہ نہیں رہا، بلکہ یہ کنٹرول، غلبے اور مکمل ذلت کا حصہ ہے، ایسا کہنا شاید زیادہ ہوگا کہ اس طرح کے نرم کردار ایسے رویئے کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، لیکن ایسے ڈرامے ناظرین کو اس عمل کی خباثت سے دور کرتے ہوئے غیر حقیقی، مبہم چمک دکھاتے ہوئے ایسے کردار کو قابل قبول بنا رہے ہیں۔

ایک انتباہ ہونے کی حیثیت سے یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستانی ڈرامے زوال کا شکار نہیں ہیں، بلکہ سوسائٹی سے جڑے ہوئے ہیں، دنیا بھر میں اسکرین ان کہانیوں کو پیش کرتی ہے۔

جہاں ریپ کے موضوع کو لے کر بنائے جانے والے اردو ڈراموں کو برا بھلا کہا جاسکتا ہے، وہاں ہمیں ان مغربی پروگرامات ‘گیمز آف تھرونز’ اور ناول ‘ففٹی شیڈز آف گرے’ پر بھی بات کرنی چاہیے، جو اس موضوع کو انٹرٹینمنٹ کا نام دیتے ہیں۔

لیکن جنسی تشدد کو نارمل پیش کرنا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس پر بات کرنی ضروری ہے۔

ہم نے کئی نامور ڈرامہ نگاروں سے اس پر ان کی رائے لی اور انہوں نے یہ کہا:

اداکار نور حسن (جنہوں نے بے خودی میں ریپ کرنے والے شخص کا مرکزی کردار ادا کیا)

‘بے خودی ڈرامے کا پیغام یہ ہے کہ اگر کوئی جرم کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتا ہے، پھر بھی وہ کبھی خوش یا مطمئن نہیں رہ سکے گا اور ایک دن اس کا حساب دینا پڑتا ہے’۔

مصطفیٰ آفریدی (سنگ مر مر اور اسیر زادی کے مصنف)

‘ریپ صرف ایک غلطی نہیں، یہ ایک جرم ہے اور مجرموں کو اس کی سزا ملنی چاہیے، شادی نہیں کروا دینی چاہیے، ہم ایسے ہیروز کو معصوم نہیں دکھا سکتے، جیسے انہیں اس سے بہتر کچھ نہیں پتہ تھا، اگر ہر دوسرا لڑکا اپنی انا کی خاطر ایسا کرنے لگے تو ہماری سوسائٹی کا حال کیا ہوگا’۔

فرحت اشتیاق (اڈاری اور ہمسفر کی مصنف)

مصنف ہونے کے باعث ہمیں اس قسم کے موضوعات پر کوئی بھی کہانی لکھنے سے قبل کافی سنجیدہ اور ذمہ دار ہونا چاہیے، کسی کے ساتھ زبردستی کرنا ٹھیک نہیں، اس کی معافی نہیں، مجھے اڈاری ڈرامے میں امتیاز کے کردار کا باخوبی اندازہ تھا، اس نے ایک بچی کا ریپ کیا تھا، میں نے اس کے کردار کو معصوم دکھانے کے لیے کسی قسم کی کوشش نہیں کی، جیسے بچپن میں اس کے ساتھ بھی کچھ ہوا یا کچھ اور’۔

محمد احتشام الدین (اڈاری اور صدقے تمہارے کے ہدایت کار)

‘ریپ ایک دکھ بھری حقیقت ہے، زندگی بھر کا ایک نشان، ریپ اور بچوں کے ساتھ تشدد جیسے موضوعات کو اسکرینز پر نشر کرنا میرے اور میری ٹیم کے لیے مذاق نہیں’۔

‘اڈاری’ ایک بہت بڑی ذمہ داری تھی، ایک بیانیہ جو تکلیف دہ حقیقت میں ڈوبا ہوا ہے، اسے سنسنی خیز نہیں کیا جا سکتا۔

اس موضوع کو احتیاط سے پیش کرکے اڈاری کی ٹیم وہ درد سامنے لائی ہے، جس سے زیبو بطور متاثرہ لڑکی گزری تھی، اور تمام مشکلات کے باوجود اس کی ہمت بھی دکھائی گئی، بطور قوم ہم سب کو اٹھنا چاہیے، آواز اٹھانی چاہیے، انصاف کا مطالبہ کرنا چاہیے اور آگاہی پھیلانی چاہیے۔