کراچی: سندھ یونیورسٹی میں طالبہ کی ہلاکت کے معاملے کو پولیس نے ابتدائی طور پر خودکشی قرار دے دیا گھر والوں کا کہنا ہے کہ نائلہ پراعتماد لڑکی ہے، خود کشی نہیں کرسکتی۔

اطلاعات کے مطابق سندھ یونیورسٹی میں فائنل ایئر کی پوزیشن ہولڈر طالبہ نائلہ رند کی دو روز پہلے پنکھے سے لٹکی ہوئی لاش برآمد ہوئی تھی، پولیس نے ابتدائی تفتیش کا نتیجہ بیان کردیا اور کہا ہے کہ نائلہ نے خود کشی کی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد یا زخم کے نشانات سامنے نہیں آئے ،طالبہ نائلہ کے کلاس فیلوز نے پولیس تفتیش کے برعکس ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

نائلہ کی پراسرار ہلاکت کرنے والی پولیس انکوائری ٹیم کے سربراہ ایس ایس پی جامشورو نے اساتذہ اور ہاسٹل کے عملے کے بیان قلمبند کرلیے ہیں جبکہ ورثا کابیان بھی ریکارڈکیاجائےگا۔

طالبہ نائلہ رند کے اہل خانہ کی جانب سے تفتیش اور یونیورسٹی انتظامیہ کے اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا جارہا ہے۔ طالبہ کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ نائلہ بہت خود اعتماد لڑکی تھی وہ خود کشی نہیں کرسکتی۔

طالبہ کی لاش ملنے کا معاملہ الجھانے کا انکشاف

دوسری جانب سندھ یونیورسٹی کے ہاسٹل سے طالبہ کی لاش ملنے کے معاملے کو الجھانے کی کوشش کا انکشاف ہوا ہے جب کہ ریکارڈ تبدیل کرنے کے ثبوت سامنے آگئے ہیں،طالبہ کو 34 نمبرکمرہ الاٹ تھا لیکن لاش 36 نمبر سے ملی، طالبہ کی سلپ پر کمرہ نمبر مٹاکر دوسرا نمبر لکھے جانے کا انکشاف ہواہے۔ ہاسٹل میں سی سی ٹی وی کمیرے نہیں اس لیے ویڈیو ثبوت سامنے نہیں آسکا ۔

طالبہ نائلہ رند کے کمرہ نمبرکے حوالے یونیورسٹی ہاسٹل کی انچارج انیلہ سومرو کا بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نائلہ رندکو کمرہ نمبر 36اے الاٹ کیا گیا تھا اور اسی کمرے سے ان کی لاش ملی ہے۔

دل کا دورہ پڑنے سے سہیلی بھی انتقال کرگئی

تازہ اطلاعات کے مطابق نائلہ کی ایک انتہائی قریبی سہیلی نسیم ملاح دل کا دورہ پڑںے سے انتقال کرگئی۔ اہل خانہ کے مطابق نائلہ یونیوسٹی گئی اور واپسی کے بعد سے انتہائی رنجیدہ تھی کہ اسے اچانک دل کا دورہ پڑا،ڈاکٹر کے پاس لے گئے تاہم وہ جانبر نہ ہوسکی۔