سال 2016 فلسطینی بچوں کے لیے بھی ہلاکت خیز رہا اوراس 12 ماہ میں اسرائیلی افواج نے اپنی درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معصوم بچوں پر گولیاں برسائیں جس سے 32 بچے شہید ہوگئے۔

گزشتہ عشرے میں یہ بچوں کی شہادتوں کا سب سے بڑا واقعہ ہے جس میں بچوں کو اسرائیلی افواج کے چھاپوں، مقبوضہ مغربی کنارے میں نہتے افراد کے احتجاج اور دیگر کارروائیوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

فلسطینی احتساب کمیٹی کے مطابق مرنے والے 32 بچوں میں سے 19 کی عمریں 16 سے 17 برس اور 13 کی عمریں 13 سے 15 برس تھیں۔ رپورٹ کے مطابق ویڈیو اور تصاویر فوٹیج کے ثبوت آنے کے باوجود بھی اسرائیلی فوجی اہلکاروں کو بہت کم سزا ملتی ہے اور ان پر مقدمات چلانے میں تاخیری حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ فلسطینی احتساب کمیٹی کے سربراہ آئی ابو ایکتیش کا کہنا ہے کہ ’’اسرائیلی افواج ‘‘ شوٹ کرو اور قتل کی پالیسی پر گامزن ہے اور اس تشدد کی بظاہرکوئی معقول وجہ نظر نہیں آتی۔

دوسری جانب اکتوبر 2015 سے اب تک اسرائیلی افواج اور آبادکاروں نے مجموعی طور پر 244 فلسطینیوں کو شہید کیا جن کی اکثریت ایسے خالی ہاتھ مظاہرین کی تھی جو کوئی آتشیں ہتھیار نہیں رکھتے ہیں، یہاں تک کہ راہ گیروں اور واقعے کو دیکھنے والے ہجوم کو بھی ’’ بیت المقدس تحریک آزادی‘‘ میں شریک افراد ٹھہرا کر نشانہ بنایا گیا۔ فلسطینیوں کی جانب سے خنجر اور تیز دھار آلے کے وار سے 36 اسرائیلی باشندے بھی لقمہ اجل بنے ہیں۔

گزشتہ برس اگست میں اسرائیلی ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ کے ایک سروے سے ظاہر ہوا کہ اسرائیل کی 47 فیصد یہودی آبادی فلسطینیوں کو کسی بھی قسم کا خطرہ یا حملہ کرنے کی صورت میں قتل کرنے کی حمایت کرتی ہے، خواہ اسے گرفتار ہی کیوں نہ کرلیا جائے، یعنی گرفتار کرکے بھی مار دیا جائے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل کے بعض اراکین نے کہا ہے کہ اکتوبر 2015 سے اب تک ایسے 150 فلسطینیوں کو قتل کیا گیا ہے جو کسی قسم کا کوئی خطرہ نہ تھے اور نہ ہی حملہ آور تھے۔