شام کے شہر حلب پر روسی اور سرکاری فوج کے حملے کے بعد بچوں پر گزرنے والے حالات برطانوی ڈاکٹر دنیا کے سامنے لے آیا ۔

کرسمس سے پہلے شام کا خفیہ دورہ کرنے والا برطانوی سرجن حلب والوں پر گزرے حالات دنیا کے سامنے لے آیا ۔ ڈاکٹر ڈیوڈ ناٹ کے مطابق وہ ماضی میں کئی بارشام جاکر طبی امداد فراہم کرتے رہے ہیں ۔ مگرجو کچھ حلب والوں خاص طور پر بچوں پر گزری اس کی ماضی میں بھی کوئی مثال نہیں ۔

نظروں کے سامنے سیکڑوں بچے تڑپ تڑپ کر دم توڑتے رہے ۔جو بچ گئے ان میں سے بیشتر بچوں کے زخم قابل علاج تھے ۔ مگر ادویات نہ ہونے کی وجہ انفیکشن زدہ اعضا کاٹنے پڑے ۔ کیونکہ ادویات کے بغیر کام کرنے والے ڈاکٹرز کے پاس شاید کوئی اور راستہ بھی نہیں تھا ۔

فیلڈ اسپتالوں میں زیر علاج بچوں کے لیئے خون کے عطیات بھی آنا بند ہوگئے ہیں ۔ کیونکہ جان بچا کر حلب سے نکلنے والے خود بھی ہمہ وقت بمباری سے زخمی ہونے کے خدشے سے دوچار ہیں ۔ اور چاہتے ہیں کہ ایسی صورتحال میں ان کے جسم میں خون کی کمی نہیں ہونی چاہیئے ۔

ڈاکٹر ڈیوڈ ناٹ حلب کے حالیہ دورے سے پہلے بھی کئی بار زخمیوں کے علاج کے لیئے شام جاچکے ہیں ۔ اور برطانیہ میں موجودگی کے دوران اسکائپ کے ذریعے آپریشنز کی نگرانی میں مصروف رہتے ہیں ۔