اسلام آباد سے اغوا ہونے والے سلمان حیدر اکیلئے ہی نہیں جو لاپتا ہیں، ایک ہفتے کے دوران دیگر 3 سماجی کارکن بھی اغوا یا لاپتا ہوچکے ہیں،  وقاص گوریا، عاصم سعید، سلمان حیدر اور احمد رضا یہ وہ آوازیں ہیں جنہوں نے ہر ہر موقع پر پسی عوام اور ان کے مسائل کیلئے آواز بلند کیں۔

سائبر سیکیورٹی این جی او کے مطابق وقاص گوریا اور عاصم سعید رواں سال 4 جنوری سے لاپتا ہیں، جب کہ سلمان حیدر 6 جنوری جمعہ اور احمد رضا 7 جنوری ہفتہ کو غائب ہوئے۔

وزارت داخلہ کے مطابق سلمان حیدر کی بحفاظت بازیابی کیلئے ہر ممکن اقدامات اور وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں، بلوچستان کے لاپتا افراد کی بازیابی اور ان کے حقوق کیلئے کام کرنے والوں میں سلمان حیدر کا نام نیا نہیں۔ یہ اتفاق وقت بھی ہے کہ لاپتا چاروں افراد سوشل میڈیا پر بھی کافی سرگرم تھے۔

حالیہ دنوں میں چار سماجی کارکنوں کا یوں لاپتا ہونا سنگین نتائج کی جانب اشارہ کرتا ہے، پاکستان جو پہلے ہی صحافیوں کیلئے خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہے، وہاں تواتر سے ہونے والے ایسے واقعات لوگوں میں مزید خوف اور اداروں پر اعتماد کم کر رہے ہیں۔

C1uEiVPXAAARTVr

سیکیورٹی ذرائع کی جانب سے چاروں لاپتا افراد سے متعلق پوچھے گئے سوال پر لاتعلقی کا اظہار کیا گیا ہے، اے ایف پی کے مطابق چاروں افراد کے لاپتا ہونے کے علاوہ سینٹرل پنجاب سے بھی نصیر نامی نوجوان کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں، نصیر کے بھائی کے مطابق نصیر پولیو کا شکار ہے، جس وقت وہ غائب ہوا اس وقت وہ والد کی دکان پر بیٹھا تھا۔

چار روز قبل اغوا ہونے والے سلمان حیدر کا لاپتا ہونا بھی کسی معمہ سے کم نہیں ہے، سی سی ٹی وی کیمرے بھی اب تک سلمان حیدر کے اغوا یا لاپتا ہونے میں ملوث عناصر کی شناخت کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ سلمان حیدر اپنے گھر سے نکلتے وقت بتا کر گئے تھے کہ وہ دوستوں سے ملنے بنی گالہ جا رہے ہیں، تاہم کچھ دیر بعد ہی ان کے موبائل فون سے اہلیہ کے موبائل فون پر میسج موصول ہوا کہ وہ اپنی گاڑی اسلام آباد مارکیٹ میں چھوڑ کر جا رہے ہیں، اسے وہاں سے اٹھا لیا جائے۔ بعد ازاں پولیس نے سلمان حیدر کی گاڑی تو بازیاب کرلی مگر سلمان حیدر کا کچھ پتا نہ چل سکا۔

9 jany

سلمان کے بھائی فیضان کا کہنا ہے کہ سلمان کو آج تک کبھی کوئی دھمکی نہیں ملی، لاپتا ہونے والے وقاص گوریا ہالینڈ کے رہائشی ہیں، جن کو 4 جنوری کو اٹھایا گیا، جب کہ عاصم سعید کو بھی اسی دن اٹھایا گیا۔

 

Some-more-protests-AFP-640x480-640x480

سائیبر سیکیورٹی این جی او کے سربراہ شہزاد احمد کا کہنا ہے کہ چاروں لاپتا افراد پر نہ کبھی کوئی مقدمہ چلا نہ وہ کبھی عدالت میں پیش ہوئے، ان چاروں کا اس طرح اچانک غائب ہونا صرف اہل خانہ ہی نہیں بلکہ عوام کیلئے لمحہ فکریہ ہے جو سوشل میڈیا پر اپنے خیالات اور جذبات کا اظہار برملا کرتے ہیں۔