وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مبینہ طور پر بھتے کے ماہانہ پیسے نہ دینے پر خواجہ سرا کو آگ لگادی گئی۔

ڈھوک کھبہ کا رہائشی خواجہ سرا عقیل احمد کافی عرصہ سے اصغر مال چوک تندوری پلازہ میں رہائش پذیر تھا، جہاں اس کے پاس بھتے کے طور پر ماہانہ پیسے لینے کے لیے مبینہ طور پر پولیس کا مخبر فیصل آتا تھا۔

فیصل جب ماہانہ پیسے لینے عقیل کے پاس آیا تو اس نے ٹال مٹول کی، جس پر فیصل نے مبینہ طور پر خواجہ سرا پر سپرٹ چھڑک کر اسے آگ لگادی اور ظاہر کیا کہ عقیل چولہا پھٹنے سے جھلس کر زخمی ہوا۔

خواجہ سرا کے بھائی خلیل احمد کو جب واقعے کا علم ہوا تو وہ ہولی فیملی ہسپتال پہنچے، جہاں عقیل نے انہیں ساری حقیقت سے آگاہ کیا۔

خواجہ سرا کے بھائی خلیل نے حقیقت جاننے کے بعد پولیس سے رابطہ کیا، لیکن ان کی سنوائی نہ ہوئی۔

پولیس کی جانب سے ملزم کے خلاف کارروائی نہ کرنے پر سٹی پولیس آفس (سی پی او) کو قانونی کارروائی کے لیے درخواست دی۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ’عقیل عرصہ دراز سے خواجہ سراﺅں کے ساتھ رہائش پذیر تھا، جبکہ اسے فیصل نے تیل چھڑک کر آگ لگائی۔‘

درخواست میں انہوں نے مزید کہا کہ ’تھانہ بنی کے سب انسپیکٹر غلام عباس نے فیصل کے خلاف درخواست لینے سے انکار کر دیا اور اسے بچانے کے لیے پولیس نے اپنی مرضی کا بیان بھائی سے لے لیا۔‘

خواجہ سرا کے بھائی کا کہنا ہے کہ فیصل کے خلاف اس سے قبل تھانہ وارث خان میں بھی متعدد مقدمات درج ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ کچھ عرصے سے ملک میں خواجہ سراؤں پر تشدد اور حملوں کے واقعات تواتر سے پیش آرہے ہیں۔

گزشتہ سال نومبر میں سیالکوٹ میں مشتبہ افراد کی جانب سے خواجہ سراؤں کے مبینہ ’ریپ‘ اور ان پر تشدد کا واقعہ پیش آیا تھا، جس کے بعد متعدد گرفتاریاں بھی عمل میں آئی تھیں۔

صوبہ پنجاب کے علاوہ خیبر پختونخوا میں بھی خواجہ سراؤں پر حملے کے متعدد واقعات پیش آچکے ہیں۔