پاکستان کی پہلی مخنث ماڈل کا فلمی سفر شروع

خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے سرگرم کارکن کامی سد نے گذشتہ برس نومبر میں پاکستان کی پہلی مخنث ماڈل کی حیثیت سے ریمپ پر واک کرکے تمام تر توجہ اپنی جانب مرکوز کرلی تھی اور اب وہ ایک مختصر فلم ‘رانی’ میں کام کرنے جارہی ہیں۔

کامی سد اس فلم کے ذریعے پاکستان میں خواجہ سراؤں کے حقوق کا پیغام دینا چاہتی ہیں، اس فلم کو امریکا سے تعلق رکھنے والے حماد رضوی ڈائریکٹ کررہے ہیں جبکہ اسے کراچی کے پروڈکشن ہاؤس گرے سکیل نے پروڈیوس کیا ہے۔

کامی سد کا ڈان امیجز سے بات کرتے ہوئے اپنی فلم کے حوالے سے کہنا تھا کہ ‘اس شارٹ فلم کا نام رانی ہے اور میں نے اس میں ایک مخنث کا مرکزی کردار ادا کیا ہے، اس فلم کی شوٹنگ کا آغاز گزشتہ سال اکتوبر میں ہوا تھا اور ابھی اس کی پروڈکشن کا کام جاری ہے، اس کی کہانی نہایت شاندار ہے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘اس فلم کے ذریعے یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ خواجہ سرا شادیوں میں ڈانس کرنے کے بجائے اور بھی بہت کچھ کرسکتے ہیں’۔

ڈان نے اس فلم کے حوالے سے پروڈکشن ہاؤس کی اسسٹنٹ پروڈیوسر عمیمہ ناصر سے بھی بات کی۔

فلم ‘رانی’ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ‘اس کی کہانی ایک خواجہ سرا پر مبنی ہے، جو کراچی کی سڑکوں پر کھلونے بیچنے کا کام کرتی ہے، ایک دن اسے ایک ایسا بچہ ملا جسے اس کے خاندان والوں نے ترک کردیا تھا، جسے وہ اپنے گھر لے آئی، بعد ازاں انہیں کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا’۔

فلم کی مزید کاسٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘اس فلم میں ہم نے کامی سد کو کاسٹ کرکے سب سے بہترین فیصلہ کیا، ان کے علاوہ فلم میں اصلی خواجہ سرا شامل کیے گئے ہیں، اس کے علاوہ ہم نے نئے اداکاروں کو کاسٹ کرنے کی کوشش کی ہے’۔

فلم کی ریلیز کا فی الحال اعلان نہیں کیا گیا، تاہم اس کا پریمیئر جلد متوقع ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s