عراق اور شام کی خانہ جنگی نے لاکھوں افراد کو بے گھر کردیا اور ان افراد کی دوسرے ممالک میں داخلے کی ناکام کوششوں، اور دربدری کی زندگی نے جہاں بے شمار ناخوشگوار واقعات اور المیوں کو جنم دیا وہیں یہ حالات کسی کی زندگی کو خوشگوار بنانے کا سبب بھی بن گئے۔

نورا ارکوازی اور بوبی ڈوڈوسکی بھی ایسے ہی افراد تھے جن کی زندگی ان حالات کے باعث مکمل طور پر تبدیل ہوگئی اور یہ تبدیلی نہایت خوشگوار تھی۔

ان دونوں کی پہلی ملاقات نہایت ہی عجیب و غریب انداز میں ہوئی جسے حسن اتفاق یا رومانوی ہرگز نہیں کہا جاسکتا۔ نورا عراق کے جنگ زدہ علاقے سے ہجرت کر کے اپنے خاندان اور دیگر درجنوں افراد کے ساتھ مقدونیہ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھیں اور بوبی ان پولیس اہلکاروں میں شامل تھے جو کسی غیر متوقع صورتحال سے نمٹنے کے لیے وہاں موجود تھے۔

بوبی اس ڈیوٹی پر اپنے ایک ساتھی کی جگہ پر نہایت ہی غیر متوقع طور پر موجود تھے۔

 

دوسری جانب نورا اپنی والدہ، بھائی اور بہن کے ساتھ اپنا گھر چھوڑ کر ایک طویل سفر طے کر کے مقدونیہ پہنچی تھیں۔

دیگر لاکھوں مہاجرین کی طرح نورا بھی کسی یورپی ملک میں جا کر روزگار حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ اس کے لیے ان کی نظر جرمنی پر تھی۔ وہ کہتی ہیں ’میں اپنے خاندان کے ساتھ جرمنی جانا چاہتی تھی۔ لیکن مجھے نہیں پتہ تھا کہ میری قسمت مجھے کہاں دھکیل رہی ہے‘۔

جب ان دونوں کی پہلی ملاقات ہوئی تو نورا شدید بخار کی حالت میں تھیں۔ انہیں واحد فکر یہ تھی کہ کیا انہیں اور ان کے خاندان کو مقدونیہ میں پناہ مل سکتی ہے۔ اس وقت اکثر مغربی ممالک نے پناہ گزینوں کے لیے اپنے دروازے بند کر دیے تھے لہٰذا وہاں ہجرت کر کے آنے افراد کو علم نہیں تھا کہ ان کا مستقبل کیا ہوگا۔

ان کے مطابق جب انہوں نے وہاں موجود پولیس اہلکاروں سے گفتگو کرنا چاہی تو ان سب نے انہیں بوبی کی طرف بھیج دیا کیونکہ اس وقت وہ واحد پولیس اہلکار تھے جو انگریزی میں گفتگو کرسکتے تھے۔

 

نورا نے بوبی سے اپنی اور اپنی بیمار والدہ کے بارے میں پوچھا کہ کیا انہیں علاج کی مناسب سہولیات مل سکیں گی۔ بوبی نے انہیں صرف چند الفاظ کہے، ’فکر مت کرو، سب ٹھیک ہوجائے گا‘۔

نورا اس وقت کو یاد کرتے ہوئے ہنستی ہیں کہ بوبی ان سے بات کرتے ہوئے انہیں دیکھے بنا رہ نہیں پا رہے تھے۔

بعد ازاں ان لوگوں کی مزید ملاقاتیں ہوئیں۔ نورا نے وہیں پر ریڈ کراس کے لیے کام کرنا شروع کردیا تھا جبکہ بوبی بھی وہاں موجود پناہ گزینوں کی مدد کے لیے کوشاں تھے۔ اپنے دیگر ساتھیوں کے برعکس بوبی پناہ گزین بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے اور بڑوں کی مدد کرتے۔

بالآخر کچھ عرصے بعد بوبی نے نورا کو شادی کی پیشکش کی جو نورا نے قبول تو کرلی۔ مگر انہیں اپنے خاندان کی مخالفت کا ڈر تھا کہ شاید وہ اسے کسی غیر مسلم شخص سے شادی نہ کرنے دیں۔

تاہم ان کے خدشات غلط ثابت ہوئے اور نورا کے والدین نے کسی قدر غصے سے مگر اجازت دے دی۔

 

ان دونوں کی شادی بھی نہایت منفرد تھی جو تمام مذاہب کے 120 افراد کے سامنے منعقد کی گئی۔ مہمانوں نے کئی گھنٹے رقص کیا اور گانے گائے۔

نورا اب بوبی کے ساتھ ان کے گھر میں رہتی ہیں اور یہ جوڑا نہایت ہنسی خوشی زندگی گزار رہا ہے۔ بوبی اس سے قبل بھی دو بار شادی کر چکے تھے جن سے ان کے 3 بچے ہیں۔ نورا بھی حاملہ ہیں اور وہ بوبی کے بچوں کے ساتھ نہایت پرسکون زندگی گزار رہی ہیں۔

یہ دونوں لوگوں کو پیغام دیتے ہیں، ’کسی کی فکر مت کریں، صرف اپنے آپ پر یقین کریں اور محبت پر یقین رکھیں۔ اس کے بعد زندگی خوبصورت ہوجائے گی‘۔