فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے کچھ عرصہ قبل اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا کہ مستقبل قریب میں انسان دماغی لہروں کی مدد سے ایک دوسرے کے خیالات پڑھنے اور رابطہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے اور ان کا یہ خواب حقیقت کے قریب پہنچ گیا ہے۔

جی ہاں فیس بک کا ایک سیکرٹ تحقیقی مرکز گزشتہ سال تشکیل دیا گیا جو کہ ‘دماغی کمپیوٹر انٹرفیس’ کی ٹیکنالوجی تیار کرنے کا کام کررہا ہے، یہ بالکل سائنس فکشن فلموں میں دکھائی جانے والی ٹیلی پیتھی یا خیالات پڑھنے کی صلاحیت جیسا ہے۔

حال ہی میں فیس بک نے اس ہارڈ ویئر پراجیکٹ نیورو امیجنگ اور الیکٹرو فزیولوجیکل ڈیٹا کے لیے لوگوں کو رکھا جہاں انہیں مستقبل کے رابطوں کے پلیٹ فارم کی تشکیل کا کام دیا گیا۔

اس مقصد کے لیے پی ایچ ڈی کرنے والے دماغی سائنس کے ماہرین کو 2 سال کی مدت کے لیے بھرتی کیا گیا۔

فیس بک نے اس حوالے سے کوئی بات نہیں کی مگر 2015 میں مارک زکربرگ یہ عندیہ دے چکے تھے کہ ان کی کمپنی ایک ایسی ڈیوائس پر کام کررہی ہے جو برین کنٹرول اور ٹیلی پیتھی رابطوں کی صلاحیت رکھتی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا ‘مجھے یقین ہے کہ ایک دن ہم اپنے خیالات براہ راست ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک دوسرے کے دماغوں میں منتقل کرسکیں گے، آپ بس سوچیں گے اور آپ کے دوست فوری طور اس کو جان سکیں گے، اگر آپ کی خواہش ہوئی تو’۔

تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ کس طرح کی ٹیکنالوجی کے ذریعے فیس بک کو اس مقصد میں کامیابی کا احساس ہوا، ماضی میں بھی مختلف کمپنیاں مختلف سنسرز اور ہیڈ بینڈز کی مدد سے اس طرح کے دماغی سگنلز منتقل کرنے والی ڈیوائسز پر کام کرچکی ہیں اور ممکن ہے کہ فیس بک بھی اسی طرح کی سوچ پر عمل کررہی ہو۔

اس پراجیکٹ پر فیس بک کے دفتر میں بلڈنگ ایٹ نامی عمارت میں کام ہورہا ہے جس نے اب تک کوئی اعلان تو نہیں کیا مگر دسمبر 2016 میں فیس بک نے بلڈنگ ایٹ اور 17 یونیورسٹیوں کے درمیان سائنسی تحقیق کے لیے اشتراک کا اعلان ضرور کیا تھا۔