کالعدم تنظیموں اور جرائم پیشہ گروہوں کو اجرتی شوٹرز کی خدمات حاصل

لاہور میں 280، کراچی میں 7200، گوجرانوالہ میں 480 اجرتی شوٹرز کا انکشاف، افغانوں کے 6 بڑے گروپوں سے لاہور میں ڈکیتی اور دیگر وارداتیں بھی کروائی جاتی ہیں۔

کالعدم تنظیموں اور جرائم پیشہ گروہوں نے قتل، اقدام قتل، اغوا برائے تاوان اور ڈکیتی کیلئے لاہور سمیت ملک بھر میں 15 سال سے چالیس سال تک کی عمر کے اجرتی شوٹرز کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ اجرتی شوٹرز کا تعلق کسی کالعدم تنظیم سے ہے نہ کسی اور گروہ سے، یہ لوگ صرف پیسہ لے کر وارداتیں کرتے ہیں۔ لاہور میں 280، کراچی میں 7200، گوجرانوالہ ڈویژن میں 480 اور فیصل آباد ڈویژن میں 512 ایسے افراد کا انکشاف ہوا ہے جو اجرتی قاتلوں کے طور پر بطور شوٹر کام کر رہے ہیں۔ حساس ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ سارا کام منصوبہ بندی سے کیا جا رہا ہے۔ لاہور سمیت دیگر شہروں میں مختلف کالعدم تنظیموں اور جرائم پیشہ گروہوں نے اجرتی شوٹرز سے رابطے قائم کر رکھے ہیں اور ان کے ذریعے اپنے مقاصد کو پورا کرتے ہیں۔ اجرتی شوٹرز سے کام کروانے کیلئے کالعدم تنظیموں کا کوئی شخص سامنے نہیں آتا بلکہ کسی تیسرے شخص کے ذریعے رابطہ کر کے ان کو رقم اور تصاویر دے کر کام کروایا جاتا ہے جبکہ ٹارگٹ کی مخبری کیلئے علیحدہ سے لوگوں کو مقرر کیا جاتا ہے۔

ایک گروہ مختلف کیسوں میں جیلوں میں بند کمزور مالی حالات والے بہت سے نوجوانوں کی ضمانتیں کرواتا ہے، پھر ان کو ناجائز اسلحہ لے کر دیا جاتا ہے اور اس کے بعد ان سے اغوا، ٹارگٹ کلنگ اور اقدام قتل جیسی وارداتیں کروائی جاتی ہیں۔ لاہور میں افغان باشندوں کے 6 بڑے گروپوں سے ڈکیتی اور دیگر وارداتیں بھی کروائی جاتی ہیں اور ان کو محفوظ پناہ گاہیں بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ ایسے گروہ جن کی پرانی دشمنیاں چل رہی ہیں وہ بھی اجرتی ٹارگٹ کلرز کو استعمال کرتے ہیں۔

لاہور کے علاقوں بھگت پورہ، باغبانپورہ، ہربنس پورہ، راوی روڈ، شفیق آباد، گوالمنڈی، اندرون شہر، سمن آباد، ساندہ، مالی پورہ، شاہدرہ، چونگی امر سدھو اور ٹاؤن شپ میں اجرتی قاتلوں کی بڑی تعداد رہتی ہے۔ لاہور میں اکثر اغوا برائے تاوان اور قتل کی وارداتوں میں جو ملزم ٹریس ہوئے انہوں نے اجرتی قاتلوں کو استعمال کیا۔ لاہور میں اداکارہ قسمت بیگ کے قتل میں بھی اجرتی ٹارگٹ کلر کو استعمال کیا گیا تھا۔ کالعدم تنظیمیں اور دیگر جرائم پیشہ گروہ ایسے ٹارگٹ کلرز جن سے بہت زیادہ کام لے لئے جاتے ہیں کو دبئی، جنوبی افریقا اور دیگر ممالک میں بھیج دیتے ہیں، تاہم ضرورت کے وقت ان کو پاکستان واپس بلا لیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کالعدم تنظیموں کے افراد کئی ٹارگٹ کلرز سے اہم کام لینے کے بعد انہیں قتل کروا دیتے ہیں تا کہ کوئی ثبوت نہ رہے۔ لوہا مارکیٹ مصری شاہ، سمن آباد اور لٹن روڈ پر طالبان کی جانب سے بھتہ نہ ملنے پر فائرنگ کر کے بعض افراد کو قتل کیا گیا تھا، ان وارداتوں کیلئے بھی اجرتی ٹارگٹ کلرز کو ہی استعمال کیا گیا۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s