ارکان پارلیمنٹ کو جعلی بینک رسیدیں بھجوانے والا گرفتار

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی(ایف آئی اے) نے ارکان پارلیمنٹ کو جعلی بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات اور ان اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے جمع ہونے کی جعلی رسیدیں بھیجنے والے سابق بینک ملازم کو گرفتار کرلیا۔

سابق بینک ملازم نے 2 دن قبل سینیٹ چیئرمین رضا ربانی، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، قومی اسمبلی و سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور دیگر پارلیمنٹیرینز کو جعلی اکاؤنٹس کی تفصیلات بھیجنے سمیت ان کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے جمع ہونے کی رسیدیں بھیجیں تھیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پارلیمنٹیرینز کو جعلی ٹرمز ڈپوزٹ رپورٹس( ٹی ڈی آرز) بھیجنے والے ملزم عتیق الرحمٰن کوایف آئی اے کی کمرشل بینک سرکل (سی بی سی) ٹیم نے گرفتار کیا، ملزم ایس ایم ای بینک کا سابق ملازم جبکہ کراچی کے اعلیٰ ادارے سے گریجویٹ ہے۔

ایف آئی اے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ابتدائی تحقیق کے مطابق مشتبہ شخص ارکان اسمبلی کو جعلی رسیدیں بھیج کر بینک مالکان کو سبق سکھانا چاہتا تھا کیوں کہ رسیدیں بھیجنے والے شخص نے گزشتہ برس فراڈ کرنے کے چکر میں قانون سازوں کو بینک کے نام سےرسیدیں بھیجی تھیں جس پر بینک نے اسے نوکری سے فارغ کردیا تھا۔

ذرائع کے مطابق عتیق الرحمٰن کو ایف آئی اے نے 6 ماہ قبل بھی ایس ایم ای بینک کے چیف مینجر برکت علی لاشاری کی شکایت پر سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) کے جعلی پے آرڈر بنانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا، جس کی وجہ سے وہ کچھ ماہ جیل میں قید رہنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوا تھا۔

ایف آئی اے ذرائع کے مطابق مشتبہ شخص نے اس بار برکت علی لاشاری کے نام سے جعلی رسیدیں جاری کیں۔

جعلی رسیدیں موصول ہونے پرجب سینیٹ چیئرمین اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے ایف آئی اے کو شکایت کی تو ایف آئی اے نے برکت علی لاشاری سے رابطہ کیا جنہوں نے ملزم کے بارے میں اہم شواہد فراہم کیے۔

ایف آئی اے ٹیم نے ثبوتوں کے بعد کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں چھاپہ مار کر ملزم عتیق الرحمٰن کو گرفتار کرکے اس کے قبضے سے جعلی رسیدیں بھی برآمد کرلیں۔

واضح رہے کہ پارلیمنٹیرینز کو رسیدیں موصول ہونے کے بعد سینیٹ چیئرمین رضا ربانی نے ایف آئی اے کو شکایت کی تھی کہ انہیں ایس ایم ای بینک سے کراچی کی رہائش گاہ پر ایک رسید موصول ہوئی تھی جس کے مطابق ان کے اکاؤنٹ میں 10 کروڑ روپے منتقل ہوئے ہیں۔

رضا ربانی کی شکایت کے بعد ایف آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

قبل ازیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سیاست دانوں کے نام پر نجی بینک میں ہونے والی کروڑوں روپے کی منتقلی کے حوالے سے دستاویزات کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ حقیقت میں اس قسم کی کوئی منتقلی نہیں ہوئی۔

مرکزی بینک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ‘ابتدائی نتائج میں انکشاف ہوا ہے کہ ایس ایم ای بینک کی جانب سے اس قسم کی کوئی ٹی ڈی آر جاری نہیں کی گئی اور نہ ہی ان پارلیمانی رہنماؤں کے مذکورہ بینک میں کوئی اکاؤنٹس ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s