کرکٹ بورڈ باسط سے کیوں ڈرتا ہے؟

سلیم خالق

باسط علی بظاہر ایک عام سے ’’بے ضرر‘‘ سابق کھلاڑی لگتے ہیں پھر کرکٹ بورڈ کیوں ان سے ڈرتا ہے؟ کیوں ان کی تمام خامیاں نظر انداز کر کے نوازشات برقراررکھی جاتی ہیں؟

یقیناً ان دنوں یہ سوال کئی شائقین کے ذہنوں میں موجود ہوگا، جمعرات کو ہی یہ خبر بھی شائع ہوئی کہ انھیں جونیئر سلیکشن کمیٹی کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے، شاید اس سے بعض لوگوں کو بڑی حیرت ہوئی ہو گی کہ ایک شخص جس نے حال ہی میں سابق ساتھی کھلاڑی کو تھپڑ رسید کیا کیسے اسے کوئی سزا نہ دی گئی، الٹا انعام سے نوازا گیا،آئیں آپ کے سوالات کا جواب دینے کی کچھ کوشش کرتے ہیں، سب سے پہلی بات یہ کہ باسط علی فرد واحد نہیں جن پر نوازشات کی برسات ہے، ہر وہ سابق کرکٹر جو بورڈ کیخلاف بات کرنے کی ہمت رکھتا ہو حکام اس سے خوفزدہ رہتے ہیں،انھوں نے شاید پہلے ہی ایسے کھلاڑیوں کی فہرست بنا لی اور پھر انھیں نوازنے کا سلسلہ شروع کیا۔

ایک دن ایسا آئے گا جب ٹیم ہارے یا کچھ اور مسئلہ ہو تو میڈیا کو کوئی ایسا بڑا سابق کھلاڑی نہ ملے گا جو بورڈ کیخلاف کچھ کہے، سب پے رول پر آ چکے ہوں گے، باسط علی اپنے دور کے اچھے بیٹسمین تھے، پہلے ان کا بیٹ خطرناک تھا،اب کھیل سے علیحدگی کے بعد زبان ان کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکی، بطور بیٹسمین وہ بڑے بڑے بولرز کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، پھر میڈیا میں آ کر بورڈ کی پالیسز کو نشانہ بنانے لگے، میچ فکسنگ کے الزامات تک لگانے میں انھیں کوئی خوف محسوس نہیں ہوا۔

کسی سابق کھلاڑی میں یہ ہمت نہیں کہ وہ میڈیا میں آ کر عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنائے یہ کام بھی باسط نے کیا ، بس اسی پر وہ نجم سیٹھی کو بھی بھا گئے، اب جب کبھی باسط پر برا وقت آتا ہے سب سے بڑی دفاعی ڈھال بن کر وہی کھڑے ہوتے ہیں، اس وقت بورڈ کو کنٹرول کرنے والی ایک اور اہم شخصیت شکیل شیخ نے پہلے باسط پر الزام لگایا کہ وہ جوئے میں ملوث ہیں، دونوں نے ایک دوسرے پر خوب لفظی فائرز کیے مگر اب ہم پیالہ ہم نوالہ ہیں، ندیم خان، معین خان، صلاح الدین صلو سمیت طویل فہرست ہے جس میں شامل سابق کرکٹرز میڈیا میں نمایاں ہو کر بورڈ حکام کی آنکھ کا تارا بنے اور اب خاموش بیٹھے ہیں۔

معین ورلڈکپ کے دوران کسینو اسکینڈل سے زیرعتاب آئے اور اب وقتا فوقتاً میڈیا میں آ کریہ احساس دلاتے ہیں کہ جلدی کوئی پوسٹ دوورنہ میں پھر شروع ہو جاؤں گا، بورڈ نے مستقبل میں کوچنگ یا منیجر شپ کی ذمہ داریاں سونپنے کیلیے جو فہرست بنائی اس میں ان کا نام شامل ہے، اگر جلد کوئی عہدہ پا لیں تو کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہیے، محمدیوسف سے معاوضے پر مذاکرات جاری ہیں، ماضی میں ادا شدہ جرمانے کی رقم واپس کرنے کے بعد شعیب اختر کو بھی کوچنگ کیلیے پیشکش ہو چکی، یہ دونوں اور دیگر بعض سابق اسٹارز یقیناً بڑا نام ہیں مگر یہاں انھیں نوازنے کا مقصد کرکٹ نہیں اپنی خدمت کرانا ہے۔

پی ایس ایل قریب آ چکی، نجم سیٹھی نہیں چاہتے کہ کوئی مسئلہ سامنے آئے اسی لیے باسط علی کو ایڑی چوٹی کا زور لگا کر واپس لائے، مجھے شہریارخان کی بے بسی پر افسوس ہوتا ہے، نجانے وہ کب تک ڈمی چیئرمین بنے رہیں گے، انھوں نے ورلڈکپ کے بعد اسٹینڈ لے کر ہارون رشید سے استعفیٰ لیا مگر نجم سیٹھی نے واپسی کیلیے کوشش شروع کر دی، کئی پلانز بنے مگرمعاملہ میڈیا میں آنے پر وقتی طور پر دب گیا، اب باسط کو ہٹانے کا پریس ریلیز تک جاری ہو گیا تھا، لیکن پرانی پوسٹ پر واپس لا کر خود اپنا مذاق اڑوایا گیا، تھپڑ کی گونج پی سی بی کے ایوانوں میں دب کر رہ گئی۔

اگر یہ تنازع نہ ہوتا تو پہلے ویمن ٹیم کی جانب سے سابق کوچ کی شکایت، ناقص سلیکشن سمیت میرٹ پر بھی ان کی کسی بھی پوسٹ پر واپسی کا کوئی سوال نہیں بنتا تھا مگر ایسا ہوا،اس سے صاف ظاہرہے کہ بورڈ حکام کو کھیل کی بہتری میں کوئی دلچسپی نہیں، بس اپنی سیٹ بچانا چاہتے ہیں، محمد الیاس اگر سخت بیانات نہ دیتے تو شاید ہی لوگوں کو پتا چلتا کہ اس نام کا کوئی سابق کرکٹر بھی ہے،مگر اب وہ بڑی بڑی پوسٹ پر براجمان ہو جاتے ہیں، منظور نظر لوگوں کو نوازنے کیلیے بنائی گئی کلب کرکٹ کی پوسٹ پر ان کا تقرر ہوا، اب ویمن ٹیم کی سلیکشن کمیٹی کا سربراہ بھی بنا دیا گیا، یہ کیا مذاق ہے؟

کیا دیگر سابق کرکٹرز پاکستان چھوڑ گئے جو انہی لوگوں کو نوازا جاتا ہے، اس وقت ملکی کرکٹ میں سفارشی کلچر زوروں پر ہے ،چاہے کوچز، منیجرز یا سلیکٹرز جو بھی ہوں اگر آپ کی پہنچ اونچی ہے تو پوزیشن بھی بڑی ملے گی، حکام نے کس بے دردی سے بورڈ کی رقم اڑائی اس کا اندازہ قومی اسمبلی میں ارسال کردہ حسابات کی رپورٹ دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے، ٹورز پر کروڑوں پھونکنے کا تو میں پہلے ہی انکشاف کر چکا تھا، اب یہ بھی علم ہوا کہ کھیل کے فروغ سے زیادہ رقم تو انتظامی اخراجات کے نام پر خرچ کر دی گئی۔

اعلیٰ حکام اپنے منظور نظر لوگوں کو ٹورز پر بھیج کر انھیں سیر کرانے کے ساتھ ڈیلی الاؤنس و دیگر مدمیں لاکھوں کمانے کا موقع بھی دیتے ہیں، بات پھر وہی آ جاتی ہے کہ انھیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، سب اپنے اپنے فوائد حاصل کرنے میں لگے ہیں، حکومت اپنے آپ کو بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہے، اس کی ترجیحات میں شاید کرکٹ کا سب سے آخری نمبر ہو، گورننگ بورڈ ارکان تو ربڑ اسٹیمپ ہیں، وجوہات کا کئی بار ذکر بھی کر چکا، ان باتوں نے بورڈ حکام کو شیر بنا دیا، وہ من مانیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، انھیں کسی کا ڈر باقی نہیں، خاموشی سے نئی بھرتیاں بھی شروع کر دی گئی ہیں،معاملات آئندہ مزید بگڑنے کا خطرہ ہے، جب تک ارباب اختیار ہوش کے ناخن لیں گے شاید بہت دیر ہو چکی ہو گی۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s