آپریشن کلین اپ کی تیاری؛ چلے ہوئے کارتوسوں سے چھٹکارہ پانے کا فیصلہ

پاکستانی ٹیم میں آپریشن کلین اپ کی تیاری شروع ہوگئی، چلے ہوئے کارتوسوں سے چھٹکارہ پانے کا فیصلہ کر لیا گیا، اس ضمن میں چیئرمین پی سی بی نے چیف سلیکٹر انضمام الحق سے ابتدائی مشاورت مکمل کر لی۔

شہریارخان کا کہنا ہے کہ ویسٹ انڈیز سے سیریز کیلیے کئی نوجوان کھلاڑیوں کو منتخب کیا جائے گا،ہم ینگ اور متحرک ٹیم بنانا چاہتے ہیں، ایک خصوصی کیمپ بھی لگے گا جس میں فیلڈنگ پر زیادہ توجہ ہوگی۔ ان کے مطابق آسٹریلیا میں ٹیم کی کارکردگی مایوس کن رہی، اتنے زیادہ کیچز ڈراپ کر کے کیسے فتح کا سوچا جا سکتا ہے؟ چیئرمین کا کہنا ہے کہ دورانِ سیریز اظہر علی کے حوالے سے بات نہیں کرنا چاہتا، کپتانی کے حوالے سے فیصلہ چند روز میں ہوگا،ان کے مطابق ریٹائرمنٹ کا فیصلہ اب مصباح الحق پر چھوڑ دیا، وہ جو بہتر سمجھیں ویسا قدم اٹھا سکتے ہیں۔ شہریار خان نے ان خیالات کا اظہار خصوصی انٹرویو میں کیا۔

دورئہ آسٹریلیا میں قومی ٹیم تینوں ٹیسٹ ہار کر کلین سوئپ کا شکار ہوئی۔ اب ون ڈے سیریز بھی3-1 سے گنوائی جا چکی، جمعرات کا آخری میچ محض رسمی کارروائی ہوگا، پی سی بی حکام بھی ناقص پرفارمنس پر سخت تشویش کا شکار اور چند ناکام سینئرزکو فارغ کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں، اس حوالے سے شہریارخان نے کہا کہ آسٹریلیا میں ٹیم کا کھیل مایوس کن رہا، فیلڈنگ خصوصاً کیچنگ میں خراب کارکردگی زیادہ افسوس کا باعث بنی، تیسرے ون ڈے میں بھی حریف کھلاڑیوں کو کئی مواقع دیے جبکہ چوتھے میچ میں تو 5 کیچز ڈراپ کر دیے، اتنی غلطیوں کے بعد کیسے فتح حاصل کی جا سکتی ہے؟

چیئرمین پی سی بی نے کہا کہ ویسٹ انڈیز سے سیریز کیلیے ہم کئی نوجوان کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کریں گے، ڈومیسٹک سیزن اور اب پی ایس ایل میں بھی سب کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد اہم فیصلے ہوں گے،میری اس حوالے سے چیف سلیکٹر انضمام الحق سے بھی ابتدائی بات چیت ہو چکی، ہم ایک ینگ اور متحرک ٹیم بنانا چاہتے ہیں، خصوصی کیمپ بھی لگایا جائے گا جس میں فیلڈنگ پر زیادہ توجہ دیں گے۔

شہریار خان نے کہا کہ اس وقت ٹیم کا یہ بھی مسئلہ ہے کہ ہم 270 سے زیادہ رنز نہیں بنا پا رہے، جدید دور کی کرکٹ میں فتح کے لیے متواتر300پلس اسکور ضروری ہے، رن ریٹ شروع سے اچھا رکھنا اہم اور مجھے یقین ہے کہ کوچز اس حوالے سے کام کر رہے ہوں گے۔شہریارخان نے کچھ روز قبل کہا تھا کہ آسٹریلیا سے ون ڈے سیریز کے بعد اظہر علی کی کپتانی کے حوالے سے کوئی فیصلہ کریں گے۔ اس سوال پر انھوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ٹیم سیریز ہار چکی مگر ابھی ایک میچ باقی ہے، اس سے پہلے کچھ کہنا مناسب نہ ہو گا، سیریزکے بعد کپتانی کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔

بورڈ کے سربراہ نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کا فیصلہ اب مصباح الحق پر چھوڑ دیا ہے۔ وہ جو بہتر سمجھیں ویسا قدم اٹھا سکتے ہیں، ان دنوں یقیناً وہ اس بارے میں سوچ رہے ہوں گے، اگلی سیریز میں ابھی وقت ہے،2،3 ہفتوں میں شاید وہ ذہن بنا لیں،ہم  الوداعی میچ وغیرہ کا تونہیں سوچ رہے مگر مصباح کی ملکی کرکٹ کیلیے بڑی خدمات ہیں، وہ کامیاب ترین پاکستانی ٹیسٹ کپتان ہیں، ان کو شایان شان انداز سے خراج تحسین ادا کیا جائے گا۔

انضمام الحق کی زیرقیادت سلیکشن کمیٹی کی کارکردگی کے سوال پر شہریارخان نے کہا کہ ہار جیت تو ہوتی رہتی ہے، ساری ذمہ داری کسی ایک پر نہیں ڈالی جا سکتی، پاکستانی ٹیم کو ٹورز کی تیاری کا زیادہ وقت نہ ملا، نیوزی لینڈ میں2 ٹیسٹ کے بعد پھرآسٹریلیا آکرکھیلنا پڑا، کنڈیشنز سے ہم آہنگی میں مشکل ہوئی، پھر خراب فیلڈنگ نے رہی سہی کسر پوری کر دی۔ کھلاڑی کافی عرصے سے مسلسل کھیل رہے ہیں تھکاوٹ کا شکار بھی نظر آئے مگر انٹرنیشنل کرکٹ میں ناکامی کا یہ کوئی عذر نہیں ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s