کراچی کے تیرہ مقامات مجرموں کی آماجگاہ بن گئے

شہر قائد میں کئی مقامات اسٹریٹ کرائم کا گڑھ بن چکے ہیں۔ سی پی ایل سی نے تیرہ مقامات پر زیادہ وارداتوں کی نشاندہی کردی۔ پولیس پھربھی شہریوں کےتحفظ میں ناکام ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سڑکوں کی حلات بہتر نہ ہونے تک جرائم پر قابو پانا مشکل ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق کراچی کے جرائم ہپیشہ افراد جن کیلیے رات کا اندھیرا ٹوٹی پھوٹی سڑکیں اورٹریفک جام معاون ومددگار بنے ہوئے ہیں۔ سی پی ایل سی کی رپورٹ میں کراچی کے تیرہ مقامات کو جرائم ہپیشہ افراد کی آماجگاہ بتایا گیا ہے۔

رپورٹ میں جن علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان میں زیادہ تر علاقے ایسٹ زون میں آتے ہیں، الہ دین پارک، نیپا چورنگی، گلشن چورنگی، میلینئم مال، طارق روڈ ، خالد بن ولید روڈ، شاہراہ فیصل بلوچ کالونی، یونیورسٹی روڈ، نورانی کباب چورنگی، محمود آباد، عیسیٰ نگری، پی آئی بی کالونی، قائد آباد اور لانڈھی کورنگی کے بیشتر علاقے شامل ہیں۔

ان علاقوں میں لوگ روزانہ ان رہزنوں کے ہاتھوں نقدی اورموبائل فون اوردیگر قیمتی اشیاء سے محروم ہو رہے ہیں، دن دہاڑے وارداتوں کے باعث لوگوں میں خوف وہراس پھیل رہا ہے۔

کراچی میں گزشتہ سال 33 ہزار سے زائد موبائل دون چھیننے کی وارداتیں ہوئی ہیں۔ پولیس کا کہن اہے کہ جرائم کی بڑی وجہ سڑکوں کی زبوں حالی ہے، جس کی وجہ سے ملزمان با آسانی فرا ہو جاتے ہیں۔

سی پی ایل سی کی چشم کشا رپورٹ کے باوجود شہر کے ایک سو تیرہ تھانوں کی پولیس ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی ہے اور ان تیرہ مقامات پر شہریوں کو تحفظ دینےمیں ناکام نظرآتی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جب تک سڑکوں کی حالت بہترنہیں ہوتی،اسٹریٹ کرائم کےجن کو بوتل میں بند کرنابہت مشکل ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s