سرکاری افسروں کے بڑے گھر،1ارب سے زائدسالانہ خرچہ

پاکستان میں میانہ روی کا رجحان برائے نام رہ گیا،بیورو کریسی کی سرکاری رہائش گاہوں کی تز ئین و آرائش پر سالانہ کروڑو ں روپے کا بجٹ مختص کیاجانے لگا، یورپی ملکوں میں سرکاری افسر و اعلیٰ عہدیدار چھوٹے گھروں میں رہتے ہیں جبکہ پنجاب میں سرکاری افسروں کو الاٹ کئے گئے گھر کئی کئی کنال پر محیط ہیں اوران کی مرمت کے نام پر سالانہ 1 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے سے زائد کی رقم خرچ کی جاتی ہے ۔حکومت کی جانب سے اخراجات میں کمی اور شاہ خرچیوں پر قابو پانے کے حوالے سے کئے گئے اعلان صرف کاغذوں کی حد تک محدود رہ گئے اورمنظور نظر افسروں کے گھروں کی مرمت کے لئے زائد فنڈز بھی دئیے جاتے ہیں ۔
ذرائع کے مطابق کمشنر سرگودھا کی کوٹھی104 کنال پر محیط ہے یہ پاکستان میں کسی بھی سرکاری ملازم کی سب سے بڑی رہائش گاہ ہے اوروہاں 33ملازم رکھے گئے ہیں۔دوسرے نمبر پر ایس ایس پی ساہیوال کی کوٹھی ہے جس کا رقبہ 98کنال ہے ،ڈی سی میانوالی کی کوٹھی کا سائز 95کنال اور ڈی سی فیصل آباد کی رہائش گاہ 92کنال پرمحیط ہے ۔
پنجاب پولیس کے ڈی آئی جیز اور 32ایس ایس پیز کی رہائش گاہیں 860کنال پر مشتمل ہیں۔ڈی آئی جی گوجرانوالہ 70کنال، ڈی آئی جی سرگودھا 40کنال،ڈی آئی جی راولپنڈی 20کنال ،ڈی آئی جی فیصل آباد20کنال ،ڈی آئی جی ڈیرہ غازی خان اور ڈی آئی جی ملتان 18کنال اور ڈی آئی جی لاہور15کنال کے محلات میں رہتے ہیں۔ ایس ایس پی میانوالی 70کنال،ایس ایس پی قصور20کنال،ایس ایس پی شیخوپورہ32کنال،ایس ایس پی گوجرانوالہ 25کنال،ایس ایس پی گجرات 8کنال،ایس ایس پی حافظ آباد10کنال، ایس ایس پی سیالکوٹ 9کنال، ایس ایس پی جھنگ18کنال،ایس ایس پی ٹوبہ ٹیک سنگھ5کنال، ایس ایس پی ملتان13کنال،ایس ایس پی وہاڑی 20کنال ،ایس ایس پی خانیوال 15کنال ،ایس ایس پی پاکپتن 14کنال ،ایس ایس پی بہاولپور15کنال ،ایس ایس پی بہاولنگر 32کنال ،ایس ایس پی رحیم یارخان 22کنال ،ایس ایس پی لیہ 6کنال ،ایس ایس پی راولپنڈی5کنال،ایس ایس پی چکوال 10کنال ،ایس ایس پی جہلم 6کنال ،ایس ایس پی اٹک 29کنال ،ایس ایس پی خوشا ب 6کنال ،ایس ایس پی بھکر8کنال،ایس ایس پی راجن پور37کنال اور ایس ایس پی نار ووال10کنال کے سرکاری گھروں میں رہائش پذیرہیں۔
پولیس کے ان سرکاری محلات کی حفاظت ،مرمت اور تزئین و آرائش پر ہر سال 80 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوتے ہیں جو تین بڑے ہسپتالوں کے سالانہ بجٹ کے برابر ہے ۔ذرائع کے مطابق 2ہزار 6سو6 کنال پر مشتمل ان رہائش گاہوں کی دیکھ بھال کے لئے 30ہزار ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ملازمین ہیں جن کی تنخواہوں اور ان محلات کے باغیچوں کی حفاظت کے لئے سالانہ36کروڑ روپے کا بجٹ دیا جاتاہے ۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق تمام رہائش گاہیں مذکورہ شہروں کے مرکزی علاقوں میں واقع ہیں جہاں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں اوران جگہوں کو بیچ کر 70سے 80ارب روپے پنجاب حکومت کو حاصل ہو سکتے ہیں۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s