ماری چھوریاںچھوروںسے کم ہیںکے؟؟؟؟

احمداعوان
ahmedawan1947@gmail.com

گرسلورجیتی توآج نہیںتوکل لوگ تنے بھول جاویںگے۔جے گولڈجیتی مثال بنڑھ جاوے گی اورمثالیںدی جاتی ہیںبیٹابولی نہیںجاتیں۔۔۔۔۔
عامرخان حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم دنگل میں یہ نصیحت اپنی بیٹی کوکرتاہے فلم میںگیتااوربابیتادوبہنیں ہیںعامرخان کے گھرلڑکانہ ہونے کی وجہ سے کافی مایوسی چھائی ہوتی ہے کیوںکہ عامرخان اپنے بیٹے کوریسلنگ کاعالمی چیمپیئن بناناچاہتاتھامگرلڑکااس کے نصیب میںنہیںتھا پھرایک دن اس کی بیٹیاںگیتااوربابیتامحلے کے لڑکوں کودھوآتی ہیںجس کے بعدعامرخان کے دماغ میںیہ فطورآتاہے کہ رے جے بات تو مارے دماغ میں آئی ہی نہیں کہ میڈل تو میڈل ہوتا ہے چاہیے چھوری لاوے جے چھورااسی دن سے عامرخان اپنی بیٹیوںکوپہلوان بنانے کی تیاریاںشروع کردیتاہے شروع شروع میں لڑکیاںاپنی فطرت کی وجہ سے شرماتی ہیںمگرجلد ہی بے حیااوربے غیرت باپ کے زیرسایہ پرورش پانے کی وجہ سے بیٹیاںبھی باپ جیسی ہوجاتی ہیںاسی طرح فلم آگے بڑھتی ہے فلم نے اب تک تقریبا تمام سابقہ ریکارڈتوڑدیئے ہیں،کھڑکی توڑنمائش جاری ہے دلچسپ باتیںاس وقت سامنے آتی ہیںجب انٹرنیٹ پرآپ فلم کے ایکسٹرا شارٹ دیکھیںان میں،فلم میں کام کرنے والی طوائفوں( ہماری تہذیب ہماری علمیت ہماری تاریخ میں جوعورت کسی بھی مردکے ساتھ آسانی سے میل ملاپ کرسکے اسے طوائف یارنڈی ہی کہاجاتاہے )نے بتایاہے کہ ہم نے اس فلم کے لیے 6مہینے کشتی کی تربیت حاصل کی اورہم ہفتے میں 6دن تربیت حاصل کرتی تھیںایک طوائف نے بتایاکہ شروع شروع میں تربیت اتنی سخت تھی کہ ہم صبح اٹھ کرکہتے تھے کہ ہم جاگ کیوںگئے ہم مرکیوںنہیںگئے؟مگرسخت دردتکلیف کے باوجود ہم نے صبرکیااورکسی کواپنے دردکانہیںبتایاکہ کہیںایسانہ ہوکہ ہمیں فلم دنگل سے نکال دیاجائے ،لڑکیوں نے یہ درد کیوں برداشت کیا اس پر آگے چل کر بات کریں گے اسی طرح ایک کم عمرکی طوائف نے دوران انٹرویوبتایاکہ میںگھرمیں کوئی کام نہیںکرتی تھی بس بیٹھی رہتی تھی مگرمجھے فلم کے لیے سخت محنت کرنی پڑی ہے ،ایک طوائف نے توبہت عجیب بات کہی اس نے کہا کہ میں اسکول پڑھنے گئی ہوئی تھی واپس آئی تومجھے میری ماںنے کہا کہ تمہارے لیے فون تھاتمہیں اداکاری کاامتحان دینے بلایاہے اس طوائف نے بتایاکہ اس دوران میری ماںمجھے مسلسل سرسے پاﺅںتک دیکھتی جارہی تھی میںنے ماںسے کہاOK۔ماںنے کہاتمہیںمعلوم ہے؟ تم فلم میں کس اداکار(کنجر)کے ساتھ کام کروگی؟ عامرخان،اس کے بعدماںنے انگریزی میں کہا کہ کیاتم اس قابلیت کی حامل ہوکہ تم عامرخان جیسے عظیم فنکار کے ساتھ کام کرو؟ یہاںمجھے پاکستانی طوائف اورفلم رئیس کی ہیروئن کاوہ جملہ یادآگیاکہ وہ بتاتی ہے کہ جب میں نے اپنی ماںکوبتایاکہ مجھے شارخ خان کے ساتھ کام کرناہے تومیری ماںرونے لگی۔اب ماںیہ سوچ کے رورہی تھی کہ اب پرائے دیس میں میری بیٹی کے ساتھ کیاکیاہوگا؟یاماںاس وجہ سے رورہی تھی کہ ہم جیسے کم ذات کنجروںکی اللہ نے سن لی اب ہم اونچے کنجروںمیں شمارکیئے جاینگے؟؟ اس بات کاپاکستانی طوائف نے کوئی واضح جواب نہیںدیا،یہاںتک پڑھ لینے کاشکریہ اب کچھ بنیادی سوالات کی طرف آجاتے ہیں۔یہ اداکار،فنکار،موسیقار،ماڈل کون ہوتے ہیں؟یہ پیشے کب عزت کے قابل سمجھے جانے لگے؟ان پیشوںمیں کب پڑھے لکھے اورشریف گھروںکے بچے بچیاںشامل ہوئے ؟یہ سوالات اہمیت کے حامل ہیں،17ویںصدی میں جب برطانوی فلسفی اورماڈرن ازم کے بانیوںمیں شمارکیاجانے والا جان لاک (JOHN LOCK) نے ٰیہ خیال دنیاکے سامنے پیش کیاکہ میراجسم میری ملکیت ہے۔ توفلسفے کی دنیامیںایک ہنگامہ برپاہوگیاتھا۔اس جان لاک (JOHN LOCK)نے خیال پیش کیاکہ کیونکہ خداکااب (نعوذبااللہ)وجود نہیں رہا اس لیے میں خود اپنا خدا ہوں کیونکہ میں سوچتا ہوں میرے پاس عقل ہے لہٰذا میں اپنا اچھا برا خود تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں ۔اسی علمیت کی بنیاد پر آج امریکا اور یورپ میں طوائف کو Sex Worker کانام ملا ہے۔ جب جسم میری ملکیت ہے تو میں اپنا جسم کسی کو بھی بیچ دوں،کسی کو تحفے کے طور پر دوں ،یا کسی کو کرائے پر دوں ،کوئی کون ہوتا ہے مجھے بتانے سمجھانے اور روکنے والا ؟ یہیں سے جو سلسلہ چلا تو اس کی انتہاءکے قریب قریب زمانے میں ہم اور آپ زندہ ہیں۔ آج اسی فلسفے اور عقیدے کے نتیجے میں برطانیہ میں ماں کا دودھ ایک اونس، ایک پاو¿نڈ میں بک رہا ہے۔ ماں کے دودھ کی پنیربن رہی ہے۔ یہ مائیں جو اپنا دودھ مارکیٹ کو بیج رہی ہیں یہ کون ہیں ؟ یہ غریب فقیر نہیں ہیں بلکہ یہ خواتین زیادہ پیسہ کمانے زیادہ دنیا کا مزہ لینے زیادہ سہولتیں لینے کے لیے اپنا جسم نہیں ،بلکہ اس سے بڑھ کر اپنا دودھ فروخت کررہی ہیں۔ مشہور مغربی فلسفی Slavoj Zizer جوکہ اپنی گفتگو میں میں بے شمار گالیاں دیتا ہے اور اس کو ابلاغ کا بہترین ذریعہ بتاتا ہے۔ اس نے توکہا تھا کہ ہر وہ چیز ،جو بک سکتی ہے، وہ فروخت ہوگی۔ یہ اس تہذیب اس تاریخ، اس معاشرت ، اسی علمیت کا نقط عروج ہے کہ ریاستیں طوائفوں سے ٹیکس لیتی ہیں طوائفوں کی کمائی کھاتی ہیں، مائیں کرائے پر اپنی کوکھ دیتی ہیں دواجنبیوں کا بچہ کوئی تیسری عورت اپنے پیٹ لیے گھومتی ہے مائیں بڑے بڑے اسٹوروں پر اپنا دودھ فروخت کررہی ہیں۔ یہ ہے ترقی یافتہ دنیا، یہ ہے آزادی، یہ ہے مساوات ،یہ ہے پڑھے لکھوں کی دنیا۔ یہ طنز نہیں ہے یہ ایک پوری علمیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دنیا سے آپ کو متعارف کروارہا ہوں ، اس علمیت کے ماننے والوں کو ہمارے یہاں اب تک لوگ ہندو، عیسائی ، یہودی، کے ناموں سے پکارتے ہیں حضرت یہ سرمایہ دار ہیں عیسائی یہودی اور کچھ کچھ مسلمان بھی کب کے مرگئے سترھویں صدی میں۔ اب صرف پیسہ، مال دولت اور سرمایہ ،زندگی میں آپ کی عزت کا تعین کرتے ہیں۔ میرا سوال ان دو نمبر لبرل اور سیکولر آنٹیوں سے ہے کہ وہ دنگل میں کام کرنے والی گیتا ، بابیتا کے اس اعترافی بیان کے بعد کہ ہمیں کشتی سیکھنے کے دوران اتنا درد ہوتا تھا کہ ہم کہتی تھیں ہم مر کیوں نہیں جاتےں ۔۔۔۔۔۔اس پر کوئی احتجاج کیوں نہیں کررہی ہیں ؟اس پر میڈیا بھی خاموش ہے کیوں؟ انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس پر احتجاج نہیں کررہی ہیں ؟ان کی خاموشی کسی وجہ سے ہے ؟ یا بلاوجہ ہے؟دراصل ان سوالات کے جواب میںسترھویں صدی کے بعد کا عقیدہ آزادی چھپاہوا ہے ۔ یہ سب اس لیے احتجاج نہیں کررہے ہیں کیونکہ گیتا اور بابیتا ، درد پیسوں کے لیے برداشت کرتی رہی ہےں اور پیسے کے لیے درد برداشت کرنا آج کی دنیا میں جائز ہے ۔یہ گیتا اور بابیتا کا خود انتخاب کیا ہوا خیر ہے یہ ان کا اپنی مرضی سے کیا جانے والا فیصلہ ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کے عیوض ان کو بہت سارے پیسے ملے ہیں ؟ اس لیے یہ ظلم ناانصافی اور جبر کے زمرے میں نہیں آئےگا،البتہ عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ کھیتوں میں کام کرنا یا کسی بھٹہ مزدور کی بیوی کا شوہر کے ساتھ بھٹے پر کام کرنا ،آج کی جدید دنیا کی نظر میںاور انسانی حقوق کے عالمی منشور کی روشنی میں جبر ہے اور زبردستی ہے اگر متعلقہ خواتین کہہ بھی دیں کہ ہم رضامندی کے ساتھ اپنے شوہروں کا ہاتھ بٹاتی ہے، تو انسانی حقوق کا عالمی منشور اور NGOs کہےں گی کہ یہ عورت دراصل شعور نہیں رکھتی، کہ اس کے ساتھ کیسا ظلم کیا جارہا ہے ، کیونکہ یہ پڑھی لکھی نہیں ہے یہ اپنے حقوق جانتی نہیں ہیں اس لیے ایسی خواتین کی تعلیم کا بندوبست کیا جائےگا ۔انسانی حقوق کا عالمی منشور اور سرمایہ داری یہ چاہتے ہیں کہ عورت جو کمائے وہ اس کے ہاتھ میں آئے ، وہ اس کو اپنی مرضی سے خرچ کرے ، اور کسی کو جوابدہ نہ ہو۔ایسی عورت جدید علمیت کی روشنی میں آزاد اور محفوظ تصور کی جاتی ہے۔شائستہ واحدی جو کہ مشہور صبح کا شو کرنے والی اداکارہ ہے وہ اپنے انٹرویو میں کہتی ہیں کہ میں روزانہ 2گھنٹے میک اپ کرواتی ہوں اور پھر 2 گھنٹے لگتے ہیں اس میک کو اتارنے میںکیا یہ آزادی ہے؟ اس کو عورت کی آزادی کہتے ہیں ؟ اگر یہ کام شائستہ واحدی سے اس کا شوہر کرنے کو کہتا کہ تم روز میرے لیے 2 گھنٹے تیار ہونے میں لگایا کرو تو یہ ظلم ہوتا اس کا شوہر نفسیاتی اور وحشی درندہ کہلاتا لیکن سرمائے کی خدمت کے لیے کیا جانے والا عمل پروفیشنل ازم کہلائے گا؟؟؟؟گیتا اور بابیتا سے دنگل فلم کے لیے جتنی محنت کروائی گئی وہ جدید علمیت کی روشنی میں جائز ہے کسی کراچی یونیورسٹی کی ایم اے لڑکی کا ٹوبہ ٹیک سنگ کے گاو¿ں میں فصل کاٹنا ظلم وزیادتی جبر اور سسرال والوں اور شوہر کا تشدد ہوگا؟آج کی جدید دنیا میں یہ ظلم وجبر اور درندگی کہلائے گا مگر اسلامی علمیت اسلامی تہذیب میں یہ قربانی کہلائے گا کیونکہ ہماری علمیت میں عورت اور مرد دونوں قربانیاں دیتے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرے میں ان کے حقوق پیدا ہوتے ہیں جس معاشرے میں قربانی نہ ہو وہاں صرف حقوق ہی حقوق رہ جاتے ہیں ایسے معاشرے میں مسائل کے انبار لگ جاتے ہیں آج چین اور بھارت میں قانون سازی ہورہی کہ اولاد بوڑھے ماں باپ کو نہ سنبھالے تو ان کو سزا ملے گی۔ سوال یہ ہے کہ جس ماں اور باپ نے بچپن میں اولاد کو صرف پیسہ کمانے کا فن سیکھایا اور ان کو صرف مال کمانے کو خیر کے طور پر پیش کیا ان کی اولادیں ایسے ماں باپ کو بڑھاپے میں کس علمیت اورعقیدے کی روشنی میں اپنے ہاں رکھیں ؟ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم مغرب کے سترھویں صدی کے بعد پیدا ہونے والے بنیادی عقائد کو آج تک نہیں سمجھ سکے آزادی، مساوات اور ترقی اہل مغرب کے لیے آج انجیل مقدس کا مقام رکھتی ہے اور ہر وہ عمل جو مزید آزادی دلائے وہ جائز ہے، اور ہر وہ عمل جو آزادی کے عقیدے کے راستے میں رکاوٹ بنے وہ حرام ، ناجائز اور جرم کہلائے گا ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے لوگ آج کے مسائل کو مذہبی سوچ کی روشنی میںدیکھتے ہیں جبکہ اہل مغرب کے ہاں سے مذہب کو رخصت ہوئے تین صدیاں گزر گئی ہیں کم ازکم جو لوگ اسلامی انقلاب کے داعی ہیں ان کو جدید علمیت اور اس کے مسائل کو اصل حالت میں سمجھنا چاہیے اسلامی انقلاب سے پہلے اسلام علمیت ، اسلامی تاریخ ، اپنے انبیاء، اپنے صحابہؓ اپنے اکابرین اور ان کے افعال واعمال کو قبول کرنا ہوگا۔ قومیں شکست نہیں کھاتی ہیں بلکہ ایک علمیت ہارتی ہے تو دوسری علمیت غلبہ پاتی ہے۔ علمیت پر کسی قوم کا ایمان قائم رہے تو موسی ؑ دربار میں رہ کر غلبہ حاصل کرلیتے ہیں یوسف ؑ قید خانے سے تخت تک پہنچ جاتے ہیں اور رسولﷺ ہجرت کرکے مکہ فتح کرلیتے ہیں ۔اگرکسی کو گیتا اور بابیتا جیسی بیٹیاں پسندنہیں ہیں اور وہ اپنی بیٹیوں کا اسکول، کالج اور یونیورسٹی بھیج کر بھی ایسا مستقبل دینا نہیں چاہتا َ؟ تو وہ اپنی علمیت پر فخر کرنا سیکھے۔ اگر ہم اسلامی علمیت پر ایمان لائے بغیر جدید علمیت پر تنقید کرینگے ،تویقین کریں کہ ہم خود نقصان اٹھائینگے اور جدید علمیت کے زیرسایہ پروان چڑھے باپ کہتے رہیںگے ماری چھوریاںچھوروںسے کم ہیںکے۔؟؟

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s