مولاناسلیم اللہ کوکوریج کیوںنہ ملی ؟

احمداعوان

ahmedawan1947@gmail.com

مولاناسلیم اللہ خان صاحب ایک بزرگ ہستی تھے۔ان کے انتقال سے ان کے چاہنے والوںکوشدیدصدمہ پہنچاہے ،ان کے شاگردوںکی تعدادہزاروںمیںہے۔اللہ پاک مولاناصاحب کی مغفرت فرمائیں(آمین)مولاناسلیم اللہ خان صاحب کے انتقال کومیڈیانے ویسی کوریج نہیںدی جیسی میڈیانے جنیدجمشیدصاحب کے انتقال کودی تھی۔یہ سوال لے کرکچھ مذہبی اشخاص بہت دکھ کااظہارکررہے ہیں،کہ میڈیانے ایسا کیوںکیا؟میڈیاکوایسانہیںکرناچاہئے تھا۔میڈیاکاکام تھاکہ وہ نصرت فتح علی خان کی غزل عشق ڈاڈاغم نہ کوئی ،کامیوزک مدھم آوازمیں بیگ گراﺅنڈمیں چلاکرمولاناصاحب کوبھی خراج عقیدت پیش کرتا،مولاناصاحب پر2منٹ کے مختصر پروگرام بنائے جاتے ان کی زندگی کے مختلف گوشوںکواجاگرکیاجاتا،ان کے شاگردوںکی روتی آوازیںدنیاکوسنائی جاتی ،اورپردے کے پیچھے کسی غم کی ماری لڑکی کی آوازمیں کمنٹری چلتی کہ ، ”مولاناسلیم اللہ خان اب ہم سب کوچھوڑگئے ہیں“۔خبریںپڑھنے والے بھی دکھ کی تصویربنے ہوتے ،اگرایساہوتاتوہمارے مذہبی لوگ کہتے ہاںاب ٹھیک ہے،اب میڈیامسلمان ہوگیاہے۔یہ اچھامیڈیاہے،اسلام میں ایسامیڈیاچل سکتاہے ۔شکرخداکاکہ میڈیانے یہ سب نہیںکیا،کیونکہ میڈیاکے کرتادھرتابالکل پکے سچے لبرل ہیں،اوروہ اپنے عقیدے کی حفاظت کرتے ہیں،وہ عقیدے کے لیے قربانی دیتے ہیں،وہ سمجھوتانہیںکرتے ،اس لیے انہوںنے میڈیاکے عقیدے کے مطابق ایک خالص مذہبی آدمی کونمایاںکوریج نہیںدی۔جوکہ میڈیاکی اخلاقیات کے لحاظ سے بالکل درست ہے۔اگرکسی کونہیںمعلوم کہ میڈیاکاعقیدہ کیاہے ؟تووہ پہلے میڈیاکے عقیدے کاعلم حاصل کرے،اس بات کوسمجھے کہ میڈیاپیداکیوںہواہے؟اس کی پیدائش کی وجہ کیاہے؟یہ کیسے کام کرتاہے؟اورکس کے لیے کام کرتاہے؟یہ تمام معلومات آج دستیاب ہیں۔یہ کوئی مغربی سازش نہیںہے یہ ایک عقیدہ ہے ،یہ ایک مکمل سچ ہے۔فرض کریںکہ اگرمیڈیامولاناسلیم اللہ خان صاحب کوکوریج دے دیتاتومیراسوال مدارس کے طلبہ اوراساتذہ کرام سے ہے کہ ،کیاپھرمیڈیاپرہونے والی تمام حرکات اسلام کے دائرے میں آجاتیں ؟پھرعورتوںمردوںکامیل میلاپ درست قرارپاتا؟پھرمیڈیاحلال ہوجا؟پھرگناہ ثواب کا پیمانا وہی رہتا جورسول ﷺصحابہ کرام اورمولاناسلیم اللہ خان صاحب پڑھاتے رہے ہیںیاپیمانابدل جاتا ؟اوراگرپیمانا وہی رہتا جوہماری علمیت ،ہماری تاریخ ،ہماری ما بعدالطبیعات سے نکلتا ہے توپھردکھ کس بات کا؟کہ میڈیانے نمایاںکوریج کیوںنہیںدی؟اوراگرمیڈیانے کوریج نہیںدی توکیاہوا؟کیالوگوںکونہیںمعلوم ،کہ مولاناسلیم اللہ خان صاحب کون تھے؟کیامولاناسلیم اللہ خان صاحب میڈیاکی کوریج کے محتاج تھے؟ان کے جنازے میں شریک لوگوںکی تعدادبہت سے گلوکاروں،فنکاروں،ماڈلزاورسیاستدانوںکے جنازوںمیں شریک افرادکی تعدادسے کئی ہزارگناہ زیادہ تھی؟اورمجھے یقین ہے کہ جنازے میں شریک 99فیصد لوگوںکوجنازے کی دعابھی ضرورآتی ہوگی۔کیایہ اللہ پاک کامولاناصاحب پرکم انعام تھا؟اب آجاتے ہیںبھائی جنیدجمشیدکے جنازے کی پزیرائی کے موضوع پر،ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جنیدجمشیدصاحب کے جنازے کوبہت سے اداکاروں،اورسیاستدانوںکے جنازوںکی تشہیرسے بھی زیادہ تشہیرملی،مخدوم امین فہیم ایک زبردست سیاستدان تھے مگران کی وفات اورجنازے کی خبرجنیدجمشیدصاحب کی خبرسے بہت پیچھے رہی تھی ۔اسی طرح بہت سے فنکاروںجن کے چاہنے والے جنیدجمشیدصاحب سے ہزارگناہ زیادہ تھے ،ان کے جنازوںاورموت کی خبرکوبھی بہت کم کوریج ملی ہے۔تواگرلبرل لوگ اعتراض اورشکوہ کریں کہ میڈیاہمیںکسی مذہبی آدمی سے کم کوریج کیوںدیتاہے ؟توکیاان کاشکوہ درست ہوگا؟ان تمام باتوںکاجواب یہ ہے کہ ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے ،کہ جنیدجمشیدصاحب کومیڈیانے کوریج بطورسلیبر یٹی (Salubrity) دی ہے بطور مبلغ یامذہبی آدمی ہونے کے ناطے نہیںدی۔اورریاست نے جھنڈاایک سلیبر یٹی کے جنازے پرڈالاتھانہ کہ کسی مذہبی انسان پرسلبیرٹی ایک ایساشخص ہوتاہے جولوگوںکوتفریح فراہم کرتاہے ۔لوگ اس سے خوش ہوتے ہیں۔عامرلیاقت اس کی ایک بڑی مثال ہے۔آج کی دنیامیںہرجگہ سلیبریٹی کی مانگ ہے کیونکہ سلیبریٹی کاروبار دیتاہے۔ وہ سرمائے کی بڑھوتی کے عمل میں مددفراہم کرتاہے ۔اب یہ ایک اتفاق ہے کہ سلیبریٹی ایک مذہبی آدمی تھا۔جنیدجمشیدصاحب ایک پکے سچے راسخ عقیدہ مسلمان تھے ۔اللہ پاک نے ان کواونچا مقام عطاءکیاہے انشاءاللہ مگران کے جنازے کی تشہیرسے بعض سادہ لوح مسلمان یہ سمجھے کہ شائد ریاست نے کلمہ پڑھ لیاہے ۔اللہ پاک مولاناطارق جمیل صاحب کولمبی دے ،لیکن فرض کریں،کہ اگرمولاناصاحب انتقال فرماجائیںتوکیاکل مولاناطارق جمیل صاحب کے جنازے کووہی پروٹوکول ملے گا،جوجنیدجمشیدصاحب کے جنازے کوملا؟نہیںکبھی نہیںملے گا،البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ طارق جمیل صاحب کی وفات کی خبرپرصدروزیراعظم اورسیاستدان اظہارافسوس کردیںمگران کوریاست جھنڈے میں کبھی نہیںلپیٹے گی،یاہوسکتا ہے ممنون حسین جیساکوئی صدرجوشکیل اوج جیسے انسان کوعالم سمجھتاتھاجس کونہ انگریزی آتی تھی نہ عربی وہ صدرصاحب کی نظرمیںسب سے بڑاعالم تھااورصدرصاحب ایوان صدرمیں بیروکریسی کے لیے شکیل اوج صاحب کے لیکچرزرکھوانے کاپروگرام بھی رکھتے تھے۔ توایساکوئی صدرجنازے میں شرکت کرسکتاہے مگرریاست مولاناطارق جمیل ،کسی بخاری شریف کے محدث یاکسی شیخ پرجھنڈاکبھی نہیںڈالے گی ۔دراصل ریاست کااختیارکل جن کے ہاتھوںمیںہے،وہ پڑھے لکھے سمجھدارلبرل اشخاص ہیں۔ان کومعلوم ہے کہ عقیدے کی حفاظت کیسے کرتے ہیں،وہ ہرموقع پرکھل کراپنے لبرل عقیدے کی وضاحت کرتے ہیں۔اب اگرہمارے مذہبی افراداس سے کچھ نہ سیکھ پائیںتواس میں کس کاقصور ہے ؟جنیدجمشیدصاحب کے ایمان،تقوی پرکوئی دورائے نہیںہے لیکن وہ میڈیاپرآکرمیڈیاکوفائدہ پہنچارہے تھے۔جس سے میڈیاکے سرمائے میں بڑھوتی کے امکانات مستقبل میں بھی روشن تھے۔اورمیڈیانے کوریج دے کردوسرے علماءکوسمجھانے کی کوشش کی ،کہ اگریہ حضرات بھی میڈیا پرجنیدجمشیدصاحب کی طرح آناشروع کریںتومیڈیاان کوایسی ہی کوریج دے سکتا ہے ۔میڈیاایسے ہی نیک انسان کوقبول کرتاہے ۔میڈیاکہتاہے اگرآپ نیک ہیںتواچھی بات ہے لیکن آپ کی نیکی سے اگرہم میڈیاکوفائدہ پہنے تواس سے بڑی کیابات ہے ؟کیامولاناطارق جمیل Lays چپس کے اشتہارمیںآسکتے ہیں؟اگرآسکتے ہیں،تومیڈیاان کوبھی قبول کرے گاجنیدجمشیدصاحب کی طرح ۔مولاناسلیم اللہ خان صاحب کی صرف ایک شناخت تھی وہ حدیث کے استادتھے ۔وہ آخری عمرتک صرف مذہب پڑھاتے رہے ۔وہ کبھی میڈیاپرآکردرس نہیںدیتے تھے ۔وہ کسی تفریح پروگرام کی میزبانی کاسوچ بھی نہیںسکتے تھے ۔وہ توتصویرکی حرمت کے بھی قائل تھے۔توایسے انسان کویہ دنیاجس کاآج مذہب سرمایہ داری ہے ۔اورمیڈیااس مذہب کاسب سے اہم محافظ ہے ۔وہ ایک مذہبی ہستی اوردیانتداربزرگ کوکیوںتشہیردیتا؟اوراگرمیڈیانے تشہیرنہیں کی، توکیاہواہے؟ہم اپنی پوری اسلامی تاریخ کے بزرگوںکوکیا میڈیاکی وجہ سے جانتے ہیں؟سورج جب طلوع ہوتاہے تواس کے لیے کسی میڈیاکی ضرورت نہیںپڑتی ۔روشنی خود اپنی تشہیرہوتی ہے۔مولاناسلیم اللہ خان جیسے بہت سے بزرگوںکومیڈیاذرابھی کوریج نہ دے توان کے مقام پرکوئی اثرنہیںپڑتا۔ہمارے اکابرین ہمارے بزرگ ہمارے اولیاءکرام ہمارے امام ہمارے صحابہ ،ہمارے پیغمبرہمارے رسول ﷺاورہمارامالک خالق رازق اللہ پاک ہمارے دلوںمیں صدیوںسے زندہ ہے اورمرتے دم تک اورقیامت کے روزتک زندہ رہے گاہم اپنی علمیت اورتاریخ کی حفاظت کے لیے میڈیاکے محتاج نہیںاس لیے میڈیانے مولاناسلیم اللہ خان صاحب کوکوریج نہیںدی توہمیںکوئی فرق نہیںپڑتا۔اورمولاناسلیم اللہ خان کوکوریج نہ دینامیڈیاکے عقیدے کی روشنی میں درست بھی تھا۔اس لیے ہمیں معلوم ہے کہ میڈیانے مولاناسلیم خان کوکوریج کیوںنہیںدی؟

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s