میانمار میں معروف مسلم قانون دان قتل

میانمار کی حکمران جماعت کے رکن اور معروف مسلمان قانون دان کو اتوار 29 جنوری کو انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے باہر ٹیکسی ڈرائیور سمیت قتل کردیا گیا۔

آنگ سانگ سوچی کی حکمران جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی) کے رکن اور معروف مسلم وکیل ’کونی‘ کو مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے اُس وقت ٹیکسی ڈرائیور سمیت قتل کردیا گیا جب وہ ایئرپورٹ کے باہر ٹیکسی میں سوار ہوئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے’ اے ایف پی‘ نے ایئرپورٹ سیکیوٹی ذرائع کے حوالے سے اپنی خبر میں بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ایک نامعلوم شخص نے معروف وکیل کو اُس وقت قتل کیا جب انہوں نے ٹیکسی کرائی پر حاصل کی، بعد ازاں ملزم کو گرفتار کرلیا گیا۔

صدارتی ترجمان زاہٹے نے بتایا کہ معروف وکیل ’کونی‘ انڈونیشیا کے سرکاری دورے کے بعد وطن واپس پہنچے تھے۔

ترجمان کے مطابق مقتول وکیل پر ایئرپورٹ کے باہر اُس وقت فائرنگ کی گئی جب وہ ٹیکسی کے انتظار میں کھڑے تھے، فائرنگ سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

مقتول وکیل کی بیوہ اور بیٹی—فوٹو: اے ایف پی
مقتول وکیل کی بیوہ اور بیٹی—فوٹو: اے ایف پی

رپورٹس کے مطابق معروف وکیل کے قتل کے پیچھے چھپے مقاصد کا فوری طور پر علم نہیں ہو سکا، تاہم میانمار کی مسلم کمیونٹی پہلے ہی سخت مسائل کا شکار ہے۔

میانمار کا سرحدی علاقہ کئی دہائیوں سے مسلمان اقلیتوں کی نسل کشی کی بناء پر شورش زدہ بنا ہوا ہے، مگر ایسا شاذ و نادر ہی ہوتا ہے کہ یہاں کسی معروف سیاسی شخصیت کو قتل کیا جائے، دوسری جانب ملک کے کمرشل علاقوں میں زور و شور سے کام جاری ہے اور وہ محفوظ ہیں۔

تاہم حالیہ برسوں میں بنیاد پرست بدھ مت کے پیروکاروں کی جانب سے مسلم مخالف جذبات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

حکمران جماعت کے مسلمان مشیر ’کونی‘ مذہبی رواداری اور معاشی ترقی کے مقدمات لڑنے کے حوالے سے مشہور تھے۔

خیال رہے کہ میانمار میں کئی دہائیوں تک فوجی ڈکٹیٹرشپ رہنے کے بعد 2015 میں آنگ سانگ سوچی کی جماعت این ایل ڈی نے بھاری اکثریت سے انتخابات جیتنے کے بعد حکومت بنائی، مگر تجزیہ کاروں کے مطابق پارٹی میں سخت گیر بدھ مت کے پیروکاروں کی اکثریت ہے اور اعلیٰ اور سینیئر رہنماؤں کی موجودگی کے باوجود مسلمانوں کی نمائندگی نہیں۔

میانمار کی مغربی ریاست راکھائن میں مسلمانوں پر فوج کی جانب سے کیے جانے والے کریک ڈاؤن کو روکنے کی ناکامی پر آنگ سانگ سوچی کوعالمی دباؤ کا سامنا بھی ہے۔

کریک ڈاؤن کے بعد اکتوبر سے اب تک 66 ہزار روہنگیا مسلمان پڑوسی ملک بنگلہ دیش کی جانب فرار ہوگئے، جنہوں نے فوج پر قتل عام، ریپ اور ظلم تشدد کے الزامات بھی لگائے۔

روہنگیا مسلمانوں کو ‘بے طن’ تصور کیا جاتا ہے، میانمار انہیں اپنا شہری نہیں مانتا، جس کی وجہ سے دنیا بھر کے مسلمانوں میں سخت غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

اگرچہ کئی نسلوں سے روہنگیا مسلمان، میانمار میں رہائش پذیر ہیں، مگربدھ مت کے پیروکار انہیں بنگلہ دیشی تسلیم کرتے ہیں اور انہیں بنگلہ دیش کے غیرقانونی تارکین وطن سمجھا جاتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s