پی ایس پی کے متحدہ میں ضم ہونے کا امکان

ایک ایسے وقت میں جب کہ پاک سرزمین پارٹی (پی ایس پی) کے سربراہ مصطفیٰ کمال کراچی کی سیاست پر گرفت مضبوط کرنے کی کوششیں کررہے ہیں، وہیں سابق رکن قومی اسمبلی نبیل گبول نے پیش گوئی کی ہے کہ انتخابات 2018 میں پی ایس پی، متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان میں ضم ہوجائے گی۔

نبیل گبول نے کہا کہ ‘اگلے انتخابات میں ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کو ایک ہونا پڑے گا، کیونکہ اگر انھوں نے الگ الگ انتخاب لڑا تو اس کا فائدہ کسی تیسری جماعت کو ہوسکتا ہے’۔

انھوں نے کہا ‘مجھے لگتا ہے کہ مصطفیٰ کمال کی جماعت متحدہ میں ضم ہوجائے گی اور یوں ایم کیو ایم کو اپنے نام میں شاید کچھ تبدیلی کرنا پڑے’۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں دبئی میں کچھ ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں اور آئندہ ماہ فروری میں مزید ملاقاتیں بھی ہوں گی، جبکہ مصطفیٰ کمال اور فاروق ستار کو ایک کرنے میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف اہم کردار ادا کرسکتے ہیں جس کا فائدہ کراچی کے عوام کو ہوگا۔

نبیل گبول نے کہا کہ موجودہ حالات میں الطاف حسین کا باب بند ہوچکا ہے، کراچی کے ووٹرز 2 حصوں میں تقسیم ہیں اور اسی وجہ کو بنیاد بنا کر دونوں جماعتوں کو ایک ہونا پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ کراچی میں اصل ووٹرز ایم کیو ایم کے ہیں جو پہلے الطاف حسین کے ساتھ تھے، لیکن اب وہ فاروق ستار کے ساتھ ہیں۔

اس سوال پر کہ ان ملاقاتوں کے حوالے سے آپ کے پاس کیا اطلاعات ہیں اور کس طرح کے فیصلے متوقع ہیں؟ نبیل گبول کا کہنا تھا کہ اندر کی اطلاعات کے مطابق سب اس وقت 2018 کے انتخابات کی تیاریاں کررہے ہیں، آئندہ الیکشن میں ماضی کی روایت ختم ہوجائے گی جس میں ایم کیو ایم اکثریت سے کامیاب ہوا کرتی تھی۔

نیبل گبول کا کہنا تھا کہ اس بار ہر جماعت 4 سے 5 نشستیں حاصل کرسکتی ہے جس میں کچھ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، جماعت اسلامی (جے آئی)، ایم کیو ایم، جبکہ کچھ نشستیں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے حصے میں آئیں گی۔

تاہم، انھوں نے کہا کہ اگر پی ایس پی اور متحدہ ایک دوسرے میں ضم ہوجائیں تو متحدہ کو زیادہ نشستیں مل سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ نبیل گبول نے یہ پیش گوئی ایک ایسے وقت میں کی ہے جب ایک روز قبل ہی پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کراچی اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ متحدہ کی سیاست کو دفن کرنے کے لیے میدان میں اترے ہیں۔

گذشتہ روز کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر ایک بڑے جلسے سے خطاب میں انھوں نے دعویٰ کیا کہ شہر کا مینڈیٹ پاک سرزمین پارٹی کے ساتھ ہے، مینڈیٹ تقسیم نہ ہونے کادعوی کرنے والے دیکھ لیں کہ عوام کس کے ساتھ ہیں۔

خیال رہے کہ کراچی کے سابق میئر اور ایم کیو ایم کے سابق رہنما مصطفیٰ کمال نے 3 مارچ 2016 کو ایم کیو ایم کے منحرف رہنما انیس قائم خانی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم قائد پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے تھے۔

اس موقع پر انھوں نے علیحدہ پارٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جلد نئی پارٹی کا منشور پیش کرنے اور کراچی سمیت سندھ بھر میں جلسے کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔

بعد ازاں ایم کیو ایم کے مختلف اہم اور سینئر رہنماؤں نے مصطفیٰ کمال کی ‘پاک سرزمین پارٹی’ میں شمولیت کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ایم کیو ایم کی جانب سے مصطفیٰ کمال کو تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا۔

‘مشرف، الطاف حسین پارٹ 2 ہوں گے’

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے سیاست میں کردار سے متعلق بات کرتے ہوئے نبیل گبول کا کہنا تھا کہ وہ اب دبئی سے بیٹھ کر الطاف حسین پارٹ 2 کا کردار ادا کریں گے۔

انھوں نے کہا ‘میں سمجھتا ہوں کہ مشرف کو سامنے آنے کی ضرورت نہیں، لہذا وہ دبئی سے ہی کراچی سمیت پورے سندھ کی سیاست میں اپنا اہم کردار ادا کریں گے’۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے تمام لوگوں کے ساتھ رابطے ہیں اور آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کے خلاف ایک اتحاد بنا کر متحدہ کے ووٹر کے ذریعے سندھ میں حکومت بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

نبیل گبول کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح سے سندھ میں حکومت قائم ہوئی تو اس میں مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور پیر پگارا کا بھی اہم کردار ہوگا۔


Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s