مختلف ممالک میں خوبصورتی کا دلچسپ معیار

مثالی خوبصورتی کا معیار ہر ملک میں مختلف ہوتا ہے اور ہر شخص اسے اسی نظر سے دیکھتا ہے جیسے ان کے ملک میں دیکھا جاتا ہے۔

ویسے تو خوبصورتی آنکھوں میں ہوتی ہے مگر کچھ ممالک میں جسمانی نقص کو بھی کشش اور خوبصورتی میں گردانا جاتا ہے۔

یہاں مختلف ممالک ایسے ہی خوبصورتی کے دلچسپ معیار کے بارے میں جانے جو آپ کو دنگ کردیں گے۔

ٹیڑھے دانت، جاپان

فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می
فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می

پاکستان سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں ایک ہی قطار میں لگے دانتوں کو مثالی مسکراہٹ کے لیے ضروری مانا جاتا ہے اور بیشتر افراد اس سے ہٹ کر خوبصورتی کا تصور بھی نہیں کرسکتے، مگر جاپان میں لوگوں کی سوچ مختلف ہے، وہاں مسکراہٹ کی کشش کی انتہا ٹیڑھے دانتوں کی نمائش کو سمجھی جاتی ہے۔ وہاں مانا جاتا ہے کہ لوگوں کے اندر یہ چیز ہو تو وہ زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جاپانی نوجوان مرد و خواتین میں ڈینٹسٹ بہت مقبول ہیں۔

جلد کو چھیدنا، مغربی افریقہ

فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می
فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می

نیو گنی سمیت افریقہ کے متعدد ممالک میں لوگ اپنے جسموں کو مختلف انداز اور لاتعداد فنکارانہ زخموں سے سجاتے ہیں، جلد کو اس طرح چھیدنا مردوں میں بلوغت کی نشانی ہوتی ہے جبکہ خواتین میں یہ ‘ٹیٹوز’ خوبصورتی سمجھی جاتی ہے۔ اور ہاں ہم لوگوں کو تو اس میں کوئی کششش نظر نہیں آتی مگر وہاں یہ مثالی خوبصورتی کی معراج ہے۔

دل کی شکل کا چہرہ، جنوبی کوریا

فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می
فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می

جنوبی کوریا میں پلاسٹک سرجری کو عام معمول سمجھا جاتا ہے، بڑے شہروں میں ہر جگہ اس حوالے سے اشتہارات نظر آتے ہیں، جس کی وجہ وہاں دل کی شکل کے چہروں کو خوبصورتی تسلیم کرنا ہے جس کے حصول کے لیے بیشتر کورین افراد پیچیدہ آپریشنز کا حصہ بنتے ہیں۔ اس عمل کے دوران اکثر جبڑے کی ہڈیوں کو توڑ کر تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اور پھر انہیں تھوڑی کو دل کی شکل میں بدلنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

موٹاپا، موریطانیہ

فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می
فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می

موریطانیہ میں اس وقت تک کسی خاتون کو خوبصورت نہیں مانا جاتا جب تک اس کی توند نہ نکلی ہوئی ہو، تو وہاں لڑکیاں اس معیار کو پانے کے لیے ایسے خصوصی فارمز میں جاتی ہیں جہاں انہیں روزانہ 16 ہزار کیلوریز کا استعمال کرایا جاتا ہے، مگر اس روایت کے نتیجے میں بیشتر لڑکیاں معدے کے امراض کا بھی شکار ہوجاتی ہیں۔

چہرے پر سرجیکل ڈریسنگ، ایران

فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می
فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می

ویسے شاید یقین کرنا مشکل ہو مگر ایران میں سیدھی ناک کے لیے مرد اور خواتین کوئی بھی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں، جو یہاں نہ صرف خوبصورت کی علامت بلکہ معاشرے میں ایک مخصوص مقام بھی دیتا ہے، مگر اس سے بھی ہٹ کر جو عجیب ترین چیز یہاں نظر آتی ہے وہ عوامی مقامی پر اپنے چہرے یا ناک پر سرجیکل ڈریسنگ کے ساتھ گھومنا ہے۔

زرد جلد، چین اور تھائی لینڈ

فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می
فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می

چین اور تھائی لینڈ وغیرہ میں زرد جلد کو خوبصورتی کا معیار سمجھا جاتا ہے، اگر آپ وہاں کسی دکان میں فیس کریم کو تلاش کرنے کی کوشش کریں گے تو بلیچنگ کریم کو تلاش کرنا ناممکن ہوگا، متعدد چینی افراد بغیر ماسک کے ساحل پر بھی نہیں جاتے کیونکہ وہ اپنی جلد کو سورج کی شعاعوں سے بچانا چاہتے ہیں۔

بڑی پیشانی، افریقہ

فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می
فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می

افریقہ کے فیولا نامی قبیلے میں خواتین کے لیے خوبصورتی اس وقت تک نامکمل رہتی ہے جب تک ان کی پیشانی چوڑی نہ ہو، اسی لیے بیشتر خواتین اپنے سر کے اوپری حصے کے بالوں کو صاف کرکے چوڑی پیشانی کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

لمبی گردن، برما

فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می
فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می

مشرقی برما میں خواتین اپنے گلے میں رنگ پہنتی ہیں تاکہ اسے لمبا کیا جاسکے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ گردن جتنی لمبی ہوگی اتنی ہی وہ خوبصورت نظر آئیں گی۔ وہاں کے رہنے والوں کا تو یہ بھی ماننا ہے کہ یہ روایت خواتین کو شیروں سے بھی تحفظ دیتی ہے۔

پھیلے ہوئے ہونٹ، مورسی، افریقی قبیلہ

فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می
فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می

ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے مورسی قبیلے میں لڑکیاں اپنے نچلے ہونٹ کی جلد کو پھیلانے کے لیے خصوصی ڈسک کا استعمال کرتی ہیں، یہ ڈسک جتنی بڑی ہوگی، اس لڑکی کا سماجی رتبہ بھی اتنا ہی بلند ہوگا اور شادی سے پہلے زیادہ جہیز بھی ملے گا۔

جڑی ہوئی بھنویں، تاجکستان

فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می
فوٹو بشکریہ برائٹ سائیڈ ڈاٹ می

تاجکستان کے مختلف خطوں میں جڑی ہوئی بھنوﺅں کو نسوانی خوبصورتی کی علامت تصور کیا جاتا ہے، اگر قدرتی طور پر کسی لڑکی کی بھنویں جڑی ہوئی نہ ہو تو وہ اس کا حصول کسی سیاہ لکیر سے ممکن بناتی ہے، وہاں کے رہنے والوں کا ماننا ہے کہ ایسی بھنویں خوش قسمت زندگی کی علامت ہوتی ہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s