مسٹر، ملاّ اور لاٹھی

خالد محمود عباسی

پرویز مشرف کے دورِ آمریت میں لوگوں کو جبراً گمشدہ کرنے کی مکروہ روایت جمہوریت کے “سنہری دور” میں بھی پوری شان و شوکت، بلکہ پہلے سے زیادہ زور و شور سے جاری ہے۔ اس افتاد کا اولین نشانہ مذہبی طبقات بنے، لیکن ملک میں جاری “مسٹر اور ملاّ” کی قدیم لڑائی کی بدولت اور کچھ مذہبی حلقوں کی بزدلی یا نالائقی کے سبب یا جبر کے مقابلے میں صبر کی تربیت کے باعث اس کے خلاف کوئی مؤثر آواز نہیں اٹھائی جا سکی۔

مگر حال ہی میں گمشدہ ہونے والے، اور پھر ‘بحفاظت گھر پہنچ جانے والے’ زیرک بلاگرز کے بعد میڈیا کے ایک بڑے حلقے میں اس روش کے حوالے سے اضطراب کے آثار ضرور نمودار ہوئے ہیں۔

اس سے قطع نظر کہ اٹھائے جانے والے دائیں بازو سے تعلق رکھتے ہیں یا بائیں بازو سے، کوئی بھی صاحبِ بصیرت اور انصاف پسند آدمی اس طرزِ عمل کی حمایت نہیں کر سکتا، بلکہ اگر مذمت کرنے کی ہمت نہ بھی کر سکے تو بھی اس پر ایک کڑھن اور گھٹن ضرور محسوس کرے گا۔

انتہا پسندی کی جس لعنت نے دہائیوں سے ہمیں اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اس نے شرافت پر شرارت کو، غیرت پر مصلحت و مفاد کو، انسانیت اور ہمدردی پر تعصب اور کٹھور دلی کو رواج عطا کر دیا ہے۔

اس سوچ اور روّیے نے عوام کے اتحاد کو پارہ پارہ کر کے ان کی طاقت کو کمزوری سے بدل دیا اور نتیجتاً عوام کے خدّام اور محافظین نے اس مقتدرہ کی حیثیت اختیار کر لی جو جب چاہے عوامی بھینس کو اپنی لاٹھی کے آگے ہانک لے۔ آمنہ مسعود جنجوعہ ہو، حقوقِ انسانی کی انجمنیں ہوں یا ریاستی ادارہ سپریم کورٹ ہو، سب اس کے سامنے بے بسی کی تصویر ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارا چیختا چنگھاڑتا ‘نو آزاد’، ‘مین اسٹریم میڈیا’ بھی اس چھڑی کی جنبش پر رقصاں نظر آتا ہے۔

لاٹھی کے استعمال کے ساتھ ایک مسئلہ ازل سے یہ بھی ہے کہ اس میں گیہوں کے ساتھ گھن بھی پِستا ہے، اور وہ عدالتی اصول کہ کسی ایک بے گناہ کو سزا نہ ہو خواہ 99 گناہ گار بچ جائیں، کی جگہ وہ جنگی اصول آ جاتا ہے کہ دشمن کے شبہ میں دوست ہی لپیٹ میں آجائے تو بھی پرواہ نہیں۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ موجودہ نظام کے مخالف مذہبی لوگ جب مقتدرہ کی اس لاٹھی کی زد میں آتے ہیں تو مقتدرہ کے وہ مخالفین جو لبرل ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں وہ عدالتی اصول کی جگہ جنگی اصول کے وکیل بن جاتے ہیں اور جب لبرل حضرات مقتدرہ کی گرفت میں آتے ہیں تو مذہبی لوگ مقتدرہ کے آلہ کار بن جاتے ہیں۔

اوپر سے ہمارا دستور ایک ایسی خاصے کی دستاویز ہے جو دونوں طرح کے لوگوں کی تسلی کا سامان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ ہر دو اپنی انتہا پسندانہ روش کے باعث مخالف کی سوچ سے مطابقت رکھنے والی آئینی دفعات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اگر ماضی کا جائزہ لیا جائے تو ہر گروہ نے ایک دوسرے سے پورے پورے بدلے لیے ہیں اور ایک دوسرے کی نفرت میں اپنے مشترکہ دشمن (ظالمانہ نظام) کے پاسبان ہی بنتے رہے ہیں۔

ضیاء الحق کی آمریت کو مذہبی طبقے نے سہارا دیا جو لبرل اور حریت پسند فکر کو کچلنے کے لیے استعمال بھی ہوا۔ اسی طرح پرویز مشرف کی آمریت کو لبرل طبقے نے بدلہ مع سود لینے کے لیے استعمال کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لاٹھی کی طاقت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا اور بھینس اتنی لاغر ہو گئی کہ اولاً اس کی حکومت نے سرینڈر کیا اور بالآخر اس کی پارلیمان نے بھی روتے ہوئے ہی سہی اپنے ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کر دیے، جس کے نتیجے میں لاٹھی کے پاس کسی کو 90 روز تک ‘گمشدہ’ کرنے کا قانونی یعنی ‘مہذب’ اختیار بھی آ گیا۔

ہنی مون کے ابتدائی دنوں کے بعد امید کی جاسکتی ہے کہ دونوں طبقات میں سے زیادہ دانشمند ہونے کے دعویدار لبرل حلقے کو ہوش مندی کے ناخن آ چکے ہوں گے، لیکن ‘نورِ وحی سے دیدارِ حقیقت کرنے کے دعویداروں’ اور ‘ایک سوراخ سے دو بار نہ ڈسے جانے والے حکیموں’ کو بھی تو سمجھ آجانی چاہیے کہ وہ توہینِ رسالت کی دفعہ کو لاٹھی برداروں کے دفاع کا ذریعہ بنا کر اپنی ہی ساکھ کو مجروح نہ کریں۔ ایسا کرنے سے قبل اپنے دوستوں سے یہ مطالبہ تو کیا جا سکتا ہے کہ جناب ان لوگوں پرتوہین رسالت کیس چلنا ہے، ثابت ہونا ہے پھر کہیں جا کر سزا کا اعلان ہو گا۔

جن لوگوں کو عدالت پہلے ہی سزا سنا چکی ہے ان مبینہ ملزموں سے پہلے اُن مجرموں کو تو سزا دلوا دیں اور اگر یہ نہیں کریں گے تو پھر اسے عشقِ رسول ﷺ اور توہینِ رسالت ﷺ کا مسئلہ نہ بنائیں۔ ایسا کر کے آپ اس قانون ہی کو مزید متنازعہ بنا لیں گے۔ کہیں اس دفعہ کے ساتھ بھی بالآخر وہی کچھ نہ ہو جو لال مسجد کے ساتھ ہوا۔ موجودہ حالات میں اس دفعہ کے حوالے سے پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔

بہرحال ضرورت اس امر کی ہے کہ متاثرین عصائے ریاست، خواہ وہ دائیں طرف کے ہوں یا بائیں طرف والے، اپنے بنیادی حقوق اور بالخصوص گمشدہ ہو کر اندھے کنویں کی زینت بنائے جانے کی روش کے خلاف کسی مشترکہ جدوجہد یا کم از کم مشترکہ فورم کی طرف آئیں۔ اشتراکِ عمل کی صورت نہ بھی ہو تو کم از کم مکالمے کی صورت تو پیدا کی جائے۔

لیکن اس میں احتیاط کی بھی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ ہماری اس انتہا پسندانہ روش کا فائدہ اٹھا کر دشمنوں نے ہماری صفوں میں اپنے ایجنٹ بھی گھسا دیے ہیں۔ دشمن کی خواہش ہمیں بھی فلسطین، کشمیر، برما اور عراق و شام کے مسلمانوں والی کیفیت سے دوچار کرنے کی ہے۔

ابھی تک ہم اگر محفوظ ہیں تو اللہ کی مہربانی کے بعد عالمِ اسباب میں اس کا سبب بظاہر ہماری مقتدرہ کی کامیاب دفاعی حکمتِ عملی ہے۔ چنانچہ خیال رکھنا چاہیے کہ یہ لاٹھی کہیں ضعف کا شکار نہ ہو جائے۔ کیا ہر دو طبقات اپنے اندر کی کالی بھیٹروں کی خود نشاندہی کر سکتے ہیں؟

اگر ایسے لوگوں کو جو باہر کے ملکوں سے رابطے میں ہوں یا فنڈز لیتے ہوں، ہم خود قانون کے حوالے کر سکیں گے تو اخلاقی طور پر اس “نوے روزہ گمشدگی” کے خلاف آواز اٹھانے کا اخلاقی جواز رکھیں گے۔ بصورتِ دیگر ایسے قوانین ریاست کے جابر اداروں کی عملی مجبوری ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s