جیلوں میں بند 30 ہزار مجرموں کے ڈی این اے سیمپل لینے کا فیصلہ

پنجاب کی جیلوں میں ڈکیتی، قتل، اغوا برائے تاوان، ریپ اور دیگر سزا یافتہ مجرموں کا ڈین این اے سمپل لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ڈی این اے سمپل سے ان مجرموں کے دیگر جرائم پیشہ رشتہ داروں کے بارے میں بھی پتہ چل سکے گا جبکہ جیلوں میں بند خواتین اور بچوں کے بھی ڈی این اے سمپل لیے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس نے پنجاب کی جدید فرانزک لیب سے بھرپور استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جیلوں میں بند 30 ہزار کے قریب مجرموں جن کو عدالتوں نے مختلف کیسز میں سزائیں دی ہیں کے ڈی این اے سمپل لیے جائیں گے۔ جرائم پیشہ عناصر کے اس سے پہلے فنگر پرنٹ لیے جاتے تھے۔ ان ملزموں میں ڈکیتی، چوری اور دیگر وہیکلز چوری کے ملزم بھی شامل ہیں جن کے ڈی این اے سمپل لیے جائیں گے۔

ذرائع کے مطابق پولیس کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ جیلوں میں بند تمام مجرموں کے ڈی این اے سمپل لیے جائیں کیونکہ پولیس تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 80 فیصد مجرم جیلوں سے رہائی کے بعد دوبارہ جرائم کرتے ہیں اور جائے وقوعہ سے ہر ملزم کے فنگر پرنٹ نہیں ملتے، اس لیے ڈی این اے لیے جائیں۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے پنجاب کی جیلوں میں بند طالبان اور دہشتگردوں کے ڈی این اے سمپل لیے گئے تھے جو ہائی سیکیورٹی جیلوں میں بند ہیں۔

 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s