بابا لاڈلا رینجرز مقابلے میں ساتھیوں سمیت ہلاک

کراچی کے علاقے لیاری میں رینجرز کی کارروائی کے دوران گینگ وار کا مطلوب سرگرم کمانڈر نور محمد عرف بابا لاڈلا اپنے 2 ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا۔

رینجرز کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق خفیہ اطلاع لیاری کے علاقے پھول پتی لین میں سرچ آپریشن کیا گیا، جہاں گینگ وار سے تعلق رکھنے والے ملزمان نے سیکیورٹی فورس پر فائرنگ کی۔

بیان کے مطابق ملزمان اور رینجرز کے درمیان 35 منٹ تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، جس کے دوران نور محمد عرف بابا لاڈلا اپنے 2 ساتھیوں سکندر عرف سکو اور محمد یاسین عرف ماما سمیت ہلاک ہوگیا۔

رینجرز کے مطابق بابا لاڈلا لیاری گینگ وار کا انتہائی مطلوب اور سفاک دہشت گرد تھا، بابا لاڈلا نے لیاری میں ٹارچر سیل بناکر لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا رکھا تھا، وہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو 74 مختلف کیسز میں مطلوب تھا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ بابا لاڈلا عزیر بلوچ کے ساتھ گینگ وار کے لیڈر ارشد پپو، یاسر عرفات اور شیرا پٹھان کے قتل، لاشوں کی بے حرمتی اور انہیں آگ لگانے میں ملوث ہونے سمیت دیگر پرتشدد اور قتل کے واقعات میں بھی ملوث تھا۔

رینجرز کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہلاک ہونے والا سکندر عرف سکو دہشت گردی کی 15 سے زائد وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھا اور بابا لاڈلا کا قریبی ساتھی اور معاون تھا۔

سکندر عرف سکو، پولیس اہلکاروں کے قتل سمیت دیگر افراد کے قتل اور غیرقانونی اسلحہ کی ترسیل جیسے جرائم میں پولیس کو مطلوب تھا۔

ہلاک ہونے والے تیسرے ملزم محمد یاسین عرف ماما کے حوالے سے بیان میں کہا گیا کہ وہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں پر حملوں میں ملوث اور بابا لاڈلا کا سہولت کار تھا۔

 مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک رینجرز اہلکار زخمی ہوگیا جس کے بعد علاقے میں رینجرز کی مزید نفری کو طلب کیا گیا۔

رینجرز کی جوابی فائرنگ میں تین گینگ وار ملزمان ہلاک جبکہ دیگر 3 فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔

آئی جی سندھ کی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مبارک

سندھ پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) اللہ ڈنو ( اے ڈی) خواجہ نے لیاری میں کامیاب کارروائی کرنے پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ مارے جانے والا بابا لاڈلا بڑا دہشت گرد تھا۔

آئی جی سندھ نے جامشورو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بابالاڈلا کی ہلاکت سے لیاری میں خوف کی فضا کم ہوگی۔

ایک سوال کے جواب میں اے ڈی خواجہ کا کہنا تھا کہ کسی خاتون اہلکار کو ہراساں کرنے سے متعلق کوئی شکایت درج نہیں، جیل پولیس کی خواتین اہلکاروں کو مکمل تحفظ حاصل ہے۔

بابا لاڈلا اور ساتھیوں کا پوسٹ مارٹم مکمل

مقابلے میں ہلاک ہونے والے بابا لاڈلا اور اس کے ساتھیوں کا پوسٹ مارٹم سول ہسپتال میں کیا گیا۔

پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق بابا لاڈلا کو 6 گولیاں لگیں۔

ہسپتال ذرائع نے پوسٹ مارٹم کے حوالے سے ڈان نیوز کو بتایا کہ بابا لاڈلا کو گردن، سینے، پیٹ اور ٹانگوں میں گولیاں لگیں۔

ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ بابا لاڈلا کو ٹانگوں پر لگنی والی گولیاں دائیں جب کہ پیٹ، سینے اور گردن پر لگنے والی گولیاں بائیں جانب سے لگیں۔

پوسٹ مارٹم کے بعد ہلاک ہونے والے تینوں ملزمان کی لاشیں ایف ٹی سی فلائی اوور کے قریب واقع چیھپا کے سرد خانے منتقل کردی گئیں۔

بابا لاڈلا سے متعلق ماضی میں ہونے والے دعوے

خیال رہے کہ نورمحمد عرف بابا لاڈلا کے سر کی قیمت 25 لاکھ روپے مقرر ہے اور وہ کراچی آپریشن کے آغاز سے منظرعام سے غائب تھا۔

ماضی میں بھی متعدد بار بابا لاڈلا کی گرفتاری اور پولیس مقابلے میں ہلاکت کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

7 اگست 2015 کو بھی لیاری گینگ وار کے اہم کمانڈر بابا لاڈلا کے پاک-ایران سرحدی علاقے میں ہلاک ہونے کی اطلاع آئی تھی تاہم اس وقت بلوچستان کی صوبائی حکومت نے واقعے کی تصدیق نہیں کی تھی۔

صوبائی سیکریٹری داخلہ اکبر درانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا۔

اس سے قبل 15 مئی 2014 کو بھی بابا لاڈلا کی ایرانی سرحدی محافظوں کے ہاتھوں ہلاکت کی خبر آئی تھی۔

جس میں بتایا گیا تھا کہ بابا لاڈلا کو ایرانی شہر چاہ بہار میں سرحد عبور کرتے وقت دو ایرانی ساتھیوں سمیت ہلاک کردیا گیا، جس کے بعد بابا لاڈلا کے حوالے سے کوئی خبر سامنے نہیں آئی۔

واضح رہے کہ بابا لاڈلا کے خلاف لیاری کے مختلف تھانوں میں قتل، اقدام قتل اور بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں۔

بابا لاڈلا کا نام پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انتہائی مطلوب افراد کی فہرست میں بھی شامل ہے۔

 گینگ وار سرغنہ مجرمانہ سرگرمیوں میں سابقہ گینگ وار سرغنہ عبدالرحمٰن عرف رحمٰن ڈکیت کے گینگ کے ذریعے ملوث ہوا تھا۔

 پولیس مقابلے میں رحمٰن ڈکیت کی ہلاکت کے بعد بابا لاڈلا نے گینگ وار کے عسکری ونگ کی کمان سنبھال لی تھی۔

بابا لاڈلا نے لیاری کے مخلتف علاقوں میں گینگ وار کے گروہ بنائے اور ہر محلے کا علیحدہ سرغنہ مقرر کیا۔

لیاری میں خوف کی علامت بابا لاڈلا طویل عرصے تک عزیر بلوچ کا دست راست بھی رہا لیکن بعد ازاں ان دونوں میں بھی اختلافات ہو گئے۔

البتہ قومی عوامی تحریک کے چیئرمین ایاز پلیجو کی سربراہی میں ایک اجلاس میں لیاری میں مبینہ طور پر لڑنے والے دو بڑے گینگز بابا لاڈلا اور عزیر بلوچ گروپوں نے لڑائی ختم کرکے ‘لیاری اتحاد کمیٹی’ کے تحت کام کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s