پلیزطوائف کوطوائف نہ کہیں

 

  • احمداعوانahmedawan1947@gmail.com

چندروزقبل میںنے عامرخان بھانڈمراسی کی” دنگل“©© فلم پرتنقیدی کالم ”ماروچھوریاںچھوروںسے کم ہیںکے“،کے عنوان سے لکھاتھا۔اس کالم کے شائع ہونے کے بعدمجھے کوئی 29ای میلز آئی ہیں۔جن میں مختلف لوگوںنے اس کالم میں میرے عامرخان کوکنجرکہنے اوراس کی فرضی بیٹیوںگیتا،بابیتاکوطوائف کہنے پراعتراض کیا۔میں پہلے آپ کے سامنے 29ای میلزمیںسے تین ای میلزکاخلاصہ رکھتاہوں۔پھرمزیدبات کرینگے ۔ایک ای میل مجھے ایک خاتون نے ارسال کی اورکہا۔ آپ کوشرم آنی چاہیے ،آپ اسکول گرلزکوطوائف کہتے ہیں۔ای میل کاباقی حصہ میرے متعلق تھاجس میں مجھے نصیحت اوربرابھلاکہاگیاتھا۔اس لیے اس حصے کوچھوڑیں۔دوسری ای میل بھی ایک لڑکی کی تھی جس کاکہناتھاکہ کیاآپ (یعنی میں)ہرفلم ٹی وی میںکام کرنے والی عورت کوطوائف سمجھتے ہیں؟آپ کی سوچ پرشرم آتی ہے۔ اچھے گھروںکی لڑکیاںبھی اب اس فیلڈمیںآچکی ہیں۔(مسئلہ ہی یہی ہے کہ اچھے گھروںکے بچوںنے گندے کام شروع کردیئے ہیںخیر) ۔تیسری ای میل ایک لڑکے کی تھی جس نے عامرخان کوکنجرسمجھنے پرمجھے لکھاکہ آپ ایک مسلمان پرتہمت باندھ رہے ہیںاورآپ اس وجہ سے جہنم میں جاسکتے ہیں ؟یہ تین ای میلزہیں29میں سے سخت ای میلزتھیں۔باقی بہت سی ای میلزمیںسوالات تھے جن کامیں نے جواب دے دیاہے ۔مجھے حیرت ہوئی کہ میںنے مغرب کے خلاف،ترقی کے خلاف،آزادی کے عقیدے کے خلاف جمہوریت کے خلاف کئی مضامین تحریرکیئے ہیں۔مگرآج تک ایسا”دبنگ“ جواب کبھی نہیںآیا۔مجھے گمان ہونے لگاکہ شائد میںنے آج کے انسانوںکے خداﺅںکوبرابھلاکہہ دیاتھا۔جس کے جواب میںداسوںاورداسیوںنے مجھے خوب آڑے ہاتھوں لیا۔میں نے کچھ ای میلزکرنے والوںکے فیس بک اکاﺅنٹ چیک کئے مجھے شک ہواکہ شائد مجھے ای میلزکرنے والے خود اسی پیشے سے وابستہ ہیں،اس لیے وہ اس تنقیدپرخفاہوئے ہیں۔مگرمیری حیرت کی انتہاءنہ رہی کہ ان سب لوگوںکاتعلق مسلمان گھرانوںسے تھابلکہ چندخواتین نے توفیس بک اکاﺅنٹ پراپنی تصاویربھی شائع نہ کی تھیں۔اوراکثرکے فیس بک کے صفحہ اول پرقرآنی آیات کی برکت سے کسی مرض میںشفاءہونے کادعوی تھا۔کچھ نے احادیث ڈال رکھی تھیں۔میں سوچنے لگایہ تمام توبظاہرمیری طرح مسلمان اوراچھے گھروںسے تعلق رکھتے ہیںپھران کوعامرخان اورماہرہ خان سے اس قدرمحبت کیوں؟یہ تمام لوگ خودبھی فلموںاورڈراموںمیں کام نہیںکرتے ،بہت حدہوئی توبس فلمیں،ڈرامے دیکھتے ہونگے ؟پھران کومیرا،ماہرہ خان کوطوائف کہنااورعامرخان کوکنجرکہنااتنابراکیوںلگا؟اس کاجواب برطانوی فلسفی جان لاک دیتاہے ۔جان لاک جوکہ لبرل ازم کے بانیوںمیں شمارکیاجاتاہے،کہتاہے کہ Body is my property جسم میری ملکیت ہے ۔میں اپنے جسم کاخودمالک ہوں۔کوئی اورمیرے جسم کامالک نہیںہے۔JOHN LOCKکے اس فلسفے سے آزادی کاوہ تصورپیداہوا،جس نے پوری انسانی تاریخ پراثرڈالا ہے۔انسانی تاریخ میںیہ خیال جان لاک سے پہلے کبھی کسی نے پیش نہیںکیاتھا۔سترھوی صدی کے انقلاب کے بعد،اگرکوئی چیزدراصل انقلاب سے بڑھ کرانقلابی تھی ،تووہ جان لاک کایہ فلسفہ تھاکہ Body is my Property ۔اس سادہ سے جملے نے ترقی،آزادی اوربے راہ روی کاوہ سیلاب جاری کیا، جس کے آگے آج تک بندباندھناممکن نہیںہوسکا۔جان لاک کے اس فلسفے کے بعدماضی کے تمام کام،کام نہ رہے ۔تمام خدمات خدمات نہ رہیں۔اورتمام طوائفیں،طوائفیںنہ رہیں۔جب یہ بات طے ہوگئی کہ جسم میری ملکیت ہے۔ توجسم فروخت کے لیے بازارمیں پیش کردیاگیا۔اورکام یعنی Workصرف وہ ٹھہراجس سے پیسے ملیں۔اگرکسی کام کے پیسے نہ ملیںتووہ کام ،کام نہیںہے وہ کچھ بھی ہومگرکام کے زمرے میںنہیںآتا۔یہی وجہ ہے کہ مغرب میں گھرمیںکام کرنے والی عورت کوHouse wife یاHouse womenکہاجاتاہے اور،مارکیٹ میںکام کرنے والی عورت کوWorkerکہاجاتاہے۔Work وہ ہے جس سے پیسے ملیں۔اورپیسے وہ ہیںجوآپ کی آزادی میں اضافہ کریں۔آپ کوکسی کے آگے جوابدہی سے نجات دیں۔پیسے وہ ہیںجن سے آپ خریداری کریںیامزیدپیسے کمانے کے لیے ان پیسوںکوپھربازارمیںلگادیں۔جب مغرب نے طوائف کوعزت دی اورطوائف کاجسم اس کی ملکیت ٹھہراتوطوائف کوSex Workerکانام دے دیاگیا۔کیونکہ وہ Workکرتی ہے۔ اوراس Workسے پیسے حاصل کرتی ہے۔ اوران پیسوںسے چیزیںخریدتی ہے اپنی آزادی میں اضافہ کرتی ہے ۔لہذااس کی کمائی حلال یاحرام نہیں،جائز،ناجائزہوگی۔ اگرایک طوائف مکمل ٹیکس دیتی ہے اوراپنے گاہکوںکووعدے کے مطابق سہولت مہیاکردے ،توریاست اس کی کمائی کوجائز تصورکرے گی۔ البتہ اگرطوائف نے ٹیکس چوری کیااورFBRوالوںکودرست معلومات نہ دیں، تووہ ٹیکس چورکہلائے گی ۔طوائفیں ہرتہذیب میں تھیں۔مگروہ تہذیب میں اپنی اصل شناخت کے ساتھ سفرکرتی تھیں۔ لوگ ان کوان کی اصل کے ساتھ جانتے تھے ۔کبھی بھی طوائف کوکسی تہذیب نے عزت نہیں دی ۔اسی طرح بھانڈ،مراسی،بھی ہرتہذیب کاحصہ رہے ہیں۔مگرایساکبھی نہیںہوا،کہ شریف لوگوںکی اولادیںاس پیشے کوپسندکریں۔لیکن جب اصل عزت کے قابل چیز،پیسہ بن گیا،پھرکیامراسی؟ اورکیابھانڈ؟سب پروفیشن بن گیا۔ اورپروفیشن اچھایابرانہیںہوتا، چھوٹایابڑاہوتاہے۔جان لاک کے فلسفے کے بعدطوائف Sex worker بنی اورآج عزت کے قابل سمجھی جاتی ہے ۔رانی مکھرجی سے ملنے کی خواہش” اسلامی“ جمہوریہ پاکستان کے صدراوردنیاکی سب سے بڑی اسلامی فوج کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویزمشرف نے کی تھی ۔جس پررانی نے ملاقات میں شکریہ بھی اداکیاتھا۔حیرت کی انتہاءیہ کہ پوری پاکستان قوم کے کسی عالم نے اس وقت مشرف پرکوئی فتوی نہیںلگایاتھا۔اور،عزت کے قابل سمجھاجانا،کس کوکہتے ہیں؟اورمشرف کے اس عمل کے بعدبھی متحدہ مجلس عمل کے مذہبی اورمخلص مسلمان رہنماءمشرف سے عزت سے ملتے تھے ۔آج کل ماڈل ایان علی خبروںمیںہے وہ پیسوںکے ناجائزطریقے سے باہرلے جاتے ہوئے پکڑی گئی ۔پورامیڈیاایان علی کے ماڈل ہونے پرکوئی سوال نہیں اٹھارہاہے ۔کہ یہ ماڈل گلرل کیاہوتی ہے ؟سب یہی کہتے ہیںکہ اس نے کرپشن کی ہے پیسے باہرلے کرجارہی تھی جوکہ ”اسلامی “جمہوری پاکستان کے آئین وقانون کے مطابق غلط ہے ۔ایان علی کے ماڈل ہونے پرسوال کیوںنہیںاٹھارہے ؟کیونکہ لوگوںنے اسلامی معاشرے کے ساتھ ماڈل کوقبول کرلیاہے ۔ماڈل اب ایک حقیقت ہے ،لہذااس کوتحفظ دیاجائے گا۔یہ سب جان لاک کی تھیوری Body is my propertyکے نتیجے میںہواہے ۔اورجان لاک کی تھیوری آج تمام دنیامیںنافذ العمل ہے اوراس کے ذریعے یہ سوال کہ ماڈل کیاہوتی ہے غیراہم ہے اورجاہلانہ کہلائے گا۔متیراایک ماڈل ہے اورسرعام فہاشی کی دعوت دیتی ہے ۔مگراس کواگرمیں رنڈی لکھوںتومجھ پراردوادب کی آڑے لے کر تنقیدکی جائے گی کہ، اعوان صاحب آپ کوتمیزنہیں ہے ؟آپ کیسی زبان استعمال کرتے ہیں؟آپ نے متیراکاذکرکرناہی ہے توماڈل کہہ لیں،لیکن پلیزطوائف یاوہ ”ر“والالفظ نہ کہیں۔لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں تواپنے کالم پاکستان میں شائع کرواتاہوں۔جہاںکی غالب آبادی مسلمان ہے۔ اورجہاںپردے پربھی عمل ہوتاہے ۔ہمارے تولبرل بھی اپنی عورتوںکوپردہ کرواتے ہیں۔حتی کہ یونیورسٹی میںپڑھنے والی لڑکیاںگھروںسے مکمل پرد ے میںآکریونیورسٹی کے اندرپردہ اتاردیتی ہیں۔اورجاتے ہوئے دوبارہ پردہ کرلیتی ہیں۔پھریہاںکے لوگوںکوطوائفوںسے اتنی ہمدری کیوںہورہی ہے ؟اس کی وجہ جدیدذریعہ تعلیم کے ذریعے حصول علم ہے؟ تعلیم کرپٹ ہے ۔غلطی ذریعہ تعلیم میںہے۔اسلامی اقدارکاقتل اسکولوںکالجوںاوریونیورسٹیوںمیں ہورہاہے ۔اسلامیات مردوںکوعورتیںپڑھارہی ہیں۔حدیث عورتوںکومردپڑھارہے ہیں۔تواسلام باقی رہے گا؟محرم نامحرم کامسئلہ رہے گا؟پوری اسلامی علمیت میںجوعورت حلال مردکے علاوہ، کسی مردکاہاتھ تھام سکتی ہو؟یاکسی بھی مرد کے ساتھ میل میلاپ کرسکتی ہو؟ہماری اسلامی تاریخ میں اس عورت کوطوائف یاطوائف جیسی کہاگیاہے۔ اورایسامردجوکسی بھی عورت کاہاتھ تھام لے اسے کنجرہی کہاگیاہے ۔بلکہ قرآن توایسی عورتوںمردوںکے قتل کاحکم دیتاہے ،مگریہ قتل مسلمان خلیفہ کرے گا کوئی گروہ نہیں کریگا۔ اگرکسی مسلمان ملک میںفحاشی اوربے حیائی اپنے عروج پرہوگی تووہاںشریعت کے تحت اسلامی خلافت کی جدوجہدکی جائے گی،وہاںطوائفوںکاقتل عام شروع نہیںکردیاجائے گا،یہ جوازپیش نہیںکیاجاسکے گاکہ، خلافت لاناتومشکل کام ہے البتہ کسی عورت کاقتل آسان ہے اس لیے یہ ہی کرکے ثواب کمالیں۔یہ عمل کچھ بھی ہومگراسلام سے ایسے عمل کاکوئی لینادینانہیںہوگا۔ہماری اسلامی علمیت،اوراسلامی تاریخ میںذریعہ اور وسیلہ بہت اہم مقام رکھتاہے ۔یہ جوآج تک ہمارے پاس اسلام محفوظ ہے اس کی وجہ ہماراذریعہ تعلیم تھا۔ مگرگزشتہ سوسال سے ہماراذریعہ تعلیم بدل گیاہے ۔جب یہ قوم اسلامی تاریخ ،اسلامی مضامین اورحدیث اورقرآن کے علم کوجوتے پہن کرمخلوط ماحول میں نامحرموںسے حاصل کرے گی، توجوتے ہی اس امت کامقدربنیںگے ۔اب کچھ کہیںگے ،جوتے پہن کراسلام پڑھنے میں حرج کیاہے؟ایک شخص گھرسے وضوکرکے مسجدآتاہے ۔اپناموبائل فون بندکرتاہے ۔سرپرٹوپی رکھتاہے اورمسجد میںامام صاحب سے حدیث یاقرآن کاعلم سیکھتاہے ۔اب ایک شخص کراچی یونیورسٹی کے شعبہ اصول الدین کی کلاس میں کئی لڑکیوںکے بیچ بغیرٹوپی اوروضو کے ،جوتے پہن کرکسی خاتون پروفیسرسے لیکچرلیتاہے ۔کیاان دونوںعلم حاصل کرنے والے حضرات کی ایمانی کیفیت ،ان کی اخلاقیات ایک جیسی ہونگی ؟اگرآپ کاجواب ہے کہ ایک جیسی ہونگی توانااللہ واناالیہ راجعون ،اس سے زیادہ میں کیاکہہ سکتاہوں؟گھروںمیںآج گفتگویہ نہیںہوتی کہ ،فلم یاڈرامہ دیکھناگناہ ہے ؟گفتگواس موضوع پرہوتی ہے کہ ،کون سی فلم اورڈرامہ اکیلے دیکھنے والاہے ؟اورکون ساڈرامہ ،فلم سب ساتھ بیٹھ کردیکھ سکتے ہیں؟ساراخاندان ساتھ بیٹھ کرمجرادیکھتاہے ۔میری اس بات پرحیرت ہوئی آپ کو؟یہ مزاحیہ پروگرام ،دیگراشتہارات اورموسیقی کے پروگرامات جوآپ گھروںمیںدیکھتے ہیں،یہ سب کیاہے؟ماضی میںگاناسننے کے لیے بازارحسن کارخ کیاجاتاتھا۔زمانہ بدلا۔گھرگھرمیڈیاآیا۔آج گھرگھرمیںگاناسناجاتاہے۔بس ،فکر،سوچ،خیال،زاویہ نظر،خیروشرکاپیمانہ ،اوردیکھنے کانظریہ بدل گیاہے ۔کام وہی ہورہاہے ۔جوسوسال پہلے کرنابہت معیوب سمجھاجاتاتھا۔جولوگ اس بات پرتنقیدکررہے ہیںکہ میںنے اداکاروںاورماڈلزکوطوائف اورکنجرکہاہے ۔وہ عامرخان کے اس عمل پرتنقیدکیوںنہیںکرتے کہ اس نے فلم ”تارے زمین پر“میں بتایاکہ بچے جوکرناچاہئیں،انہیںکرنے دیناچائیے۔پھراس نے فلم ”تھری ایڈیٹس “میں دکھایاکہ نوجوان نسل کووہ کرناچایئے جوان کادل کرے۔ بھیڑچال نہیںچلنی چایئے ۔مگراب وہ لڑکیوںکوزبرستی ان کی مرضی کے برخلاف پہلوان بننے کے عمل کی حوصلہ افزائی کررہاہے ۔عامرخان کے ان تضادادپر،توکوئی اعتراض نہیںکیاگیا؟ میںنے تنقیداپنے کالم میںکی ہے ۔میری تنقیدپڑھنے کے لیے میرامضمون پڑھناضروری تھا۔لیکن یہ جوہردوسرے اخبارمیںفلمی صفحے پرنیم عریاںماڈلزکی تصاویرشائع ہوتی ہیں۔اس پرکسی کے جذبات کوآگ کیوںنہیںلگتی ؟اس پرکسی کے جذبات مجروح کیوںنہیںہوتے ۔اس پراردوادب کیوںخاموش ہے؟کیایہ ایک خوداحتسابی ،کے قابل، فکرنہیںہے ؟یہ جن کومیرے عامرخان اورشارخ خان کوکنجرکہنے پردکھ ہواہے ،اورماہرہ خان اورگیتا،بابیتاکوطوائف کہنے پردکھ پہنچاہے ۔میں ان مرد،عورتوںسے معذرت کرتاہوں۔ میری وجہ سے ان کی دل آزاری ہوئی ۔مگرمیںبے عمل ہی سہی مگرہوںمسلمان اورہوںبھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد سے ۔لہذامیں اپنی تاریخ ،اپنی علمیت اپنے ایمان اپنے رسول ﷺاپنے صحابہ کرام ؓاپنے اماموںاوراپنے اکابرین کی تعلیم کی بدولت کسی بھی مردکاہاتھ پکڑنے والی عورت کوطوائف ہی کہوںگااورلکھوںگا۔اورکسی بھی عورت کاہاتھ پکڑنے والے مردکوکنجرہی لکھوںگااورکہوںگا۔میں اپنی علمیت اورتاریخ کااسیرہوں۔میں اپنی علمیت اورتاریخ کاغلام ہوںمیں ماضی کامینارہوںمیںگزرے زمانےءپرفخرکرتاہوں۔میںاپنے مسلمان قارئین سے گزارش کروںگاکہ وہ اپنے دل کی کیفیات پرغورکریں۔انہیںمیرا،ماہرہ خان،شارخ خان،عامرخان اوران جیسوںکوکنجرکہنااورطوائف کہناکیوںبرالگا؟کیامیں نے پاک دامن بی بیوںکوایساکہاتھا؟میراطوائف کہنااس لیے برالگاکیونکہ اب یہ سب عزت کے لائق سمجھے جاتے ہیں؟ان کوان کی اصل شناخت کے ساتھ کوئی نہیںپکارتا؟اس لیے جب کسی نے ان سب کواصل شناخت کے ساتھ پکاراتوجدیدذریعہ تعلیم سے تعلیم حاصل کرنے والوںکوسخت صدمہ پہنچتاہے۔مجھے اس لڑکی کی ای میل کے جملے یادآرہے ہیںجس کوتمام بات سمجھادینے کے بعدجب میں نے پوچھا۔اب آپ کوبات سمجھ آگئی ؟تواس نے کہاجوبھی ہولیکن پلیزآپ طوائف کوطوائف نہ کہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s