دینِ اسلام کو بازیچۂ اطفال مت بنائیے

عبدالحمید مدنی

اﷲ کا پسندیدہ اور محمد مصطفٰی ﷺ کا لایا ہوا دین اسلام اپنے اندر سنجیدگی، متانت، جامعیت اور حُسن رکھتا ہے، اس کے ہر ایک امر و نہی میں لاتعداد حکمتیں اور مصالح پوشیدہ ہیں، جو ہر جہت سے مدلل اور ہر زاویے سے روشن اور واضح ہیں۔

تفکر کرنے والے دل اس کے احکامات اور منہیات میں دنیا و آخرت کے ہزارہا ثمرات دیکھتے اور رب العالمین کی بے مثل ذات پر پہلے سے زیادہ ایمان و ایقان مضبوط کر لیتے ہیں، پھر دنیا کی ناپائیداری انہیں جادۂ حق سے دور نہیں کر سکتی۔ ایسے دل والے جب بات کرتے ہیں تو ان کی ہر بات سے لوگ استقامت اور دل جمعی کی سوغاتیں کشید کرتے ہیں، ان ہی عظیم لوگوں کی باتیں ضرب المثل بن کر دوسروں کی راہ نمائی کا سامان کرتی رہتی ہیں۔ لیکن صد افسوس اس دنیا میں اس کامل و اکمل اور جامع و سنجیدہ دین کے ماننے والے ہزاروں ایسے ہیں جنہیں اس کی کوئی پروا نہیں، انہیں بس مطلب ہے تو فقط اس سے کہ ان کی شہرت و مقبولیت میں جیسے بھی ہو اضافہ ہونا چاہیے، خواہ اس کے لیے دین کی توہین و تحقیر ہی کیوں نہ ہو۔ (العیاذ باﷲ)

سوشل میڈیا پر تو آج کل جو طوفانِ بدتمیزی مچا ہوا ہے الامان، ’’ فیس بُک ‘‘ پر تو لوگوں نے معاذاﷲ دین کو بازیچۂ اطفال بنایا ہوا ہے۔ کوئی ایسی پوسٹ جس میں ان کے مطابق دین کی کوئی بات ہو تو اس کے نیچے لکھا ہوگا، کوئی منافق ہی ہوگا جو اس کو share نہیں کرے گا۔ کسی پوسٹ کے ساتھ لکھا ہوگا، کوئی کافر ہی ہوگا جو اسے share نہیں کرے گا۔ کہیں لکھا ہوگا، جو مسلمان ہے وہ اسے share کرے گا، اور کہیں کسی پوسٹ کے share کرنے پر مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کی حاضری کی نویدیں، رسول اﷲ ﷺ کی شفاعت اور زیارت کی خوش خبریاں سنائی گئی ہوتی ہیں۔

( العیاذ باﷲ العلی العظیم) اس طرح کی نہ جانے کتنی اور باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں، سچی بات یہ ہے کہ اﷲ رب العالمین اور محمد رحمۃ للعالمین ﷺ کے دین میں اس طرح کا کوئی تصور موجود نہیں۔ بیت اﷲ اور گنبد ِخضریٰ کی تصویر عام کرنے سے اگر رسول اﷲ ﷺ کی شفاعت اور زیارت نصیب ہوتی تو صحابۂ کرامؓ، پاک بازانِ ملتؒ و اولیائے امتؒ اس دین متین کو پھیلانے میں اتنی محنت و جدوجہد نہ کرتے اور پھر عاجزی سے یخ بستہ راتوں کو جاگ کر اپنے رب کی بارگاہ ِ بے نیاز میں جبینِ نیاز جھکانے کی بہ جائے کعبہ شریف اور مدینہ منورہ کی حسین تر تصاویر اپنے ہاتھوں سے بنا کر دنیا کے کونے کونے میں ان کی تشہیر کرتے نہ تھکتے۔

منافقت اور ایمان کا معیار کسی کی شیئر کردہ پوسٹ نہیں، بل کہ اﷲ اور اس کے عظیم القدر رسول ﷺ کی عطا کردہ کسوٹی ہے، جس پر ایمان و کفر اور منافقت و بے دینی کو پرکھا جاتا ہے۔ اس لیے اس طرح کی ہر پوسٹ عام کرنے سے قبل خوب سوچا سمجھا جائے کہ کہیں اس کے سبب دین کا مذاق تو نہیں اڑیا جائے گا، ایسی پوسٹ کا آغاز کرنے والا سخت گناہ گار ہوگا، اور جو اس کو عام کریں گے وہ بھی گناہ گار ہوں گے اور ان سب کا گناہ اس کے آغاز کرنے والے پر بھی ہو گا۔

علاوہ ازیں کسی کو کافر یا منافق کہنا بہ جائے خود ایک بہت بڑا جرم ہے، ہمارے آقا و مولیٰ ﷺ کے فرمان کے مطابق جو کسی کو کافر کہتا ہے اگر وہ کافر نہ ہو، تو وہ خود اپنے قول کی زد میں آجاتا ہے۔ اسی طرح کوئی ایسی بات جو رسول اﷲ ﷺ کی طرف منسوب کی جائے، اور یوں کہا جائے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا، یا آپؐ کا فرمان ہے، تو اس سے پہلے بھی خوب سوچنا چاہیے کہ آیا یہ آپؐ کا فرمان ہے بھی یا نہیں۔ کیوں کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا کہ جو جان بوجھ کر میری طرف کوئی ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو، تو اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہے۔

ایسے ہی کوئی کسی بات کو قرآن مجید کی آیت قرار دے ڈالے، حالاں کہ وہ قرآن کی آیت نہ ہو بل کہ کسی کا قول ہو تو اس نے گویا قرآن میں اضافہ کرنے کی مذموم کوشش کی، اور پھر اس کا وبال نہایت خطرناک ہے۔ ال غرض غیر اخلاقی کوئی بھی پوسٹ عام کرنا نہایت مذموم ہے تو دین کے حوالے سے کوئی ایسی پوسٹ عام کرنا جو دین کی بدنامی کا باعث بنے وہ کس قدر مذموم اور خطرناک کام ہوگا، لہٰذا دین کے حوالے سے خصوصاً خیال رکھنا چاہیے کہ کوئی ایسی بات عام نہ ہو جو دین کی تحقیر و تذلیل کا باعث بن کر ﷲ اور اس کے رسول ﷺ کی ناراضی کا موجب ہو۔ باقی اچھی بات عام کرنا جس سے لوگوں کے اخلاق سنوریں، ان میں ایک دوسرے کے لیے اخوت اور ہم دردی کا جذبہ پیدا ہونے لگے، دینی جذبہ بیدار ہو، ملک و قوم کے لیے کچھ کر گزرنے کا شوق پیدا ہو، فرقہ پرستی کی نحوست ختم ہو، اور معاشرہ برائیوں سے تائب ہو کر جنت نظیر بن جائے، تو ایسی ہر پوسٹ عام کرنا جہاں اخلاقِ حسنہ کی علامت ہے وہاں اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بھی ہے۔

ایک ذمے دار مسلمان وہی ہے جو زندگی میں ہر حوالے سے احتیاط برتے، کوئی بھی کام کرے تو خوب سوچ سمجھ کر کرے، بولنے سے پہلے تولے پھر بولے۔ ایک روایت میں ہے کہ بعض اوقات انسان اپنے منہ سے کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کی سنگینی کا اسے احساس تک نہیں ہوتا تو اس کے سبب وہ جہنم کے گڑھے میں لگا تار گرتا چلا جاتا ہے، اور بعض اوقات ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کی عظمت کا اسے اندازہ تک نہیں ہوتا، اور وہ اس کے سبب جنت میں بلند مقامات طے کرتا چلا جاتا ہے۔

ایک اچھے مسلمان کی زندگی اعتدال اور توازن کا نمونہ ہوتی ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s