امریکی طاقت کا بت ٹوٹنے کے قریب؟

ڈاکٹر آصف شاہد

امریکا کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالتے ہی دنیا بھر میں ایک ہنگامہ سا برپا کر دیا ہے۔ امریکا کا دشمن سمجھا جانے والا روس اب امریکا کا دوست تصور کیا جا رہا ہے جبکہ جرمنی جیسے امریکی اتحادی مخمصے کا شکار ہیں کہ اب امریکا ان کا دوست رہے گا یا نہیں؟

نیٹو اور یورپی یونین جیسے جغرافیائی اتحاد جو عالمی سیاست کے لیے برسوں امریکا کا سہارا رہے، اب ڈونلڈ ٹرمپ کے اہانت آمیز بیانات کے نشانے پر ہیں۔ اس ہنگامہ خیزی میں عالمی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ کے ’نیو ورلڈ ڈس آرڈر‘ سے نبرد آزما ہونے کے لیے نئے اتحادوں اور گروپوں کی تشکیل پر غور کر رہے ہیں۔

امریکا کے خارجہ پالیسی کے اہم ترین دماغ ہینری کسنجر نے اپنی حالیہ کتاب ’ورلڈ آرڈر‘ میں 2014 میں ہی عالمی نظام کو درپیش خطرات اور نئے علاقائی بلاکس کی تشکیل کی نشان دہی کر دی تھی۔ ہینری کسنجر نے لکھا تھا کہ دنیا اس وقت انتشار کے دہانے پر ہے، اس کی واحد وجہ طاقت کے توازن کا مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہونا نہیں بلکہ ایک اور وجہ عالمی جنگ کے بعد بننے والے عالمی نظام کے جواز کو چیلنج کیا جانا ہے۔

مروج عالمی نظام کے مقابلے میں چار آراء سامنے آئی ہیں، یورپین ویسٹفالین (European- Westphalian) اسلامی، چینی اور امریکی۔ یہ چاروں ورژن تشکیل کے مراحل میں ہیں۔ عالمی نظام کے بگاڑ کا بڑا مظہر علاقائی بلاکس کی تشکیل ہے۔ علاقائی کشمکش قوموں کے درمیان مقابلے سے زیادہ تخریبی ثابت ہو سکتی ہے۔ اقتصادی عالمگیریت اور قوم پرستانہ سیاسی رجحانات میں ٹکراؤ کی کیفیت ہے جو 2008 کے معاشی بحران کے بعد کھل کر سامنے آئی۔

واشنگٹن کے آؤٹ سائیڈر ڈونلڈ ٹرمپ کی آزاد تجارت پر مخالفت اور تبدیلی کے نعرے امریکیوں کے لیے کشش کا باعث بنے اور وہ الیکشن جیت گئے۔ یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امریکی خود مغرب کی تقسیم کا باعث بن گئے ہیں۔ خاص طور پر ان کا تارکینِ وطن کے خلاف رویہ ان کے اتحادیوں کو امریکا سے دور کر رہا ہے تو ساتھ ہی بعض ناقدین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ امریکی تو خود تارکینِ وطن کی قوم ہے جس کی بنیادیں مقامی اکثریت اور اس کے سماج کی تباہی پر استوار ہوئیں۔

دوسری طرف آزادانہ تجارتی معاہدوں کی منسوخی سے ایک خلا پیدا ہوا ہے، جسے پر کرنے کے لیے صلاحیت دنیا میں صرف ایک ملک کے پاس ہے، اور وہ ہے چین۔ امریکی دشمن تصور کیے جانے والے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن، امریکی اداروں کی طرف سے الیکشن میں مداخلت کے الزامات کے باوجود ٹرمپ کے کھلے حمایتی بن کر سامنے آئے ہیں۔

عرب دنیا اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس ممکنہ منتقلی سے بھڑکنے والی آگ سے دامن بچانے کی کوششوں میں ہے۔ امریکا کا روایتی حلیف میکسیکو اپنی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے اخراجات ادا نہ کرنے کا واضح اعلان کر چکا ہے۔ تجارتی معاہدے ’نافٹا‘ پر نظرثانی کی پالیسی پر کینیڈا بھی امریکا کے ساتھ تعلقات میں ممکنہ کشیدگی کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو رہا ہے۔

اس تمام صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا دور شروع ہونے پر امریکا کے دوست اور مخالف سبھی الجھن کا شکار ہیں، امریکا کی چند پالیسیاں جن پر کسی بھی دور میں غیر یقینی کی کیفیت نہیں رہی، اور یہی پالیسیاں امریکا کی طاقت تھیں، ٹرمپ کے آنے کے بعد ان پالیسیوں پر غیر یقینی کی کیفیت ابھر کر سامنے آئی ہے۔

امریکا جو لبرل ورلڈ آرڈر کا ضامن تھا، ٹرمپ کی اعلان کردہ پالیسیوں پر عمل سے دنیا میں اسی ورلڈ آرڈر کی دھجیاں بکھیرنے والا ملک بن سکتا ہے۔

امریکا کے تمام سابق صدور دنیا کی بزعم خود واحد سپر پاور کو ایشیا کی سب سے بڑی طاقت چین کے ساتھ براہ راست تصادم سے بچانے کی پالیسی پر عمل پیرا رہے ہیں لیکن اب ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی اس کے برعکس ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن جیتنے کے بعد کا عرصہ تائیوان کی حیثیت اور چین کے جنوبی سمندر کے حوالے سے اسے انتباہ جاری کرنے میں صرف کیا۔ خارجہ پالیسی کے امریکی ماہرین کی اکثریت چین کے ساتھ تجارتی معاملات میں سخت پالیسی کی حامی ہے اور اس حوالے سے اوباما کو کڑی نکتہ چینی کاسامنا بھی رہا لیکن ان ماہرین میں سے گنے چنے لوگ ہی ہوں گے جو چین کو دھمکیوں کے حوالے سے ٹرمپ کی حمایت کر پائیں۔

چین کے صدر شی جن پنگ نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم سے خطاب کیا جس میں انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کی چین پالیسی کو رد کیا اور اس الزام کی سختی سے تردید کی کہ چین جان بوجھ کر اپنی کرنسی کی قدر میں تخفیف کر رہا ہے، چینی صدر نے خبردار کیا کہ تجارتی جنگ کا فائدہ کسی کو نہیں ہوگا اور یہ کہ معاشی عالمگیریت کو عالمی مسائل کا ذمہ دار قرار دینا مناسب نہیں۔

چین کے صدر نے خبردار کیا کہ تمام ممالک کو آزادانہ تجارت کے معاہدوں کا احترام کرنا ہوگا اور درآمدات پر بھاری ٹیکس عائد کر کے ملکی صنعت کو بچانے کی کوشش خود کو ایک تاریک کوٹھری میں بند کرنے کے مترادف ہے۔

سرد جنگ کے خاتمے کے بعد روس امریکا تعلقات کبھی بھی اتنے خراب نہیں رہے جتنے اوباما دور میں تلخ ہوئے۔ ولادیمیر پیوٹن کی طرف سے امریکی طاقت کو چیلنج کیے جانے، یوکرین میں مداخلت اور امریکی صدارتی الیکشن میں مبینہ جاسوسی مشن دونوں ملکوں کے تعلقات میں سردمہری لائے۔

اب ٹرمپ کی طرف سے روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے ٹرمپ کے اعلانات سے پیوٹن نئی آس لگائے ہوئے ہیں، اسی بنا پر پیوٹن نئے امریکی صدر کے بارے میں گرم جوش بیانات دیتے دکھائی دیے۔ ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان گرم جوش پیغامات امریکی خارجہ پالیسی ماہرین کو چونکا رہے ہیں اور یورپ میں ٹرمپ کے عزائم کے حوالے سے خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔

روس کے صدر پیوٹن نے ٹائمز آف لندن اور جرمن میڈیا کو مشترکہ انٹرویو میں یورپی اتحاد (نیٹو) پر سوالات اٹھائے، یورپی یونین سے مزید ملکوں کے اخراج کی پیشگوئی کی، دہشتگردی کے خلاف نئے اتحاد بنانے کی بات کی جس پر یورپی دارالحکومتوں میں نیا خطرہ محسوس کیا گیا۔

روس امریکا تعلقات میں بہتری کا زیادہ فائدہ ماسکو کو ہونے کا امکان ہے کیوں کہ روس پر امریکی پابندیاں ہٹ جائیں گی، کریمیا پر ماسکو کا قبضہ تسلیم کیے جانے کا امکان ہے جبکہ نیٹو کے مستقبل پر بھی سوال کھڑا ہو جائے گا۔

ٹرمپ ایک انٹرویو میں نیٹو کو پہلے ہی ’متروک‘ اتحاد کہہ چکے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ نیٹو دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے کچھ نہیں کر رہا، صرف ایک بار نائن الیون کے بعد نیٹو نے مشترکہ دفاع کے آرٹیکل پانچ کے تحت افغانستان میں اپنے دستے بھجوائے۔ نیٹو کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کو بھی ٹرمپ اہمیت نہیں دیتے کیوں کہ ان کا خیال ہے کہ یورپی یونین امریکا کو تجارت میں پچھاڑنے کے لیے بنی تھی۔

یوں اب توقع کی جانی چاہیے کہ عالمی سطح پر کثیر القطبی نظام کے قیام کو مہمیز ملے گی اور امریکی اجارہ اور طاقت کا بُت پاش پاش نہیں تو ٹوٹے گا ضرور۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s