صبح سے پہلے شادی کرلیں

احمداعوان
ahmedawan1947@gmail.com

یہ ایک سچاواقعہ ہے ۔میں جن صاحب کے بارے میں بات کروںگا،اگران کانام درج کردوںتوفورابہت سے لوگ پہچان جائینگے ۔اس لیے اصل مسئلے پربات کرتے ہیں۔موصوف ایک عہدسازشخصیت ہیں،اعلی سرکاری اعزازات سے سرفرازہوئے ،ان کے شاگردوںکی تعدادبلامبالغہ ہزاروںمیں تھی۔ان کے کئی شاگردآج بہت بڑے بڑے اوراونچے اونچے عہدوںپرفائزہیں،جس ہستی کامیںتذکورہ کررہاہوںوہ ایک سرکاری جامعہ کے پروفیسرصاحب تھے۔انہوںنے ساری زندگی علم بانٹنے میں لگادی ۔اسی وجہ سے ازداواجی زندگی بھی کوئی خاص کامیاب نہ رہی ۔اولاد کے معاملے میںبھی بہت زیادہ خوش نصیب واقع نہ ہوئے ۔ان کے شاگردوںکی ایک بڑی تعدادآج پاکستان کے بڑے بڑے اخبارات میں کام کرتے ہیںیاان کے اعلی عہدوںپرفائزہیں۔پروفیسرصاحب زندگی کی 85 سے زیادہ بہاریںدیکھ چکے ہیں۔کچھ عرصہ قبل میرے مرحوم دوست بلال جامعی کا چھوٹابھائی جمال جامعی ان کے پاس نیازمندی کے لیے پیش ہوا۔جمال کیونکہ ایک ذہین اورہونہارطالب علم ہے ،اس لیے وہ ماضی کے اساتذہ کرام کی خدمت میںبیٹھنااپنے لیے باعث فخرسمجھتاہے۔جمال نے مجھے پروفیسرصاحب کے جوحالات وواقعات سنائے ان سے میری روح کانپ گئی ۔پروفیسرصاحب کی آنکھوںکی بینائی جاچکی ہے۔ان کے گھرکوئی ایسانہیںجوان سے دیرتک بات کرے۔ان کی بات سنے ،ان کوکہیںباہرگھمانے لے جائے ۔ان کوحال احوال سنائے ۔الغرض ان کے پاس کوئی ایسارشتہ نہیں،جس کی مددسے وہ بڑھاپے کے آخری دنوںکی خوبصورتی سے لطف اندوزہوسکیں۔پروفیسرصاحب نے اپنی اولاد کوخوب پڑھایا۔جس طرح کے اس شعبے سے وابستہ لوگ اپنے بچوںکوپڑھایاکرتے ہیں۔اوراس پڑھائی کانتیجہ یہ نکلاکہ ان کی اولاد آج امریکہ میں سیٹ ہوچکی ہے ۔وہ ہرمہینے پروفیسرصاحب کے لیے اچھے خاصے پیسے بھیجتے ہیں،مگروہ پیسے جوںکے توںپڑے رہتے ہیں۔کیونکہ ایک 85سال کے بوڑھے انسان کی خواہشات اورضرورتیں کتنی ہوتی ہیں؟پروفیسرصاحب کوپیسوںکی نہیں،کسی مہربان کی ضرورت ہے ۔مگرمہربان دستیاب نہیں۔پروفیسرصاحب نے جمال سے گزارش کی کہ اگروہ ہرروزپروفیسرصاحب کوصبح آکراخبارسنادے، توپروفیسرصاحب نہ صرف اس کے ممنون ہونگے بلکہ اسے تعلیم کے لیے مددبھی فراہم کرینگے۔جمال نے پروفیسرصاحب سے ایک بہت قیمتی سوال پوچھا۔اسی سوال کی وجہ سے آج میں نے قلم اٹھایاہے۔جمال نے کہا پروفیسرصاحب ،کیایہ بات درست نہیںہے کہ، آپ نے جوسرمایہ دارانہ نظام تعلیم، عمربھراپنے شاگردوںکودی تھی اس کے نتیجے میںآج ،آپ کے شاگردبہترین سرمایہ کمارہے ہیں؟پروفیسرصاحب نے کہا۔جی بلکل یہ بات صحیح ہے کہ میرے سبھی شاگردآج کامیاب ہوچکے ہیں۔توسر،کیاآج آپ کی تنہائی کی ایک بڑی وجہ یہ نہیںہے کہ آپ، جس سرمایہ دارانہ نظام تعلیم کی خدمت کرتے رہے، اس سے نکلنے والے آپ کے شاگردوںکے پاس آج، سرمائے کے مقابلے میں آپ کودینے کے لیے وقت نہیںہے؟اگران کی جگہ آپ نے عمر،کسی مدرسے میںگزاری ہوتی اوروہاںکے بچوںکوتعلیم دی ہوتی توآج ،کوئی شاگردآپ کے پاﺅںدباتا؟کوئی آپ کے جوتے اٹھاتا؟اوروہ اس عمل کواپنی آخرت کے لیے نجات کاذریعہ سمجھتے ہوئے یہ تمام اعمال ثواب سمجھ کراورعبادت سمجھ کرکرتے ؟پروفیسرصاحب چندمنٹوںکے لیے گہری سوچ میںچلے گئے ۔پھرایک ٹھنڈی سانس لے کرآبدیدہ آنکھوںسے کہنے لگے۔بیٹے آپ نے درست کہا،میں نے ساری عمرسرمائے کے حصول کے طریقے سیکھائے ۔آج میرے شاگرد اس سرمائے کے حصول میں دن رات مگن ہیں۔مگرمیرے لیے کسی کے پاس وقت نہیں۔اوراس عمل کاذمہ دارمیں خودہوں۔اپنی تنہائی کاذمہ دارمیںخود ہوں۔پروفیسرصاحب یہ جملے کہہ کرروپڑے۔ اورروتے ہوئے صحن سے اپنے کمرے میں چلے گئے ۔یہ ایک سچاواقعہ ہے۔ مگراس سے بھی زیادہ دل دکھانے والے اورسوچنے پرمجبورکرنے والے واقعات روزہمارے سامنے آتے ہیں۔جن پرہم کبھی غورہی نہیںکرتے۔یہ قصہ ایک پروفیسرصاحب کانہیںہے ،یہ قصہ ہراس انسان کاہے جوصرف سرمائے کے اور دولت کے حصول کے لیے اپناآج قربان کررہاہے ۔اوروہ اس حقیقت سے بے خبرہے کہ آنے والاکل کس قدرتلخ اورسخت حالت زندگی سے اس کاسامنا ہونے والاہے ؟مرناایک حقیقت ہے ۔مگرآج بڑھاپے اورمرنے کوکون گفتگوںکاموضوع بناتاہے؟یہ پاناماکیس سے بڑامسئلہ ہے ۔یہ گھرگھراورہرفردکامسئلہ ہے ۔بڑھاپے کوتوپھرانشورنس والے اپنے فائدے کے لیے اشتہارکے ذریعے یادکروادیتے ہیں۔مگرمرناتوآج ایک برے خواب کی طرح سمجھاجاتاہے۔کوئی مرنے کے لطف پربات نہیںکرناچاہتا۔کوئی مرنے کے لیے بہترین راستے کے انتخاب پربات نہیںکرناچاہتا۔کوئی مرنے کے بعدکی منزلوںکے بارے میںگفتگونہیںکرتا۔کیاآپ نے کبھی بحریہ ٹاﺅن،ڈی ایچ اے سوسائٹی ،فضائیہ ہاﺅسنگ اسکیم یادیگرہاﺅسنگ سوسائٹیوں کے اشتہارات میںسناکہ”وسیع وعریض اورچوبیس گھنٹے روشنیوںسے آراستہ قبرستان آپ کے کل کے لیے آپ کامنتظرہے۔ آج ہی 2,3,4اور6مرلے کے پلاٹ لے کربہترین لوکیشن پرقبرفوری بک کروائیں“ ؟یہ جملہ اشتہارمیںکیوںنہیںآتا؟یاآسکتا؟کیونکہ بحریہ ٹاﺅن،ڈی ایچ اے ہاﺅسنگ سوسائٹی اورفضائیہ ہاﺅسنگ اسکیم، زندگی کے مزے کو،دوبالاکرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں۔اشتہارمیںصرف زمین کے اوپرکی بات کی جاتی ہے ۔زمین کے نیچے کی بات کرنابھی گھاٹے کاسودہ ہے۔لیکن کیاان ہاﺅسنگ سوسائٹیوںمیںجانے والوںنے مرنانہیںہے؟۔ مگرسرمایہ داروںکے لیے مرناغیراہم ہے۔جینااہم ہے۔مرنے کی بات کرنابہت بری بات ہے۔معلوم نہیںو ہ کس تہذیب کے لوگ تھے ؟جوروز،دن میںایک بارموت کویادکرناثواب سمجھتے تھے؟اورمرنے کے لیے ایسے تیاررہتے تھے جیسے محبوب اپنی محبوبہ سے ملنے کے لیے تڑپتاہے ۔بڑھاپے کی تنہائی آج کے ہرتعلیم یافتہ انسان کامسئلہ بن چکاہے ۔خاص طورپروہ حضرات جوکسی شعبے کے ماہرہیں۔حال ہی میںہمیںہمارے استاد صاحب نے ایک 52سال کی خاتون پروفیسرکے لیے رشتہ تلاش کرنے کاحکم دیا۔موصوفہ گریڈ20میں ہیں۔نہ کوئی آگے نہ کوئی پیچھے ۔تنخواہ 1لاکھ ماہانہ ۔اپنے علاوہ کوئی کھانے والانہیںہے۔استانی صاحبہ کے جب ماںباپ زندہ تھے تب ،ان کوکوئی فکرنہ تھی۔ فکرتھی توبس، پی ایچ ڈی(PHD) کرنے کی۔میٹرک کرنے کے ساتھ ہی ان کے رشتے آناشروع ہوگئے تھے،F.S.Cتک، والدین نے ہرآنے والے رشتے کو،کوئی نہ کوئی نقص نکال کرٹھکرادیا۔B.S.Cکرنے کے بعداستانی جی M.S.Cکرنے یونیورسٹی آگئیں۔اوریہاںآکران کی ظاہری آنکھیںکھل گئیںمگرشعور کی آنکھیںہمیشہ ہمیشہ کے لیے بندہوگئیں۔یونیورسٹی آکران کواطلاع ملی کہ پڑھائی میں اصل عزت اوراصل کمال پی ایچ ڈی کرناہوتاہے؟۔M.S.Cمکمل کرتے وقت استانی جی کی عمر22سال ہوچکی تھی۔اس عمرمیںان کے لیے 26سے 28سال اور30یا32سال کی عمرکے لڑکوںکے رشتے آتے رہے ۔مگراستانی جی نے اپنے والدین کوصاف صاف کہہ رکھاتھاکہ ،پی ایچ ڈی تک کوئی گھرمیںشادی کانام بھی نہ لے ۔میںآپ( امی،ابو)اورخاندان کانام روشن کرناچاہتی ہوں۔میںچاہتی ہوں،آپ سب اورمیراپیاراپاکستان مجھ پرفخرکرے۔شادی توہردوسری لڑکی کرہی رہی ہے؟ پی ایچ ڈی کرنے تک محترمہ کی عمر28سال ہوچکی تھی۔اب جورشتے آناشروع ہوئے وہ 35سے 40اوربعض 50سال کے مردحضرات کے تھے ،جوان ہی کی طرح دنیافتح کرنے کے چکر میںشادی میں تاخیرکاشکارہوچکے تھے ۔استانی صاحبہ کے والدین اس عمرمیںان کے لیے کوئی 30,32سال کالڑکاتلاش کرتے رہے۔ اوراسی میںاستانی جی2 5تک پہنچ گئیںاوروالدین جنت میں جاچکے۔ بہن بھائی اپنے اپنے معاملات میں الجھل چکے ہیں۔اب ان کے رشتے توآتے ہیں۔ مگر ان کے جو،پروفیسرصاحبہ سے عمرمیں20سال یا22سال چھوٹے ہوتے ہیں ۔اوران میںسے اکثررشتے ان کے شاگردلڑکے خودہی لے آتے ہیں۔ استانی کوڈرہے کہ یہ لڑکے دراصل میری تنخواہ پرڈاکہ ڈالناچاہتے ہیں۔اسی لیے مجھ سے شادی کرناچاہتے ہیں۔وہ اب کسی سنجیدہ عمرکے بزرگ کی تلاش میں ہیں۔جوبس ان سے بات کرے۔وہ اب کسی کے ساتھ حلال رشتے میںبات کرنے تک کوترس گئی ہیں،امریکہ میں تواس مسئلے کاحل نکال لیاگیاہے۔ وہاںایسی کمپنیاںکھل گئی ہیں۔جہاںآپ کسی بھی وقت فون کرکے اپنے دیئے گئے روپوںکے بدلے اپنی پسندکے کمپنی کے نمائندے سے بات کرسکتے ہیں۔وہ نمائندہ جب تک آپ کے اکاﺅنٹ میںپیسے رہینگے، آپ سے بات کریگا ۔اوپربیان کئے گئے مسائل کاحل دوطرح سے نکل سکتاہے ۔کوئی تیسراراستہ نہیں ہے۔ ان دوراستوںکے سوا۔پہلاراستہ یہ ہے کہ ہرعورت اورمرد،بالغ ہونے کے فورابعدسب سے پہلے شادی کرے۔اوراللہ پاک پربھروسہ کرے ۔رزق تواللہ پاک نے دیناہے ۔اورجولوگ غریب ہیںوہ امیر لڑکی کے چکرمیںنہ پڑیں۔وہ اپنے جیسے کسی غریب گھرکی لڑکی کواپنے لیے پسندکرلیں۔دوسراراستہ یہ ہے کہ ایسے تمام لوگ جوآج تنہائی کاشکار ہیں،وہ اپنے رشتہ داروںسے فورااپنے تعلقات اچھے کریںاپنی کمائی پرسانپ بن کرنہ بیٹھیں۔اپنی تنخواہ نہ چھپائیں۔اپنی زندگی کی عیاشیاںکم کریں۔اورغریب رشتہ داروںکے بچوںپردست شفقت رکھیں۔اس طرح یہ بچے ان کے بڑھاپے کاسہارابن جائینگے ۔اس کے علاوہ تیسراراستہ جوبھی ہو،وہ سیدھانٹی جٹی پل سے آپ کوسمندرکی گہرائی میں لے جائے گا۔اس لےے ابتدائی دوراستوںکے علاوہ کسی راستے کاانتخاب کرنے کامشورہ کم ازکم میں تواپنے قارئین کونہیںدونگا۔کچھ عمل ایسے ہوتے ہیںکہ جن کادرعمل ،عمل سے پہلے ہی نظرآناشروع ہوجاتاہے۔جب لوگ جوان ہوتے ہیںتب وہ کسی کے روادارنہیںرہناچاہتے ۔اپنی آزادی پرکوئی سمجھوتہ نہیں کرتے۔ وہ آزاد رہناچاہتے ہیں۔وہ سمجھتے ہیں۔ہم ہمیشہ ایسے ہی خوبصورت اورجوان رئینگے ۔ہمیشہ لوگ آج کی طرح ہم پرقربان ہونے کے لیے تیاررہنگے ۔وہ اپنی تباہی کواپنی آزادی سمجھ بیٹھے ہیں۔مگریہ آزادی ہی ان کومروادیتی ہے ۔انسان دولوگوںکے وسیلے سے دنیامیںآتاہے۔ اوردولوگوںکے وسیلے سے گردن سنبھالنے کے قابل ہوتاہے۔ جواپنی آزادی، قربان کرکے قربانی دے گا،کل اس کے بچے، اپنی آزادی اس کے لازمی قربان کرینگے ۔اورجوآج آزادی کی قربانی نہیںدے گاوہ کل ترسے گا۔مگرکوئی اس کے پاس بات کرنے ،ہاتھ تھامنے ،سہارادینے ،حتی کہ پانی پلانے کے لیے دستیاب نہ ہوگا۔یہ یونیورسٹی ،اسپتال اوردیگراداروںمیں کام کرنے والے حضرات یقین کرلیںکے،یہ سرمائے کی خدمت کے سواءکچھ نہیںکررہے ۔نسل کی تربیت محض دھوکہ ہے۔ڈاکٹرمفت میں مریض کاعلاج نہیںکرتا؟سرکاری جامعہ میں کوئی مفت میںنہیںپڑھ سکتاَہم نے سڑکوںپراساتذہ اورڈاکٹرزبھی تنخواﺅںکی عدم ادائیگی پراحتجاج کرتے اورلاٹھیاںکھاتے دیکھے ہیں۔اس لیے اس فریب سے نکل آئیںکے ہم عظیم خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔خاندان سے بڑی کوئی نعمت نہیںہے۔اپناخاندان بنائیں۔جوکل آپ کے بڑھاپے کاسہارابنے۔نہ کہ آپ کاکل ایدھی ہوم میںگزرے (اللہ نہ کرے۔)یہ کڑواسچ ہے ،مگریہ فائدہ مند ہے ۔میری ساری گفتگوںکاحاصل یہ ہے کہ۔ صبح سے پہلے شادی کرلیں،بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s