گلاب چہرہ حنا شاہنواز کون تھیں ؟؟

چمکتا چہرہ، چاند آنکھیں اور معصومیت سے سجی شخصیت کی حامل حنا شاہنواز کون تھیں؟؟ جی ہاں حنا شاہنواز بھی ان لاکھوں کڑوڑوں لڑکیوں کی طرح ایک جیتی جاگتی لڑکی تھی، جس کی آںکھوں میں انگنت خواب تھے، جس کے کچھ سپنے تھے، خواہشیں تھیں، جذبات تھے مگر اس سفاک ، تنگ نظر اور جہالت میں ڈوبے معاشرے نے اپنی حواس اور چاہتوں کی خاطر اس کومل جذبوں کی مانند لڑکی سے جینے کا حق چھین لیا۔

حنا شاہنواز کی کہانی بھی ان لڑکیوں سے مختلف نہیں، جنہیں ہمارے معاشرے میں اپنے فرسودہ  فیصلوں اور خواہشوں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، جہاں لڑکی سے اس کے جینے کا حق صرف اس لیے چھین لیا جاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی اپنی مرضی سے گزارنا چاہتی ہے۔

کبھی گڑ، تو کبھی مٹی، کبھی کھیت تو کبھی بوریوں میں بند یہ حوا کی بیٹیاں بے نامی کی موت مر جاتی ہیں، افسوس کہ ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں، جہاں ایسے موضوع پر بات کرنا، آواز اٹھنا بھی گناہ کبیرہ تصور کیا جاتا ہے۔

جی ہاں۔۔!! ستائیس سالہ حنا شاہنواز کو صرف اس وجہ سے قتل کردیا گیا کہ وہ اپنی جائیداد میں بے حس، لالچی اور مطالبی رشتے داروں کو حق نہ دے سکی، وہ حنا شاہنواز جو اپنے گھر کی واحد کفیل تھی، اپنے یتیم بہن بھائیوں کے بچوں کا آخری سہارا تھی، اپنے حق کے دفاع کی سزا پا گئی۔

باپ اور بھائی کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے بعدایم فل پاس حنا شاہنواز کو جائیداد میں حق کیلئے آواز اٹھانے اور اپنی مرضی سے نوکری کرنے کے جرم میں چچا زاد بھائی نے قتل کر دیا۔ حنا شاہنواز کے والد ایک کامیاب بزنس مین تھے، جن کا کوئلہ کا کاروبار تھا، تاہم زندگی ان سے وفا نہ کرسکی اور وہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہو کر خالق حقیقی سے جا ملے، یہ صدمہ کیا کم تھا کہ باپ کے انتقال کے کچھ عرصے بعد حنا شاہنواز کی والدہ بھی علیل ہو کر انتقال کرگئیں۔

یہ نازک نظر آنے والی حنا شاہنواز چٹان جیسے حوصلوں اور قوت کی مالک تھی، جہاں ماں باپ کی جدائی کا غم تازہ تھا وہی قسمت نے اس کے نصیب میں کچھ اور ہی لکھا تھا، ماں باپ کے انتقال کے بعد حنا شاہنواز کا بھائی گاؤں میں جھگڑے کے دوران قتل ہوگیا، جس کے بعد بھابی اور دو بچوں کی ذمہ داری بھی حنا کے حصے میں آئی۔

حنا نے نہ صرف اپنے گھر کا بلکہ بیوہ بھابی، دو بچوں، چھوٹی بہن اور اس کے یتیم بچے کی بھی ذمہ دار تھی، گھر میں کوئی مرد نہ ہونے کے باعث تمام تر ذمہ داری حنا شاہنواز کے ناتواں کندھوں پر عائد تھی، یہ بہن گھر کی واحد پڑھی لکھی تھی، جسے اس گھر کو چلانا تھا۔

16508136_1087522001374588_1436813674942402813_n

رواج، روایت اور قانون نے ان یتیم بہنوں اور بے سہارا لڑکیوں کا کوئی مداوح نہ کیا، جس کے بعد بڑی تقع تدو کے بعد حنا کو ایک این جی او میں ملازمت ملی، جس سے گھر کی کفالت کا بندوبست ہوا، جس پر ہمارے قبائلی رواج ، روایت اور غیرت خطرے میں پڑ گئی اور حنا کے رشتے داروں خصوصاً چچا نے اس پر ملازمت چھوڑنے کیلئے زور ڈالنا شروع کردیا۔

HDL 1000 10-0233

بعد بڑھی تو بونت دھمکیوں تک آپہنچی اور چچا سمیت دیگر رشتے دار سنگین تنائج بھگتنے کے اشارے دینے لگے، ایک طرف گھر کی خستہ حالی تو دوسری جانب قرضوں کی بھرمار، حنا ان کی اندیشوں اور مسائل میں گھری رہی اور ایک دن چچا زاد بھائی کی غیرت نے ایسا جوش مارا کہ حنا کو ابدی نیند سلا ڈالا۔

HDL 1000 10-021

حنا کو گھر جاتے ہوئے بیچ سڑک پر دن دیہاڑے نشانہ بنایا گیا، اسپتال ذرائع کے مطابق حنا کو سینے پر چار گولیاں ماری گئیں، جس سے اس کی موت واقع ہوئی، واقعہ کے بعد ہمشہ کی طرح ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s