بھارت اپنی تذلیل پر تلملا اٹھا،،،

 

hafiz-sayeedاقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیئے جانے والے حافظ سعید کو پاکستانی حکام کی جانب سے رہا کیے جانے پر بھارت نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک دہشت گرد کو ملک کے مرکزی دھارے میں لانے کی کوشش کررہا ہے۔

گذشہ روز لاہور میں جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ سعید کو 3 سو دن تک نظر بندی کے بعد آزاد کردیا گیا تھا۔

پنجاب حکومت نے وزارت داخلہ کی جانب سے حافظ سعید کی نظر بندی کی وجوہات بتانے میں ناکامی کے بعد صوبائی نظر ثانی بورڈ کی جانب سے دیئے گئے احکامات پر عمل کرتے ہوئے انہیں رہا کیا۔

حافظ سعید کی رہائی کے وقت جماعت الدعوۃ کے کارکنان لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں ان کی رہائش گاہ پر انہیں مبارک باد دینے کے لیے جمع ہوئے۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ نظر ثانی بورڈ کے فیصلے کے بعد حکومت کسی صورت انہیں واپس قید نہیں کر سکتی۔

خیال رہے کہ بورڈ نے پنجاب حکومت کو احکامات جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر حافظ سعید پر کوئی اور مقدمات نہیں تو انہیں رہا کیا جائے تاہم ان کی رہائی سے قبل اس بات پر دوبارہ نظر ثانی کی گئی کہ کہیں وہ کسی اور کیس میں نامزد تو نہیں۔

 بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس نے بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ممبئی حملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کو رہا کیے جانے پر نئی دہلی میں شدید غصہ دیکھا جارہا ہے۔

بھارتی اخبار کے مطابق ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘حافظ سعید کی رہائی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے مجرموں کے ساتھ انصاف نہیں کرنا چاہتا’۔

دفتر خارجہ کے ترجمان رویش کمار کا کہنا تھا کہ پاکستان نے خود اعتراف کرنے والے اور اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دیے جانے والے شخص کو رہا کر کے بھارت کی تذلیل کی ہے’۔

یاد رہے کہ بھارت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید 2008 کے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ ہیں، جس میں 166 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

بھارت کا کہنا تھا کہ 10 مسلح افراد، جن میں اجمل قصاب شامل تھا، کراچی سے سمندر کے راستے بھارت آئے تھے۔

واضح رہے کہ دہشت گردی کی کارروائی کو دیکھتے ہوئے امریکا نے حافظ سعید پر 1 کروڑ ڈالر کی انعامی رقم کا اعلان کر رکھا ہے۔

حافظ سعید کو رواں سال جنوری کے مہینے میں نظر بند کیا گیا تھا۔

اس سے قبل بھی انہیں ممبئی حملوں کے بعد نظر بندی کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم چھ ماہ بعد جون 2009 میں انہیں رہائی مل گئی تھی۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s