بھارتی فلم ساز کا ’ریپ‘ کو قانونی قرار دینے کا مطالبہ

بھارتی فلم ساز کا ’ریپ‘ کو قانونی قرار دینے کا مطالبہبھارت میں ان دنوں جہاں پے در پے نوجوان اور کم سن لڑکیوں کے ’گینگ ریپ‘ اور بیہمانہ قتل کے واقعات پیش آ رہے ہیں اور پورے ملک میں مظاہرے جاری ہیں۔

ایسے میں ایک نوجوان اور نئے فلم ساز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’ریپ‘ کو قانونی قرار دے۔

ساتھ ہی فلم ساز نے لڑکیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ’کنڈوم‘ کی بہت بڑی تعداد رکھیں اور ’ریپ‘ کرنے والے افراد کے ساتھ تعاون کریں۔

بھارتی اخبار ’انڈیا ٹوڈے‘ کے مطابق نئے فلم ساز ڈینیئل شرون نے اپنی فیس بک پوسٹس میں حکومت سے متنازع مطالبے کرنے سمیت خواتین اور خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کو بھی انتہائی نامناسب مشورے دیے۔

رپورٹ کے مطابق ڈینیئل شرون نے بھارت میں بڑھتے ریپ واقعات کے بعد اپنی فیس بک پوسٹ میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’ریپ‘ کے بعد لڑکیوں کے بیہمانہ قتل کے واقعات کو روکنے کے لیے ’ریپ‘ کو قانونی قرار دیا جائے۔

ڈینیئل شرون نے دلیل دی کہ ’ریپ‘ کو قانونی قرار دیے جانے کے بعد لڑکیوں کو قتل نہیں کیا جائے گا۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ قتل ایک بڑا جرم اور گنا ہے جب کہ ’ریپ‘ ایک چھوٹا اور قابل اصلاح جرم ہے۔

فلم ساز نے اپنی پوسٹ میں کم سن اور خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کو تجویز دی کہ وہ اپنے ساتھ ’کنڈوم‘ رکھیں اور ’ریپ‘ کیے جانے کے وقت مرد حضرات سے تعاون کریں، تاکہ انہیں قتل نہ کیا جائے۔

ڈینیئل شرون نے ’ریپ‘ کرنے والے افراد کی حمایت میں یہ بھی لکھا کہ وہ صرف جنسی بھوک کا شکار ہوتے ہیں اور وہ جنسی فعل کے خواہاں ہوتے ہیں، جس وجہ سے وہ لڑکیوں کا ’ریپ‘ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں اور بعد ازاں جرم سے بچنے کے لیے لڑکیوں کا قتل کر دیتے ہیں۔

ان کے مطابق اگر ’ریپ‘ کو قانونی قرار دیا جائے گا تو مرد کسی بھی بڑے جرم کے بغیر صرف ’ریپ‘ کریں گے اور لڑکیاں بھی بیہمانہ قتل ہونے سے بچ جائیں گی۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق فلم ساز کی جانب سے متنازع پوسٹ کیے جانے کے بعد ان پر تنقید کی گئی اور ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

بھارت بھر میں لوگوں نے فلم ساز کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی اور ٹوئٹر پر انہیں گرفتار کرنے کا ٹرینڈ بھی ٹاپ لسٹ میں آگیا۔

لوگوں کی شدید تنقید کے بعد ڈینیئل شرون نے اپنی فیس بک پوسٹس ڈیلیٹ کردیں، تاہم انہوں نے اپنے مشوروں اور مطالبوں پر تاحال وضاحت نہیں کی اور نہ ہی انہوں نے معافی مانگی ہے۔

انہوں نے متنازع مطالبے ایک ایسے وقت میں کیے تھے جب کہ کچھ دن قبل ہی ریاست تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد کے قریب ایک 24 سالہ لیڈی ڈاکٹر کو ’گینگ ریپ‘ کے بعد جلاکر قتل کردیا گیا تھا۔

مذکورہ واقعے کے علاوہ بھی گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بھارت کی مختلف ریاستوں میں لڑکیوں کے ’ریپ‘ اور ’گینگ ریپ‘ کی خبریں سامنے آئیں اور ملک بھر میں ’ریپ‘ کے بڑھتے واقعات کے خلاف مظاہرے جاری تھے۔

واضح رہے کہ بھارتی حکومت کی حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا میں ہر 15 منٹ کے اندر ایک خاتون کا ’ریپ‘ ہوتا ہے جب کہ ہر ایک دن بعد کسی خاتون کا ’گینگ ریپ‘ کیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں اعتراف کیا گیا تھا کہ بھارت بھر میں 6 منٹ کے اندر کوئی نہ کوئی خاتون بدسلوکی، ہراسانی اور تشدد کا شکار بنتی ہے جب کہ ہر پانچ منٹ کسی نہ کسی خاتون کو اپنا شوہر، سسر یا دیگر اہل خانہ نشانہ بناتےہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سال 2017 میں مجموعی طور پر بھارت بھر میں خواتین کے خلاف جرائم و تشدد کے 3 لاکھ 60 ہزار سے زائد کیسز رجسٹرڈ ہوئے جن میں سے زیادہ تر ’ریپ‘ کے کیسز تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف 2017 میں بھارت بھر میں 3 لاکھ 30 ہزار سے زائد خواتین کا ’ریپ‘ اور ’گینگ ریپ‘ ہوا۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s